بلاول 3 اور میں 4پی والی جماعت کا سربراہ ہوں،بلاول بھٹو زرداری ابھی مکمل ٹرینڈ نہیں ہوا، ٹکٹ دینے کا اختیار میرے پاس ہے: آصف زرداری
اسلام آباد : “بلاول 3 اور میں 4پی والی جماعت کا سربراہ ہوں “آصف زرداری نے عمر رسیدہ قیادت کو گھر بٹھانے کے بیانیے کو شٹ اپ کال دیدی۔اس کیساتھ ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے بلاول بھٹو کو زیر تربیت بھی کہہ دیا۔ آصف زرداری نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری ابھی مکمل ٹرینڈ نہیں ہوا، پڑھا لکھا ہے، اچھا بولتا ہے ، لیکن تجربہ تجربہ ہوتا ہے۔سابق صدر آصف علی زرداری نے عمر رسیدہ قیادت کو گھر بٹھانے کے بیانیے کو شٹ اپ کال دے دی اور واضح کیا کہ بلاول3 پی والی پیپلز پارٹی کے چیئرمین ہیں ، لیکن وہ 4 پی والی جماعت کے سربراہ ہیں، ٹکٹ دینے کا اختیار اُن کے پاس ہے ، بلاول کو بھی وہ ہی ٹکٹ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کی اپنی سوچ ہے ، وہ کہتی ہے کہ ’’بابا آپ کو کچھ نہیں پتا‘‘ اسے سوچ کے اظہار کا مکمل حق ہے ، سوچ کے اظہار پر تو ٹیکس نہیں ہے ، وہ بلاول کو بیان دینے سے روکیں گے نہیں ، کیوں کہ اگر وہ ناراض ہوگیا اور کہا کہ گھر بیٹھ جاتا ہوں تو وہ کیا کریں گے۔ آصف زرداری نے کہا کہ بلاول اور ان کا بیانیہ گُڈ کوپ بیڈ کوپ کا نہیں ، یہ ہر گھر کی کہانی ہے ، لیکن یہ الگ بات ہے کہ میاں صاحب کے سامنے کوئی بات نہیں کرتا ، اُن سے سب ڈرتے ہیں۔ پارٹی منشور ہے، گلے سے پکڑتے ہیں، پارٹی کے امیدواروں کو ٹکٹ میں دیتا ہوں، ہم نے تلوار کو گندے انڈوں سے بچایا، گندے انڈوں نے تلوار لینے کی کوشش کی، میں نے کبھی انتقامی سیاست نہیں کی، میرے دور میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں تھا، میرے خلاف نئے الزامات لگتے تھے، میں نے کبھی جواب نہیں دیا، یہ پولیس اسٹیشن نہیں کہ ‘ گڈ کاپ بیڈ کاپ ‘ کھیلا جائے۔ سابق صدر نے کہا کہ اتحادی حکومت کا تجربہ کافی مشکل تھا، شہباز شریف کو کافی چیزیں کہیں جو نہیں مانیں، ملک کو نقصان ہوا، 2 ارب کی شوگر پڑی تھی، اجازت نہیں دی، افغانستان اسمگل ہوگئی، ہمیشہ خوردنی تیل درآمد ہوتا ہے، اس پر پابندی لگا دی، تجارت کی وزارت ہمارے پاس تھی لیکن پالیسی تو کابینہ کو بنانی تھی۔ شہباز شریف سے میں متاثر تھا، وہ صبح 6 بجے اٹھتے ہیں، 8 بجے تک کام کرتے ہیں۔ سابق صدر نے کہا کہ ضروری نہیں کہ( ن) لیگ لیڈ کرے، دوسری جماعتیں اور شخصیات بھی ہیں، بہتر ہے اس نہج پر چلیں کہ آگے بھی چل سکیں، انہیں چاہیے ہمیں موقع دیں،اب ہم اپنے لیے گیم لگائیں گے۔ سیاست میری مجبوری ہے، ضرورت نہیں، سیاست ضرورت اس لیے ہے کہ بی بی، کارکنوں نے شہادت دی، ہم پر قرض ہے، پیپلز پارٹی وہ کہتی ہے جو حقیقت ہے، ذوالفقار بھٹو کا جوڈیشل مرڈر ثابت ہو چکا ہے۔ آصف زرداری کا مزید کہنا تھا 18ویں ترمیم ٹارگٹ بنتی ہے، پیپلز پارٹی دفاع کرے گی، 18ویں ترمیم کے بعد ہم نے تھر کے کوئلے کو ترقی دی، جب سے یہ ترمیم آئی ہے 7 پل بنا چکے، سڑکیں بنا چکے ہیں، ٹیکس سندھ دیتا ہے، ایک روڈ کیلئے بھی وفاق جانا پڑتا تھا، اسلام آباد کی بیوروکریسی پاکستان میں نہیں کسی اور ملک میں رہتی ہے، صبح دفتر جاتے اور شام کو گالف کھیلتے ہیں، انہیں صوبوں کے بنیادی حقوق کا علم نہیں۔









































Visit Today : 59
Visit Yesterday : 536
This Month : 595
This Year : 64314
Total Visit : 169302
Hits Today : 268
Total Hits : 875980
Who's Online : 5




















