ملتان (بیوروچیف) پیپلزپارٹی ہی پاکستان کو معاشی وسیاسی دلدل سے نکال سکتی ہے۔  پیپلزپارٹی نے ہمیشہ ملک کو بحرانوں سے نکال کر خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے اور اب بھی صرف پیپلزپارٹی ہی پاکستان کو سنگین معاشی و سیاسی دلدل سے نکال سکتی ہے۔ اس کا اظہار پیپلزپارٹی پنجاب کونسل کے رکن و امیدوار این اے 150 و پی پی 217 ملک ارشد اقبال بھٹہ نے اپنے ایک بیان میں کیا انہوں نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کے متعلق گمراہ کن پروپیگنڈہ ہر دور میں کیا جاتا ہے مگر پیپلزپارٹی نے ملک و قوم کیلئے جو لازوال کارنامے سرانجام دیئے ہیں وہ تاریخ میں ہمیشہ سے زندہ ہیں اور رہیں گے۔ ملک ارشد اقبال بھٹہ نے کہا کہ میں آج اپنے نوجوانوں کو تاریخی حقائق بتانا چاہتا ہوں کہ پیپلزپارٹی نے 1973 کا ایسا متفقہ دستور بنایا جس نے وفاقِ پاکستان کو آج تک جوڑ رکھا ہے. شہید ذوالفقار علی بھٹو نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کا ثبوت دیتے ہوئے قادیانی فتنہ کو ” ختمِ نبوت ” قانون کے تحت قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر ہمیشہ کے لیے جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ پیپلزپارٹی نے ایٹم بم کی بنیاد رکھ کر پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بناتے ہوئے جغرافیائی سرحدوں کو تحفظ فراہم کر دیا جس کے باعث آج ہم آرام کی نیند سوتے ہیں۔ شہید بھٹو نے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے ذریعے نہ صرف ہمیں شناخت دی بلکہ بیرون ممالک سے روزگار کما کر اپنے خاندانوں کی باعزت کفالت اور ملکی ترقی و خوشحالی میں اپنا حصہ ڈالنے کا موقع بھی فراہم کر دیا. سٹیل ملز کراچی کی بنیاد رکھ کر پاکستانی معیشت کو مضبوط بنایا۔ 90 ہزار سے زائد جنگی قیدی باعزت اور 6 ہزار مربع میل مقبوضہ زمین بغیر کچھ دیے ہندوستان سے واپس لے کر انوکھا کارنامہ سرانجام دیا۔ ٹیکسلا آرمز فیکٹری کے ذریعے پاکستان میں اسلحہ سازی کی بنیاد رکھ کر پاک فوج و ملکی دفاع کو مضبوط کیا۔ گوادر پورٹ قائم کر کے دنیا کے ساتھ تجارت کے راستے کھولے۔ پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کے زریعے عوام کو تفریح و معلومات فراہم کیں۔ اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور میں منعقد کی جس میں عالمِ اسلام کے تمام بڑے سربراہانِ مملکت اور جید علماء نے شرکت کی جس سے متفقہ فیصلوں کے راستے کھلے۔ مسلہ کشمیر کو سلامتی کونسل میں بھرپور انداز میں اٹھا کر کشمیری بھائیوں کو حقِ لود ارادیت کی بنیاد فراہم کی۔ اسلامی نظریاتی جونسل قائم کر کے پاکستان کو اسلام و شریعتِ محمدی کی تحت چلانے کی راہ فراہم کی اور پاکستان کو مسلمان ممالک کے قریبی تجارتی رابطے کے لیے جمعہ کی ہفتہ وار چُھٹی لازمی قرار دی۔ پاکستان کا پہلی بار سرکاری و قومی ” اسلامی جمہوریہ پاکستان ” آئیبی طور پر نام رکھا گیا۔ اسلامی ممالک کو اسلامی بنک ‘ اسلامی اتحاد ‘ اسلامی فوج ‘ اور نیٹو طرز کی اسلامی سلامتی کونسل بنانے کی تجویز دی گئی۔ امریکہ روس اور چین کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات کار قائم کر کے پاکستان کو ہر لحاذ سے تحفظ فراہم کیا گیا پاک چین اٹوٹ دوستی کی بنیاد رکھی گئی۔ روس کے ساتھ تجارتی معاہدے کیے گئے جو صرف امریکہ کے ساتھ ہوا کرتے تھے۔ کسانوں کو زرعی اور مزدوروں کو مزدور پالیسی دے کر ملکی ترقی و خوشحالی میں شریکِ کار کیا گیا۔ مزدوروں کے لیے 15 گھنٹوں کی بجائے محض 8 گھنٹے کام کے اوقات کار قائم کرنے کے علاوہ صنعتی منافع میں حصہ دار اور طبی سہولتوں کے لیے سوشل سیکورٹی ہسپتالوں کے زریعے انہیں تحفظ فراہم کیا گیا۔ زرعی اصلاحات کے ذریعے بے زمین کسانوں کو زمینیں دے کر انہیں باعزت روزگار اور احساس ملکیت دیا۔ ملک بھر کے شہروں پانچ مرلہ سکیم کے تحت عوام کو مفت رہائشی پلاٹ دیئے۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے شمالی کوریا سے میزائل ٹیکنالوجی حاصل کی جس کی بدولت ہزاروں میل دور ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی۔ لاکھوں غریب خواتین کیلئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام دیا۔ عوای مفاد و خوشحالی ‘ ملکی ترقی و سلامتی کے علاوہ بیشمار ایسے اقدامات کیے گئے جن سے بین الاقوامی برادری میں پاکستان کا وقاربلند ہوا۔