“خاموش چالان، بڑھتا بوجھ — ملتان کے شہری سیف سٹی کے جال میں!”

تحریر: کلب عابد خان
03009635323

ملتان، جو صوفیوں کا شہر کہلاتا ہے، آج ایک نئے اور خاموش مسئلے کا شکار ہو چکا ہے۔ یہ مسئلہ نہ تو کھلے عام دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی اس پر عوامی سطح پر زیادہ بات ہوتی ہے، مگر اس کے اثرات ہر اس شہری تک پہنچ رہے ہیں جو سڑک پر نکلتا ہے۔ گزشتہ چار ماہ کے دوران سیف سٹی منصوبے کے تحت تقریباً 50 ہزار شہریوں کے چالان کیے جا چکے ہیں، جن کی مجموعی مالیت دس کروڑ روپے سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف حیران کن ہیں بلکہ کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا شہریوں کو واقعی اس بات کا علم ہے کہ ان پر جرمانے عائد ہو رہے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ایک بڑی تعداد کو اس کا علم ہی نہیں ہوتا۔ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف رہتے ہیں، گاڑی چلاتے ہیں، کام پر جاتے ہیں، اور مہینوں بعد اچانک انہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہزاروں روپے کے جرمانوں کے مقروض ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
سیف سٹی منصوبے کا بنیادی مقصد شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور ٹریفک قوانین کی پاسداری کروانا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ٹریفک نظم و ضبط میں بہتری آ سکتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس نظام کو صرف جرمانے وصول کرنے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے؟ اگر ایک شہری کو اس کے خلاف کیے گئے چالان کا بروقت علم ہی نہ ہو تو وہ اپنی غلطی کو کیسے درست کرے گا؟
یہاں ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے۔ ٹریفک وارڈنز کی جانب سے کیے جانے والے چالان اس کے علاوہ ہیں۔ یعنی ایک طرف سیف سٹی کے کیمرے خودکار طریقے سے جرمانے کر رہے ہیں اور دوسری طرف سڑکوں پر موجود اہلکار بھی چالان کر رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ شہری دوہری سزا کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایک ہی شہر میں دو مختلف نظام بیک وقت کام کر رہے ہیں، مگر ان کے درمیان کوئی ہم آہنگی دکھائی نہیں دیتی۔
عام شہری کے لیے سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ وہ اس نظام کو سمجھ نہیں پا رہا۔ نہ کوئی واضح آگاہی مہم ہے، نہ کوئی مؤثر اطلاع کا طریقہ۔ اگر کسی شخص کا موبائل نمبر رجسٹرڈ نہیں ہے یا اس کا ریکارڈ درست نہیں تو اسے چالان کی اطلاع ہی نہیں ملتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب وہ کسی کام کے لیے گاڑی کے کاغذات چیک کرواتا ہے تو اس پر جرمانوں کا انبار سامنے آ جاتا ہے۔
یہ صورتحال کسی حد تک ناانصافی کے زمرے میں آتی ہے۔ قانون کا مقصد اصلاح ہونا چاہیے، نہ کہ صرف سزا دینا۔ اگر شہری کو بروقت آگاہی دی جائے، اسے اپنی غلطی سدھارنے کا موقع دیا جائے، تو یقیناً وہ آئندہ احتیاط کرے گا۔ مگر جب جرمانے خاموشی سے جمع ہوتے رہیں اور شہری کو خبر تک نہ ہو تو یہ نظام اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کریں۔ سب سے پہلے تو ایک مؤثر آگاہی مہم شروع کی جائے تاکہ شہریوں کو معلوم ہو کہ سیف سٹی نظام کیسے کام کرتا ہے۔ دوسرا، ہر چالان کی فوری اطلاع شہری تک پہنچانے کا مؤثر نظام بنایا جائے، چاہے وہ ایس ایم ایس کے ذریعے ہو یا کسی موبائل ایپ کے ذریعے۔ تیسرا، ایک آسان اور شفاف طریقہ کار ہونا چاہیے جس کے ذریعے شہری اپنے چالان چیک کر سکیں اور اگر کوئی غلطی ہو تو اس کے خلاف اپیل کر سکیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ جرمانوں کی شرح اور ان کے نفاذ کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے۔ کیا واقعی ہر چالان درست ہے؟ کیا کہیں کیمروں کی غلطی یا تکنیکی خرابی کی وجہ سے شہری متاثر تو نہیں ہو رہے؟ ان تمام سوالات کے جوابات تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ملتان کے شہری پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں اگر ان پر خاموشی سے لاکھوں روپے کے جرمانے ڈال دیے جائیں تو یہ ان کے لیے مزید بوجھ بن جاتا ہے۔ ایک ذمہ دار حکومت کا فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو سہولت دے، نہ کہ انہیں غیر ضروری پریشانی میں مبتلا کرے۔
سیف سٹی منصوبہ ایک اچھی سوچ کا نتیجہ تھا، مگر اس کا نفاذ ایسے انداز میں ہونا چاہیے کہ عوام کو فائدہ پہنچے، نہ کہ وہ خود کو ایک ایسے جال میں پھنسا ہوا محسوس کریں جہاں سے نکلنا مشکل ہو جائے۔ اگر بروقت اصلاح نہ کی گئی تو یہ نظام عوامی غصے کا سبب بن سکتا ہے، جو کسی بھی صورت میں مناسب نہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ قانون کی بالادستی ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ انصاف اور شفافیت بھی اتنی ہی اہم ہیں۔ شہریوں کو اعتماد میں لے کر، انہیں آگاہی دے کر، اور ایک منصفانہ نظام کے ذریعے ہی ہم ایک بہتر معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔ ورنہ یہ خاموش چالان ایک دن ایک بڑے مسئلے کی شکل اختیار کر سکتے ہیں، جس کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑے گا۔