ملتان :  انجمن تاجران شہر کا احتجاجی اجلاس زیر صدارت محمد اختر بٹ منعقد ہوا، جس میں حاجی عارف فصیح اللہ، چوہدری الیاس ،چوہدری سلیم کمبوہ،چوہدری پرویز گجر، قیصر مقبول، ملک طارق ہانس، محمد اشرف پہلوان، عبدالرحمان شیخ، محمد عثمان، ملک ذیشان، ملک نواز، عنایت اللہ خان، جہانزیب مغل، محمد جاوید، امجد بھولا، حق نواز، ارشد الرحمن، عثمان جٹ، حاجی وکیل، شیخ شفیق، چوہدری شفیق، اکمل وینس، عابد ہانس، صبغت اللہ انصاری، رانا اویس اور طیب خان سمیت مختلف تاجرتنظمیوں کے عہدے داروںو تاجر برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حاجی عارف فصیح اللہ اور چوہدری الیاس کمبوہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جاری غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے تاجروں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے،انہوں نے کہا کہ پہلے ہی رات آٹھ بجے دکانیں بند کروانے کے احکامات پر ضلعی انتظامیہ کے افسران تاجروں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں جیسے وہ جرائم پیشہ عناصر ہوں، جبکہ معمولی تاخیر پر بھی بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں،انہوں نے الزام عائد کیا کہ متعلقہ افسران آٹھ بجنے سے پہلے ہی مارکیٹوں میں ناکے لگا لیتے ہیں اور جونہی وقت پورا ہوتا ہے، دکانیں بند کرتے تاجروں پر جرمانے اور کارروائیاں شروع کر دی جاتی ہیں، حتیٰ کہ بعض مواقع پر دکانیں سیل کر کے مقدمات بھی درج کیے جا رہے ہیں، جس کی تاجر برادری شدید مذمت کرتی ہے،تاجر رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ دکانیں بند کرنے کے وقت میں کم از کم دس سے پندرہ منٹ کی مہلت دی جائے تاکہ تاجر سکون سے اپنی دکانیں بند کر سکیں اور بلاجواز جرمانوں سے بچ سکیں، انہوں نے کہا کہ موجودہ اقدامات تاجر برادری میں حکومت کے خلاف بے چینی کو فروغ دے رہے ہیں،اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا گیا کہ ایسے افسران کو فوری طور پر تبدیل کیا جائے جو اپنے اختیارات کے غلط استعمال سے تاجروں اور حکومت کے درمیان فاصلے پیدا کر رہے ہیں، مزید یہ کہ دکانوں کی بندش کے اوقات اور لوڈ شیڈنگ کے شیڈول کو تاجروں کی مشاورت سے طے کیا جائے تاکہ کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔اجلاس کے اختتام پر متنبہ کیا گیا کہ اگر مطالبات پر فوری عملدرآمد نہ کیا گیا تو تاجر برادری احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوگی۔