ملتان:  ٹکٹ ہولڈرتحریک انصاف این اے 148بیرسٹر ملک تیمور الطاف مہے نے کہا کہ پورے دنیا میں نوجوان نسل کے بہتر مستقبل کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اقدامات کیے جاتے ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ ہمارے ملک میں نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات نہیں کیے جارہے ہیں بلکہ اب تو نوجوانوں کے حق رائے پر بھی پابندی لگانے کے بارے میں سوچ بچار کی جارہی ہے ووٹ کے لیے عمر کی حد 18 سال کے بجائے25 سال کرنے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے جوکہ نوجوانوں کے حق رائے پر فارم 47کی طرح ایک ڈاکہ ہے۔ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں پر30 سال سے کم عمر کے نوجوان اکثریت کی نمائندگی کرتے ہیں اس طرح کا کوئی بھی رجعت پسندانہ اقدام 25سال سے کم عمر کی40فیصد آبادی پر برے طریقے سے اثرانداز ہوگا جس کی وجہ سے نوجوانوں میں نفرت اور مخالفت بڑھے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ جب شناختی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کی عمر 18سال ہے تو ووٹ ڈالنے کی عمر 25سال کرنے کی پالیسی بنانے کے بارے میں سوچا کیوں جا رہا ہے۔ جب ایک نوجوان 18سال کی عمر میں شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس بنواسکتا ہے،شادی کرسکتا ہے،حکومت کو ٹیکس ادا کرسکتا ہے تو ووٹ کیوں نہیں ڈال سکتا۔مجھے امید ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اس پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گی کیونکہ اس پالیسی کا نقصان برائے راست سیاسی جماعتوں کوہوگا۔