ملتان (صفدربخاری سے) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق رکن صوبائی اسمبلی سید احمد مجتبیٰ گیلانی اور معروف سیاسی و سماجی رہنما میاں محمد عظیم سعید نے نشتر ہسپتال کو پرائیویٹائز کرنے کی مجوزہ پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نشتر ہسپتال جنوبی پنجاب کے غریب اور نادار عوام کے لیے بنایا گیا تھا، تاکہ انہیں مفت اور معیاری علاج کی سہولت میسر آ سکے۔انہوں نے کہا کہ نشتر ہسپتال کے قیام کے لیے خاندانِ گیلانیاں نے اپنی قیمتی زمین عوامی فلاح و بہبود کے جذبے کے تحت دی تھی، جس کا مقصد صرف اور صرف غریب عوام کی صحت و شفاء تھا۔ آج اسی ادارے کو پرائیویٹائز کرنے کی باتیں کرنا جنوبی پنجاب کے عوام کے ساتھ صریح ظلم کے مترادف ہے۔سید احمد مجتبیٰ گیلانی نے کہا کہ نشتر ہسپتال پورے جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا سرکاری طبی ادارہ ہے جہاں روزانہ ہزاروں مریض دور دراز علاقوں سے علاج کی غرض سے آتے ہیں۔ اگر اس ادارے کو نجی تحویل میں دیا گیا تو غریب مریضوں کے لیے علاج کے دروازے بند ہو جائیں گے اور وہ مہنگے نجی ہسپتالوں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔میاں محمد عظیم سعید نے کہا کہ صحت بنیادی انسانی حق ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرے، نہ کہ سرکاری ہسپتالوں کو نجی شعبے کے حوالے کر کے عوام پر اضافی بوجھ ڈالے۔ انہوں نے کہا کہ نشتر ہسپتال کی پرائیویٹائزیشن سے نہ صرف علاج مہنگا ہوگا بلکہ عام آدمی کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں جب مہنگائی عروج پر ہے، جنوبی پنجاب کے عوام پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں، ایسے میں نشتر ہسپتال کی نجکاری عوام دشمن فیصلہ ثابت ہو گا۔پیپلز پارٹی رہنماؤں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی وفاقی سطح پر اتحادی جماعتیں ہیں، اس لیے مسلم لیگ (ن) کی پنجاب حکومت کو چاہیے کہ وہ نشتر ہسپتال کی نجکاری کے فیصلے پر فوری طور پر نظر ثانی کرے اور اتحادی جماعتوں کے تحفظات کو سنجیدگی سے لے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ نشتر ہسپتال کو مکمل طور پر سرکاری تحویل میں رکھا جائے، اس کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے، سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے اور اسے جنوبی پنجاب کے غریب عوام کے لیے حقیقی معنوں میں شفا کا مرکز بنایا جائے۔آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر نشتر ہسپتال کو پرائیویٹائز کرنے کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو عوامی سطح پر بھرپور احتجاج کا حق محفوظ رکھا جائے گا اور اس حوالے سے سیاسی و سماجی سطح پر آواز بلند کی جائے گی۔