ایوانِ تجارت و صنعت ملتان کی جانب سے بزنس آئیڈیاز اور مصنوعات کے قانونی تحفظ کی اہمیت پر سیشن
ملتان : ایوانِ تجارت و صنعت ملتان کے زیرِ اہتمام کاروباری ترقی کے لیے دانشورانہ املاک کے حقوق کے مؤثر استعمال کے موضوع پر ایک آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا، جو آن لائن زوم نیٹ ورک کے ذریعے منعقد ہوا۔ سیشن میں ایوانِ تجارت و صنعت وہاڑی، پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے)، اسلام آباد اور لاہور سے آئی پی او پاکستان کے حکام، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔آگاہی سیشن کا افتتاح کرتے ہوئے صدر ایوانِ تجارت و صنعت ملتان نے کہا کہ کاروباری مصنوعات، بزنس آئیڈیاز اور خدمات کو دانشورانہ املاک کے ادارے (آئی پی او) سے رجسٹرڈ کروانا نہایت ضروری ہے تاکہ کوئی دوسرا فرد یا ادارہ ان کا غیر قانونی استعمال نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی او کا سہولت ڈیسک ملتان ایوان میں موجود ہے، جس سے اب اسلام آباد جانے کی ضرورت نہیں رہی۔صدر ایوان نے کہا کہ آپ کے بزنس آئیڈیاز، نئی مصنوعات اور خدمات آپ کا قیمتی اثاثہ ہیں، جن کے تحفظ کے لیے ان کی رجسٹریشن ناگزیر ہے۔ رجسٹریشن کے بعد یہ کاروباری اثاثے قانونی طور پر آپ کی ملکیت بن جاتے ہیں اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔آئی پی او پاکستان کے ڈائریکٹر انفورسمنٹ اسلام آباد، اسمعیل نے زوم کے ذریعے اپنے خطاب میں کہا کہ زندگی کے ہر شعبے میں، جہاز سے لے کر سوئی تک، مصنوعات اور تخلیقات کے تحفظ کے لیے آئی پی او خدمات فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی ڈیزائن، کتب، میوزک البمز، ڈرامہ سیریلز، فلمیں اور دیگر تخلیقات پر کاپی رائٹ کے ذریعے ملکیتی حقوق حاصل کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے خاص طور پر علاقائی مصنوعات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں جغرافیائی شناخت (جیوگرافیکل انڈیکیشن) کے طور پر رجسٹر کیا جا سکتا ہے۔ جنوبی پنجاب میں سلائی کڑھائی، ثقافتی ڈیزائن، زرعی اور لائیو اسٹاک مصنوعات کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے تاکہ کوئی بھی شخص یا ادارہ انہیں نقل نہ کر سکے۔انہوں نے بتایا کہ رجسٹریشن کے لیے ملتان ایوانِ تجارت میں سہولت ڈیسک اور ہیلپ لائن موجود ہے۔ ملتان کی بلیو پاٹری، سوہن حلوہ، کمیل اسکن مصنوعات اور چونسہ آم پہلے ہی رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ کاپی رائٹس کی خلاف ورزی پر جرمانوں اور دیگر سزاؤں کا بھی ذکر کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ آئی پی او میں آگاہی کے باعث اب تک 70 ہزار سے زائد رجسٹریشن درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ آئی پی او بین الاقوامی سطح پر بھی ٹریڈ مارک تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ خواتین کے لیے خصوصی ہیلپ لائن اور آن لائن شکایات کا نظام بھی موجود ہے۔اس موقع پر ملتان ایوان آئی پی او ڈیسک کے انچارج منہال علی نے کہا کہ پاکستان کا ٹریڈ مارک قانون، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) اور آئی پی او پاکستان مصنوعات کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے رجسٹریشن، شکایات کے اندراج، ملکیت کی تبدیلی اور رجسٹریشن کے مکمل طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی۔آگاہی سیشن میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان ملتان کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر کرن امجد اور بینک الفلاح کے نمائندے رانا مسعود نے ”میرا گھر میرا آشیانہ اسکیم“ کے حوالے سے شرکاء کو تفصیلی آگاہی فراہم کی۔اختتامی کلمات میں نائب صدر ایوانِ تجارت و صنعت ملتان محمد اظہر بلوچ نے کہا کہ ٹریڈ مارک، پیٹنٹ اور کاپی رائٹ کی رجسٹریشن سے کاروبار کو قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ دانشورانہ املاک کاروبار کی قدر میں اضافہ کرتی ہیں اور اختراع کو فروغ دیتی ہیں، جس سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بھی آئی پی کے مؤثر استعمال سے بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان ملتان کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ”میرا گھر میرا آشیانہ اسکیم“ کے حوالے سے مفید معلومات فراہم کیں۔ آگاہی سیشن میں سیکرٹری جنرل محمد شفیق اور ایوان کے دیگر اراکین نے بھی شرکت کی۔







































Visit Today : 24
Visit Yesterday : 553
This Month : 13734
This Year : 61570
Total Visit : 166558
Hits Today : 153
Total Hits : 848319
Who's Online : 6




















