جب ادارے عدالتوں کے تابع نہ رہیں تو شہری لاقانونیت کا شکار ہو جاتے ہیں

تحریر: کلب عابد خان
03009635323
دنیا کے ہر مہذب اور جمہوری ملک میں عدالتی نظام کو ریاست کا ستون تصور کیا جاتا ہے۔ عدالتیں صرف تنازعات نمٹانے کا فورم نہیں ہوتیں بلکہ یہ ریاستی طاقت کو قانون کے دائرے میں رکھنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہوتی ہیں۔ عدلیہ کا بنیادی فریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرے، اداروں کو جوابدہ بنائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کوئی بھی فرد یا ادارہ قانون سے بالاتر نہ ہو۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان، خصوصاً پنجاب میں، یہ تصور دن بدن کمزور ہوتا جا رہا ہے۔
یہ کہنا اب مبالغہ نہیں رہا کہ ہمارے ہاں مسئلہ قوانین کی عدم موجودگی کا نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد نہ ہونے کا ہے۔ عدالتیں فیصلے صادر کرتی ہیں، واضح احکامات دیتی ہیں، مگر ریاستی ادارے ان احکامات کو ماننے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ بعض اوقات فیصلوں پر عملدرآمد میں دانستہ تاخیر کی جاتی ہے اور بعض اوقات تو کھلے عام عدالتی احکامات کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً عدلیہ کی عملداری کمزور اور ادارے مضبوط تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔
چونکہ میرا تعلق پنجاب سے ہے، اس لیے میں پورے وثوق سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ پنجاب کے کئی اداروں کو میں نے عدالتوں کے احکامات ماننے سے گریز کرتے دیکھا ہے۔ یہاں عدالتی فیصلے فائلوں میں دب جاتے ہیں، افسران بدل جاتے ہیں، کمیٹیاں بنا دی جاتی ہیں، مگر انصاف سائل تک نہیں پہنچتا۔ ایک عام شہری جب عدالت سے ریلیف لے کر متعلقہ ادارے کے پاس جاتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عدالتی فیصلہ محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے، جس کی عملی دنیا میں کوئی وقعت نہیں۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ انصاف کو دن بدن مہنگا کیا جا رہا ہے۔ پنجاب میں عدالتوں کی کورٹ فیسوں اور نقول فیسوں میں اضافہ کر کے عام آدمی کے لیے انصاف کے دروازے مزید تنگ کر دیے گئے ہیں۔ ایک غریب یا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا شہری پہلے ہی وکیل کی فیس، تاریخ پر تاریخ اور سفری اخراجات سے پریشان ہوتا ہے، اوپر سے عدالت میں قدم رکھنے کے لیے بھاری فیسیں اس کی ہمت توڑ دیتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا انصاف صرف صاحبِ حیثیت طبقے کے لیے رہ گیا ہے؟
عدالتیں تو انصاف کی علامت ہوتی ہیں، مگر جب انصاف خریدنے کی شے بن جائے تو پھر ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ ٹوٹنے لگتا ہے۔ ایک ایسا شہری جو اپنی محدود آمدن میں سے بچوں کی تعلیم، علاج اور گھر کے اخراجات پورے کر رہا ہو، وہ کیسے مہنگی کورٹ فیسیں اور نقول فیسیں برداشت کرے؟ نتیجتاً وہ یا تو حق مانگنے سے دستبردار ہو جاتا ہے یا غیرقانونی راستوں پر مجبور ہو جاتا ہے، جو کہ پورے معاشرے کے لیے زہرِ قاتل ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں اداروں کو یہ غیر اعلانیہ اختیار حاصل ہے کہ وہ عدالتوں کے احکامات کو اپنی سہولت کے مطابق مانیں یا نہ مانیں۔ اگر کسی فیصلے سے ادارے کا مفاد متاثر ہو تو اس پر عملدرآمد روک دیا جاتا ہے، مگر اگر کسی عام شہری کے خلاف کارروائی درکار ہو تو قانون پوری شدت سے حرکت میں آ جاتا ہے۔ یہی دوہرا معیار لاقانونیت کو جنم دیتا ہے۔
ریاست کا فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو انصاف فراہم کرے، نہ کہ انہیں انصاف سے مایوس کرے۔ اگر عدالتوں کے فیصلے نافذ نہیں ہوں گے، اگر ادارے خود کو جوابدہ نہیں سمجھیں گے، اور اگر انصاف صرف پیسے والوں تک محدود ہو جائے گا، تو پھر شہریوں کو قانون پر یقین دلانا ناممکن ہو جائے گا۔
پنجاب جیسے بڑے صوبے میں، جہاں کروڑوں افراد بستے ہیں، عدالتی نظام کی کمزوری پورے ملک پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہاں اگر ادارے عدالتوں کے تابع نہیں رہیں گے تو یہ روش دیگر صوبوں کے لیے بھی مثال بنے گی، جو کہ ریاستِ پاکستان کے لیے نہایت خطرناک صورتحال ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتِ پنجاب اور وفاقی حکومت اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ اداروں کی مضبوطی عدالتوں کو کمزور کر کے نہیں بلکہ عدالتوں کے تابع ہو کر ہی ممکن ہے۔ عدالتی احکامات پر فوری اور مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے، کورٹ فیسوں اور نقول فیسوں میں کمی کر کے انصاف کو عام شہری کی دسترس میں لایا جائے، اور اداروں کو یہ پیغام دیا جائے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔
ریاست کی اصل طاقت اس کے ادارے نہیں بلکہ اس کا انصاف ہوتا ہے۔ اگر انصاف مہنگا، کمزور اور غیر مؤثر ہو جائے تو ریاست صرف طاقت کا ایک ڈھانچہ بن کر رہ جاتی ہے، جہاں شہری محفوظ نہیں بلکہ خوفزدہ ہوتا ہے۔ اور خوفزدہ شہری کبھی بھی ایک مضبوط ریاست کی بنیاد نہیں بن سکتا۔