سال کا اختتام، سیاست کی ناکامیوں کا خلاصہ

تحریر: کلب عابد خان
03009635323
آج سال کا اختتام ہے اور یہ دن کسی بھی زندہ قوم کے لیے محض تاریخ کی تبدیلی نہیں بلکہ اجتماعی احتساب کا موقع ہونا چاہیے، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں سال ختم ہوتے ہیں، سیاست نہیں بدلتی، چہرے بدل جاتے ہیں، بیانات بدل جاتے ہیں مگر عوامی مسائل جوں کے توں رہتے ہیں، گزرا ہوا سال بھی سیاسی اعتبار سے وعدوں، دعوؤں، الزامات اور ناکامیوں کا ایک طویل سلسلہ ثابت ہوا جس کا بوجھ براہ راست عام آدمی نے اٹھایا، سیاستدانوں نے اس سال بھی عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں زیادہ توانائی صرف کی، ایوانوں میں قانون سازی کم اور شور شرابہ زیادہ رہا، اسمبلیاں عوامی مسائل کے حل کے بجائے سیاسی جنگ کا میدان بنی رہیں، سال بھر ہم نے دیکھا کہ کیسے مہنگائی نے غریب کی کمر توڑ دی، بجلی، گیس، پٹرول، آٹا، چینی سب کچھ عوام کی پہنچ سے دور ہوتا چلا گیا مگر حکمرانوں کی تقریروں میں معیشت مضبوط اور حالات قابو میں رہے، اس تضاد نے عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کی دیوار کو مزید کمزور کیا، احتساب کا نعرہ بھی اس سال خوب استعمال ہوا مگر یہ احتساب ہمیشہ یک طرفہ رہا، مخالفین کرپٹ اور اپنے لوگ صادق و امین قرار پاتے رہے، ادارے سیاسی دباؤ کی زد میں رہے اور انصاف کی فراہمی سوالیہ نشان بنی رہی، نیب ہو یا دیگر تفتیشی ادارے، ان کی ساکھ کو سیاست نے شدید نقصان پہنچایا، جس کا خمیازہ پوری ریاست کو بھگتنا پڑا، پارلیمان جو جمہوریت کا مرکز ہوتی ہے وہ اس سال بھی عوام کی آواز بننے میں ناکام رہی، بلدیاتی نظام کو مسلسل نظر انداز کیا گیا کیونکہ اختیار نچلی سطح تک منتقل کرنا کسی کی ترجیح نہیں رہا، سیاست چند خاندانوں اور گروہوں کے گرد گھومتی رہی جبکہ عام آدمی صرف ووٹ ڈالنے تک محدود کر دیا گیا، اس سال نوجوانوں کی مایوسی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا، روزگار کے مواقع کم، تعلیم مہنگی اور مستقبل غیر یقینی ہونے کے باعث نوجوان ملک چھوڑنے کو ہی واحد حل سمجھنے لگے، یہ کسی بھی ریاست کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، مگر سیاستدانوں کے ایجنڈے میں یہ مسئلہ کہیں نظر نہیں آیا، احتجاجی سیاست بھی اس سال کا ایک نمایاں پہلو رہی، لانگ مارچ، دھرنے، جلسے جلوس سب کچھ ہوا مگر نتیجہ صفر نکلا، عوام نے سڑکوں پر وقت ضائع کیا، کاروبار متاثر ہوا، معیشت کو نقصان پہنچا اور آخرکار سب فریق اپنی اپنی ضد پر قائم رہے، خارجہ محاذ پر بھی داخلی کمزوریوں نے پاکستان کی پوزیشن کو متاثر کیا، دنیا صرف اسی ملک کو سنجیدگی سے لیتی ہے جو اندر سے مستحکم ہو، مگر ہماری سیاست نے ہمیں مسلسل کمزور رکھا، سال کے اختتام پر سب سے افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ سیاست نے قوم کو تقسیم کر دیا ہے، اختلافِ رائے کو دشمنی بنا دیا گیا، سوشل میڈیا پر کردار کشی معمول بن چکی ہے، زبان، مسلک اور جماعت کے نام پر نفرت کو ہوا دی گئی، یہ سب کچھ سیاست کے نام پر ہوا مگر سیاست کا اصل مقصد تو جوڑنا ہوتا ہے، توڑنا نہیں، آج سال کے آخری دن یہ سوال پوری شدت سے سامنے آتا ہے کہ کیا سیاست نے عوام کو کچھ دیا؟ جواب اگر دیانتداری سے دیا جائے تو وہ مایوس کن ہے، مگر سال کا اختتام مکمل مایوسی کا نام بھی نہیں ہونا چاہیے، یہی وقت ہے کہ سیاستدان خود احتسابی کریں، اپنی ترجیحات درست کریں، اقتدار کو مقصد نہیں بلکہ امانت سمجھیں، قانون کو واقعی سب کے لیے برابر بنائیں، اداروں کو آزاد اور مضبوط کریں اور عوام کو فیصلہ سازی میں حقیقی طور پر شامل کریں، اگر آنے والا سال بھی اسی پرانی روش پر چلتا رہا تو تاریخ صرف ہندسوں میں بدلے گی، حالات میں نہیں، آج سال کا اختتام ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ وقت بہت کم ہے اور عوام کا صبر بھی محدود، اگر سیاست نے اب بھی سبق نہ سیکھا تو آنے والے سالوں کا خلاصہ بھی یہی ہوگا—ناکامی، انتشار اور مایوسی، فیصلہ اب بھی سیاست کے ہاتھ میں ہے کہ وہ تاریخ کا رخ موڑتی ہے یا خود تاریخ کا بوجھ بن جاتی ہے