ملتان(صفدربخاری سے) انسانی حقوق کاعالمی دن یہ دن تو انسانی حقوق کا ہے مگر ہم اسے صنفی تشدد کی سولہ روزی مہم سے بھی منسوب کرتے ہیں جہاں خواتین کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو حکومت پنجاب اس پر فوکس ہے کہ ضروریات کے مطابق اسے تبدیل کرتے ہوئے خواتین کو خودمختاری کی طرف لایا ہے.ویمن سیفٹی ایپ،ہیلپ لائن اور عوامی مقامات پر خواتین کی فوری مدد کیلئے ایمرجنسی بٹن نصب کیلئے گئے ہیں۔جن سے خواتین پر تشدد و ہراسمنٹ کے خاتمہ میں مدد مل رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار رکن صوبائی اسمبلی وپارلیمانی سیکرٹری برائے ہائر ایجوکیشن پنجاب اجمل خان چانڈیہ نےشیلٹر اینڈ پیس ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام اورانسداد تشدد مرکز برائے خواتین ملتان کے تعاون سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ تشدد کی صورتحال دن بدن بدلتی جارہی ہے۔انسانی جبلت کو کنٹرول کرتے کیلئے حکومت کے ساتھ معاشرے اور خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والوں کے اتحاد سے ممکن ہوگا۔خصوصآ نفسیاتی تشدد جیسے تاحال تشدد ہی قرار نہیں دیا جاتا ہے اس کو ختم کرنے کیلئے اقدامات کرنے ہیںگھر میں والدین کو شعور دیں کہ بیٹی اور بیٹے میں فرق ختم کیا جائے۔اس کیلئے شادی سے قبل کم از کم 10 دن کی تربیت لازمی رکھی جائے۔جہاں برابری کی بات ہوتی ہے وہاں تربیت کو بھی ترجیح دینی ہوگی تاکہ مستقبل کے والدین کے رویے مثبت تبدیل ہوں اور وہ بیٹی بیٹے کی بجائے انسان کی تربیت کرسکیں۔معاشی حالات اور آپ کا انداز گفتگو بھی تشدد اور زہنی پریشانیوں کو جنم دیتا ہےپنجاب ویمن ایمپاورمنٹ پیکج میں حکومت نے خواتین کی معاشی ترقی ،تشدد کے خاتمہ،معاشرتی کردار اور حقوق مہیا کرتا ہے۔انسداد تشدد مرکز برائے خواتین اس خطہ کی خواتین کے تحفظ کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ویمن پروٹیکشن ایکٹ 2017 پوری طاقت کے ساتھ فعال ہے۔برابری کی سطح کے مواقع پیدا کیے جارہے ہیں ۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کی اقدار جس طرح کی ہیں وہاں گھریلو تشدد کو تشدد سمجھا ہی نہیں جاتا ہے۔آن لائن ہراسمنٹ عام ہے اس کی روک تھام بارے آگاہی نہیں ہے۔قانون موجود ہے اور نظام بھی ہے۔صنفی برابری کی صوبہ پنجاب عملی مثال ہے۔کیونکہ صوبے کی ایڈمنسٹریٹر ایک خاتون ہیں۔انسداد تشدد مرکز جیسے ادارے صوبہ بھر خصوصاً مظفرگڑھ بھی ہونے چاہیئے کیونکہ صنفی تشدد مظفرگڑھ میں بہت زیادہ ہے۔خواتین کو حقوق کی آگاہی میں سب سے اہم حق خودارادیت ہے تاکہ وہ سوچ پائیں کہ وہ اپنا نمائندہ کس کو چن رہی ہیں۔برداشت اور رواداری سے برابری کے حقوق اور تشدد کا خاتمہ ممکن ہے۔سابق رکن صوبائی اسمبلی سبین گل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں خواتین پر تشدد کے خاتمہ کیلئے سولہ روزہ سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا جو انسانی حقوق کے عالمی دن سے منسوب ہوکر کامیابی سےختم ہو رہی ہیں۔امن اور برداشت سے معاشروں میں تشدد کو ختم کیا جاسکتا ہے۔شائستہ بخآری نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں خواتین پر تشدد کی شرح بہت زیادہ ہے جس میں ہم سبب معاشی حالات بھی ہیں۔عورت بھی انسان ہے اور اس کے حقوق بھی انسانی حقوق میں شامل ہیں۔تقریب سے سمیرا ستار،کومل اعجاز,انیلہ اشرف،صلوت شفیع،حرا احمد اور دیگر نے بھی خطاب کیا ،تقریب کے اختتام پرواک بھی کی گئی۔