پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شعیب شیخ کی جانب سے سینیٹر رانا محمود الحسن کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب : مقامی رہنماوں کی شرکت
ملتان (صفدربخاری سے) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شعیب شیخ کی جانب سے سینیٹر رانا محمود الحسن کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب سے جنوبی پنجاب کے سنیئر نائب صدرخواجہ رضوان عالم، سینیٹر رانا محمود الحسن ،ضلعی جنرل سیکرٹر ی راؤ ساجد علی ،شیخ نصراللہ نے کہا ہے پاکستان پیپلزپارٹی نے ملک میں ہمیشہ جمہوری و سیاسی استحکام اور عوام کی فلاح وبہبود کیلئے سیاست کی ہے یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے اپنے سابقہ دور حکومت میں پارلیمان، وفاق، جمہوریت اور نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی کیلئے اٹھارویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ سے منظور کروائی تھی یہ پیپلزپارٹی کی تاریخی فتح تھی ٹھیک ویسے ہی انشاء ﷲ تاریخ یہ ثابت کردے گی کہ 26 ویں آئینی ترمیم بھی ایک تاریخی قدم ہے صدر پاکستان آصف علی زرداری اور چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے 26 ویں آئینی ترمیم کیلئے جو کاوشیں کی ہیں اس سے پارلیمان، وفاق اور جمہوریت کا بول بالا ہوا ہے آئینی عدالت پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور میں شامل ہے اور جو میثاق جمہوریت 2006 میں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان دستخط ہوئے تھےاس کا وہ حصہ ہےان خیالات کا اظہار انہوں نے استقبالیہ تقریب سے خطاب کے دوران کیا،اس موقع پر یوسی32 سےشیخ شعیب، شیخ طلحہ، شریف قریشی، نواب دین، اللہ بخش خان، اسلام الدین، محمد عمر، محمد طارق، خالد قریشی، شوکت، فہیم، رانا ندیم، صہیب مغل، زوہیب خان، ابو بکر خان، حماد قریشی، فرقان اور معزز یوسی کے لوگوں نے شرکت کی، سنیئر نائب صدرخواجہ رضوان عالم، سینیٹر رانا محمود الحسن ،راؤ ساجد علی،شعیب شیخ نے مزید کہا کہاس وقت وفاق میں عزت کی جاتی ہے نہ ہی سیاست کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ( ن ) پیپلز پارٹی کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے،26ویں آئینی ترمیم کے متعلق مخالفین کی تنقید کو محض مفروضوں پر مبنی الزامات قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترمیم کے مثبت نتائج قوم کے سامنے آنا شروع ہو جائیں گے،6 ویں آئینی ترمیم کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا اور اس تاثر کو مسترد کیا کہ یہ ترمیم عدلیہ کی خودمختاری کو متاثر کرے گی۔ اب بھی فیصلے جج صاحبان ہی کریں گے، اور اُن کے معاملات میں پارلیمان کا کوئی لینا دینا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کے تقرر کے حوالے سے بھی کوئی نیا طریقہ کار وضح نہیں کیا گیا، بلکہ سپریم کورٹ کی جانب سے پہلے ہی سے مروج اصول کو اختیار کیا گیا ہے،، آج اگر اتنے سال کے بعد تمام جماعتیں اتفاق کررہی ہیں تو یہ پاکستان پیپلزپارٹی اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی کامیابی ہے جب سے تحریک انصاف بنی یا یہ کہیں کہ وہ مشہور ہوئی ان کا طرز عمل اس ملک میں کشیدگی و انارکی پیدا کرنا اور اس ملک کو سول وار کی طرف دھکیلنا رہا ہے، وہ سول نافرمانی کی بات کرتے ہیں، وزیر اعلٰی خیبر پختون خوا کے حالیہ بیانات اس کی عکاسی کرتے ہیں، چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے مقابلے کا لیڈر کسی جماعت میں نہیں ہے، قومی اسمبلی ، سینیٹ ، صوبائی اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر آپ کو ہر قومیت کا آدمی ملے گا، کسی اور سیاسی جماعت میں اتنی طاقت اور وسعت نہیں کہ وہ لوگوں کو جگہ دے سکے ، پی ٹی آئی کو مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ متنازع ہے ، پارلیمنٹ کے اختیار کو چھینا نہیں جاسکتا، قانون سازی بالاتر ہوتی ہے۔








































Visit Today : 404
Visit Yesterday : 440
This Month : 13561
This Year : 61397
Total Visit : 166385
Hits Today : 3201
Total Hits : 846711
Who's Online : 7




















