ملتان(صفدربخاری سے) پاکستان پیپلزپارٹی کا 57 واں یوم تاسیس ملک بھر کی طرح ملتان میں بھی بھرپور جوش و جذبہ کے ساتھ منایا گیا اس سلسلہ میں ڈمرا فارم ہاوس قاسم بیلہ میں ایک پریوار عوامی تقریب منعقد کہ گئی اس عوامی تقریب سے چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا اور گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی تقریب سےویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا اپوزیشن اس وقت نہ جمہوری ہے نہ سیاسی ہے، سیاسی جماعتیں سیاست کے دائرے میں سیاست نہیں کر رہیں 2013 تک پیپلز پارٹی دور میں انقلابی اصلاحات لائی گئیں، کچھ قوتوں کو پسند نہیں آئیں، پیپلز پارٹی پر حملے کیے گئے، پی ٹی آئی کو جگہ دینے کے لیے یہ کیا گیا۔ہم نے اپنے اعتراضات ایک طرف رکھے، جمہوریت کےلیے آگے بڑھے، تاریخ میں پہلی بار صدر آصف علی زرداری دوسری بار صدر کا عہدہ سنبھال رہے ہیں آئین سازی کے وقت حکومت اپنی باتوں سے پیچھے ہٹ گئی، انہوں نے کہا ن لیگ کو اکثریت نہیں دی گئی، دیگر جماعتوں کو اکثریت دی گئی، کہا گیا پیپلز پارٹی جہاں فیصلہ کرے حکومت بنے، اپوزشن حکومت کےلیے سیریس نہیں تھی، قائد کو جیل سے نکالنا چاہتے تھے، ن لیگ کے ساتھ حکومت کا حصہ نہیں بنے، کھلا میدان دیا تاکہ پرفارم کرسکیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہر موقع پر ہم نے عوام کے فائدے، قومی مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا، مہنگائی میں کمی، غربت میں کمی، امن و امان دیکھنا چاہتے ہیں، پیپلز پارٹی ملک کا روشن مستقبل چاہتی ہے، سیاسی جماعتیں، ادارے ملک کے مسائل حل کر سکتے ہیں، افسوس کے ساتھ سیاسی استحکام نہیں، عوام کو نقصان ہورہا ہے،دہشتگردی، مسائل کا مقابلہ کرنا ہے تو سیاسی استحکام قائم کرنے کی کوشش کریں۔انہوں نے کہا کہ تین نسلوں کی جدوجہد کے بعد آج بھی پیپلز پارٹی ملک کے کونے کونے میں موجود ہے، پیپلز پارٹی کی جدوجہد، عوام، جمہوریت، معاشی ترقی کے لیے ہے، شہید ذولفقار علی بھٹو کے منشور کو پاکستان کے مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔ ترمیم پر اتفاقِ رائے ہوچکا تھا، اتفاقِ رائے کے بعد جو شکایات سامنے آئیں ان کی مذمت کرتے ہیں، بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی، شہید بی بی نے تمام سازشوں کا مقابلہ کیا، اگر بی بی کو شہید نہ کیا جاتا تو تیسری بار وزیر اعظم بنتیں، شہید بےنظیر بھٹو کے دور میں عوام کو فائدہ ہوتا تھا، وہ جب بولتی تھیں تو پوری دنیا سنتی تھی، انہوں نے بہادری سے آمریت کا مقابلہ کیا، 18 اکتوبر کی مثال ہم سب کے سامنے ہے، بی بی شہید پر حملہ کیا گیا، قاتلوں کی سوچ تھی بے نظیر کو شہید کرکے پیپلز پارٹی کو ختم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی نے وہ حاصل کیا جو تاریخ میں حاصل نہیں کیا گیا، وہ جب پہلی بار منتخب ہوئے تو 18ویں ترمیم پاس کروائی، سی پیک انقلابی منصوبہ دیا، بلوچستان کے حقوق کی بات کی، انہوں نے اپنے دور میں عوام دوست پالیسیاں دیں۔ قائد عوام کی سوچ اور نظریہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل ہے، ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم کا عدالتی قتل کیا گیا، جب بینظیر بھٹو پر حملہ ہوا تو وہ بھی عوام کو چھوڑ کر بھاگ سکتی تھیں۔ اس موقع پر مہمان خصوصی گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے کہا کہ پیپلزپارٹی ایک عوامی جماعت ہے پیپلزپارٹی کے علاوہ تمام جماعتیں حادثاتی بنی ہیں جن اک کوئی منشور نہیں پیپلزپارٹی کے پاس حقیقی قیادت ہے قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے شہید جمہوریت محترمہ بینظیر بھٹو جو کہ ایک عورت تھیں انہوں نے پارٹی کو چلایا اور بڑی بہادری سے ملک واپس آئیں وہ ملکی ترقی اور عوام کی فلاح وبہبود کیلئے وطن واپس آئی تھیں اور عوام کی خاطر انہوں نے جام شہادت نوش کیا گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے کہا میرا دعوی ہے جو لیڈر شپ پیپلزپارٹی کے پاس ہے کسی اور پارٹی کے ہاس نہیں ہے آج یہ سسٹم چل رہا ہے تو یہ سب پیپلزپارٹی اور پیپلزپارٹی کی قیادت کی بدولت ہے آصف علی زرداری وہ عظیم انسان ہیں جن کی وجہ سے حکومتی چوں چوں کا مربہ چل رہا ہے حالانکہ آصف علی زرداری کے ساتھ ظلم۔کیا گیا اس عظیم انسان نے کبھی کوئی بات دل میں نہیں رکھی عوام اور ملک کی خاطر پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا اور آج بھی پیپلزپارٹی پاکستان کھپے کے نعرہ کو لیکر چل رہی ہے چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری شہیدوں کی نسل سے ہیں قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا بیٹا ہے پاکستان میں سیاست میں کوئی نسل ہے تو وہ صرف قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی نسل ہےجو اپنا سب کچھ قربان کر دیتے ہیں لیکن ملک و عوام پر آنچ نہیں آنے دیتے اس ملک کو ترقی کی راہ پر صرف چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری لا سکتے ہیں اس لئے پاکستان بچانا ہے بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعظم بنانا ہے اور میں دعوی سے کہتا ہوں کہ بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم بنیں گے اور ہم ان کو وزیراعظم بنا کر دم لیں گے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے مزید کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلزپارٹی کی بنیاد لاہور میں رکھی پیپلزپارٹی کا اصل گھر اور گڑھ پنجاب میں ہے پیپلزپارٹی کو پنجاب میں دیوار سے لگایا گیا اور آج بھی یہ کوشش جاری ہے لیکن پیپلزپارٹی کے ورکرز اپنی محنت و جذبہ سے اپنا مقام چھین کر لیں گے پیپلزپارٹی نے پنجاب میں اپنی سپیس کسی سے بھیک سے نہیں لینی بلکہ ورکروں کی محنت سے لینی ہے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے مزید کہا کہ گورنر ہاوس کے دروازے تمام ورکروں کیلئے کھلے ہیں وہاں آپ کا بھائی آپ کا بیٹا بیٹھا ہے کسی کی جرات نہیں کہ پیپلزپارٹی کے ورکرز کی طرف میلی آنکھ دیکھے انہوں نے مزید کہا کہ سید یوسف رضا گیلانی کے مجھ پر بہت احسانات ہیں میں یہ برملا کہوں گا کہ اٹک میں پہچان بنانے میں بھی سید یوسف رضا گیلانی کا ہاتھ ہے انہوں نے اٹک میں بہت سے ترقیاتی کام کروائے اس موقع پر پیپلزپارٹی کے یوم تاسیس کا کیک بھی کاٹا گیا یوم تاسیس کا کیک ملتان شہر کے بانی کارکن اکرم انصاری کے ساتھ مل کر گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے کاٹا اس تقریب سے کوآرڈینیٹر جلسہ سید علی قاسم گیلانی، کنوینر جلسہ خواجہ رضوان عالم، میزبان جلسہ ملک منظور ڈمرا، سینیٹر رانا محمود الحسن، ایم این اے نوید عامر جیوا، ایم پی اے سید علی حیدر گیلانی، سید احمد مجتبی گیلانی، ایم پی اے رانا قبال سراج، ایم پی اے واصف مظہر راں، ڈویڑنل صدر خالد حنیف لودھی، ڈویژنل جنرل سیکرٹری ڈاکٹر جاوید صدیقی، سٹی صدر ملک نسیم لابر، ضلعی جنرل سیکرٹری راو ساجد علی، سٹی جنرل سیکرٹری اے ڈی خان بلوچ، ٹکٹ ہولڈر رانا سجاد حسین، ٹکٹ ہولڈر ملک رضوان ہانس، ٹکٹ ہولڈر ملک رضوان عابد تھہیم، ٹکٹ ہولڈر سید غلام مصطفے گیلانی، پی وائی جنوبی پنجاب کے صدر سید عارف شاہ، پی ایل ایف جنوبی پنجاب کے صدر شیخ غیاث الحق ایڈووکیٹ، خواجہ عمران  و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کی ملتان آمد پر جلسے کے دوران چیئرمین سرائیکستان نوجوان تحریک مہر مظہر عباس کات نے اسٹیج پر ان کو اور ایم این اے سید علی قاسم گیلانی اور ایم پی اے سید علی حیدر گیلانی کو سرائیکی اجرک پہنائی ۔ اس موقع پر آتش بازی کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔