ملتان (صفدربخاری سے) ملتان کے نشتر ہسپتال میں ڈائیلسز یونٹ کے 25 مریضوں کے ایچ آئی وی میں مبتلا ہونے کے انکشاف پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس)، نیفرالوجی ڈیپارٹمنٹ کے پانچ ڈاکٹروں اور ایک ہیڈ نرس کو معطل کر دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد نشتر ہسپتال کے ڈاکٹروں، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے بھرپور احتجاج کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ معطل کیے گئے عملے کو بغیر کسی مناسب تحقیقات کے ہدف بنایا گیا ہے اور انہیں بےجا طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹروں اور عملے نے الزام لگایا کہ انہیں پولیس کی جانب سے بھی ہراساں کیا جا رہا ہے، جس سے طبی عملے کے وقار اور اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ احتجاجی عملے نے مطالبہ کیا ہے کہ 48 گھنٹوں کے اندر معطل کیے گئے ڈاکٹروں اور نرسز کو بحال کیا جائے، ایک نئی انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے اور اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ عملے کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ پنجاب بھر کے ہسپتالوں میں احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔

تفصیل کے مطابق نشتر ہسپتال کے ڈائیلسز یونٹ میں ایچ آئی وی پازیٹیو مریض سامنے آنے کے معاملے پر وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی ڈاکٹروں کے خلاف جانبدارانہ کاروائی کے خلاف یونائیٹڈ ڈاکٹرز فرنٹ ،ساؤتھ ڈاکٹرز الائنس، ساؤتھ پنجاب میڈیکل فورم اور ینگ ڈاکٹرز نے ینگ نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے ہمراہ نشتر ہسپتال کے مرکزی روزاے پر بھرپور احتجاج کیا اس موقع پر احتجاج میں ڈاکٹر مسعود الروف ہراج ، ڈاکٹر شاہد راؤ،ڈاکٹر شہزاد ملانہ ،ڈاکٹر اشفاق صدیقی ،ڈاکٹر مظہر چوہدری ، ڈاکٹر وقار نیازی ، ڈاکٹر سلمان لاشاری ،ڈاکٹر ذوالقرنین حیدر اور دیگر کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے ذمہ داران کی بجائے نشتر ہسپتال کا آدھے سے زیادہ نیفرالوجی وارڈ کا عملہ معطل کر دیا،

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مریضوں کی صحت کے ساتھ کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، لیکن عملے کے ساتھ انصاف بھی یقینی بنایا جائے گا۔ پنجاب کے مختلف ہسپتالوں کی طبی تنظیموں نے بھی اس واقعے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ حقیقی ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ اس واقعے نے نہ صرف طبی شعبے میں اضطراب پیدا کیا ہے بلکہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ میں بھی شدید بےچینی پھیلا دی ہے۔

واضح ہو کہ نشتر ہسپتال جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا علاج گاہ ہے، جہاں روزانہ ہزاروں مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں یہاں سہولیات کی کمی، وسائل کی قلت اور انتظامی مسائل کے باعث مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایچ آئی وی کے کیسز کے انکشاف کے بعد ہسپتال کی کارکردگی اور معیار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جن کے جوابات حکومت اور انتظامیہ کو دینا ہوں گے۔