چوبیس نومبر کے بعد

تحریر: طارق قریشی

پاکستان تحریکِ انصاف نے 24 نومبر کو ایک مرتبہ پھر اسلام آباد تک لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس بار وہ اسلام آباد میں 26ویں آئینی ترمیم کے خاتمہ، جمہوریت و آئین کی بحالی، مینڈیٹ کی واپسی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے چار مطالبات کے ساتھ آنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور پارٹی رہنماؤں کے بیانات کو دیکھ کر صاف اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی اسلام آباد میں دھرنا دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کیے جانے والے پیغام میں کہا گیا ہے کہ میری تمام پاکستانیوں سے اپیل ہے کہ 24 نومبر کو اسلام آباد پہنچیں اور مطالبات کی منظوری تک گھروں کو واپس نہ جائیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کا اعلان کوئی نئی پیش رفت نہیں ہے بلکہ یہ جماعت ماضی میں بھی متعدد مرتبہ ملک بھر میں ایسے احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دے چکی ہے۔ ان دھرنوں میں 2014 کا وہ بے نتیجہ دھرنا بھی شامل ہے جو تقریباً 126 دن جاری رہا تھا۔ لیکن اس وقت حالات مختلف تھے، عمران خان آزاد تھے اور ان کے مخالفین کا دعویٰ ہے کہ انہیں اس وقت کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت بھی حاصل تھی۔ سوال یہ ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں فائنل کال کے طور پر حالیہ لانگ مارچ ماضی سے کتنا مختلف اور نتیجہ خیز ہو گا۔ ریاستی دبائو کے ساتھ ساتھ آج پارٹی دستیاب شواہد کے مطابق اندرونی خلفشار کا شکار ہے۔ بیشتر قیادت پابند سلاسل ہے۔ آزاد قیادت پر کمپرومائزڈ ہونے کے الزامات ہیں۔ سینئر رہنما احتجاج کے اعلان سے ناخوش ہیں۔ عمران خان کی اہلیہ اور بہنوں کی سیاسی سرگرمیوں نے وراثتی سیاست بارے پی ٹی آئی نظریہ کی نفی کردی ہے۔ احتجاج کی تیاریوں کیلئے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے متحرک ہونے اور انکی جانب سے بندے نہ لانے والوں کو جماعت سے خارج کرنے کے دھمکی آمیز بیان نے بڑے پیمانے پر اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ مسٹر مروت کا اس بارے بیان سامنے آچکا ہے۔ اس بارے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ عمران خان کے مشیران اور بشریٰ بی بی دومختلف قوتیں ہیں، ان کا ساتھ چلنا مشکل ہوگا۔ پی ٹی آئی کی پارلیمنٹ اور باہر موجود تمام قیادت کمپرومائزڈ ہے ادھر احتجاج سے قبل تحریک انصاف کے گڑھ پشاور میں پارٹی اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ پشاور سٹی کے سینئر نائب صدر ملک اسلم، نائب صدر پی ٹی آئی ایسٹ عباس خان اور جنرل سیکرٹری تقدیر علی نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ پارٹی کے نائب کپتان مخدوم شاہ محمود قریشی کا گلے شکوے سے بھرپور بیان اڈیالہ سے آ چکا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کے سفارتی دبائو کو موجودہ حکومت اور فوجی حکام خاطر میں نہیں لائے۔ دفتر خارجہ بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے اس غیرملکی دبائو کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دے چکا ہے۔ نومنتخب امریکی صدر ٹرمپ سے وابستہ توقعات بھی پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی ہیں۔خود صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف کہہ چکے ہیں کہ امریکا سے کوئی توقعات نہیں ہیں ہوسکتا ہے کہ ٹرمپ بھی پی ٹی آئی کا مسئلہ اٹھائیں تاہم ہم پاکستانی عوام پر انحصار کرتے ہیں۔ اسی بارے رہنما پیپلزپارٹی سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی مسلسل غیرملکی مداخلت کو دعوت دے رہی ہے۔ یہ وہی سیاسی جماعت ہے جو ماضی میں امریکی مداخلت پر بیانیہ بنا کر سیاست کرتی رہی ہے۔ اس قومی منظرنامہ میں اہم سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف کے آئندہ احتجاج اور دھرنے کے کیا نتائج برآمد ہونگے۔ اگر پی ٹی آئی کا دھرنا رنگ لے آیا اور فوجی حکام کی سوچ میں تبدیلی آگئی تو موجودہ حکومت کی چھٹی ہو سکتی ہے۔ عمران خان جیل سے باہر آ سکتے ہیں اور تحریک انصاف کے اقتدار کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر دھرنا اور احتجاج رنگ نہ لایا اور اسٹیبلشمنٹ کی سوچ بھی نہ بدلی (جس کی تبدیلی کے تاحال کوئی آثار بھی نہیں ہیں) تو پھر اس کا لازمی نتیجہ پی ٹی آئی کے تحریک استقلال پارٹ ٹو بننے کی صورت میں نکلے گا۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب ایک فریق میدان جنگ میں مارنے یا مرنے کی سوچ کے تحت نکلے گا تو نتیجہ کسی ایک فریق کی شکست کی صورت میں ہی نکلے گا۔ موجودہ حالات میں تو طاقت کا توازن حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے حق میں ہے۔ اس پس منظر میں تحریک انصاف کے تجربہ کار رہنما مخدوم شاہ محمود قریشی کا یہ بیان بہت معنی خیز اور اہم ہے کہ پیپلز پارٹی کے قائد بلاول بھٹو زرداری سمیت جمہوری قوتیں فیصلہ کریں کہ مستقبل میں وہ تاریخ کے کس پلڑے میں کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔ یہ بیان پاکستان کی نئی سیاسی جہتوں کی جانب ایک واضح اشارہ ہے۔