پاکستان آنے والے چند برسوں میں شوگر کا دارالخلافہ بننے جا رہا ہے: ڈاکٹر ساجد محمود اشرف
ملتان: ڈاکٹر ساجد محمود اشرف، جو “دی زیابیطس سنٹر” کے چیف آپریٹنگ آفیسر ہیں، نے حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ہر دو لاکھ بچوں میں سے ایک بچہ شوگر کے مرض میں مبتلا ہوتا ہے، لیکن حکومت کی جانب سے اس مرض کی تشخیص کے لیے پرائمری یا سیکنڈری ہیلتھ کیئر پر کوئی پروگرام موجود نہیں ہے۔ شوگر کے مریضوں میں سے تقریباً 6-7 فیصد کے پاؤں پر زخم بن جاتے ہیں، جو اکثر انگوٹھے، پاؤں یا ٹانگ کٹنے کا سبب بنتے ہیں۔ شوگر کے زیادہ پھیلاؤ کی وجہ سے پاکستان، چین اور بھارت کے بعد دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ اگر یہی شرح برقرار رہی تو پاکستان جلد ہی پہلے نمبر پر پہنچ سکتا ہے۔ شوگر جیسی بیماری جب پھیلتی ہے تو یہ امیر اور غریب کے درمیان فرق نہیں کرتی۔ صاحب حیثیت لوگ کسی نہ کسی طرح علاج کروا لیتے ہیں، لیکن غریب طبقہ، جو اپنی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں کر سکتا، بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ساجد محمود اشرف نے بتایا کہ یہ عدم مساوات ہمارے گروپ کے چیئرمین ڈاکٹر اسجد حمید کو بہت متاثر کرتی تھی۔ انہوں نے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر اس بیماری کے خلاف مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا، جس میں غریب اور نادار افراد کو مفت علاج فراہم کیا جائے۔ اس مشکل سفر کا آغاز ایک کنٹینر کلینک سے کیا گیا، جس کا نام “دی زیابیطس سنٹر” (TDC) رکھا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ “دی زیابیطس سنٹر” نے اپنی خدمات پاکستان کے مختلف شہروں، جیسے اسلام آباد، لاہور، ساہیوال، فیصل آباد، کراچی، راولا کوٹ، اور میرپور (آزاد کشمیر) تک پھیلا دی ہیں، جبکہ بین الاقوامی سطح پر آسٹریلیا، انگلینڈ، امریکہ اور کینیڈا میں بھی کام کر رہا ہے۔ دی زیابیطس سنٹر ایک مکمل ہسپتال ہے جو شوگر کے مریضوں کے لیے تمام خدمات فراہم کرتا ہے، جن میں دل اور گردوں کے امراض، ڈائیلاسز، پاؤں کی دیکھ بھال، ذہنی صحت، اور غذائیت کلینک شامل ہیں۔ اسلام آباد کے ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے تعاون سے TDC نے انسٹی ٹیوٹ آف اینڈوکرائنالوجی اور ڈائیبیٹالوجی بھی قائم کیا ہے۔
ڈاکٹر اشرف نے بتایا کہ لاہور اور ساہیوال میں بطور پائلٹ پروجیکٹ ٹیلی کنسلٹیشن کے ذریعے سروسز فراہم کی جا رہی ہیں۔ TDC میں غریب اور مستحق افراد کا علاج بالکل مفت کیا جاتا ہے، جبکہ صاحب حیثیت افراد کو کم قیمت میں خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ ادارے کا مقصد غریب مریضوں کو معیاری علاج فراہم کرنا ہے اور اس مشن کے بارے میں آگاہی کے لیے میڈیا سے تعاون کی درخواست ہے۔ دنیا بھر میں 537 ملین افراد شوگر کے مرض میں مبتلا ہیں، جن میں سے تقریباً 33 ملین پاکستان میں موجود ہیں۔ 2045 تک شوگر کے مریضوں کی تعداد میں 50% تک اضافہ متوقع ہے۔ صرف پاکستان میں تقریباً 11 ملین افراد پری ڈائیابیٹک ہیں، جو مستقبل میں شوگر کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں موجود 100 بستروں پر مشتمل جدید ہسپتال “دی زیابیطس سنٹر” غریب مریضوں کا بلا معاوضہ علاج کرتا ہے، جو کہ مخیر حضرات کے تعاون سے ممکن بنایا گیا ہے۔ ڈاکٹر ساجد محمود اشرف نے میڈیا اور صحافی برادری سے درخواست کی کہ وہ اس مشن میں شامل ہوں، اس سنٹر کی تشہیر کریں، اور ٹی وی پروگرامز، کالمز، اور خبروں میں اس کا ذکر کریں تاکہ امیر اور غریب دونوں اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس ماہ کی 14 تاریخ کو اسلام آباد میں ورلڈ ڈائیبیٹیز ڈے منایا جا رہا ہے، جس میں بیرون ملک سے ماہرین بھی شریک ہوں گے۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی گورنر پنجاب جناب سلیم حیدر ہوں گے۔ اس کا مقصد لوگوں کو شوگر کے بارے میں آگاہی دینا، سنٹر کے بارے میں معلومات فراہم کرنا، اور علاج کے لیے لوگوں کو راغب کرنا ہے، تاکہ اس سفر کو آسان بنایا جا سکے








































Visit Today : 198
Visit Yesterday : 513
This Month : 14421
This Year : 62257
Total Visit : 167245
Hits Today : 1277
Total Hits : 857642
Who's Online : 3




















