ملتان:  نو نومبر سقوط ٹانک و ڈیرہ اسماعیل خان کی مناسبت سے ملتان میں سرائیکستان نوجوان تحریک نے احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرہ چوک کمہارانوالہ پر کیا گیا مظاہرے کی قیادت چیئرمین مہر مظہر عباس کات نے کی مظاہرین نے بینر اٹھا رکھا تھا جس پر ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کوواپس ملتان کے ساتھ شامل کر کے الگ سرائیکی صوبہ بنانے کے مطالبات درج تھے مظاہرین نے لارڈ کرزن مردہ باد، تخت لاہور مردہ باد اور ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان سرائیکستان سرائیکستان کی بھر پور نعرے بازی کی۔مظاہرہن سے چیئرمین مہر مظہر کات نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لارڈ کرزن انگریز نے برصیغر کے بڑے صوبہ ملتان سے مزاحمت کے خوف سے ملتان صوبہ کو توڑ کر ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کو صوبہ سرحد میں شامل کر دیا تاکہ سرائیکی عوام کی طاقت کو تقسیم کر کے یہاں مزاحمت کو روکا جا سکے ۔مہر مظہر کات نے کہا کہ ڈی آئی خان اور ٹانک کی سرائیکی عوام شروع دن سے اس پر سراپا احتجاج ہیں اور وہ اپنے سرائیکی مرکز ملتان کے ساتھ شامل رہنا چاہتے ہیں سرائیکی راہنما نے کہا کہ ہم لارڈ کرزن پر اور اس کے کردار پر لعنت بھیجتے ہیں جس کی وجہ سے دو اکثریتی اضلاع پختونوں کے حوالے کر دیے جنہوں نے ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کے مقامی سرائیکیوں پر آج تک زمین تنگ کی ہوئی ہے اور قتل و غارت کر کے جبری قبضہ گیری اور آباد کاری کر کے سرائیکیوں کو نکال رہے ہیں سرائیکی راہنما نے کہا کہ جب تک ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کو واپس ملتان کے ساتھ شامل کر کے ہمارا الگ سرائیکی صوبہ نہیں بنایا جاتا آٹھ کروڑ سرائیکی عوام کا احتجاج جاری رہے گا اور آنے والے وقت میں یہ ملک گیر احتجاج کی شکل اختیار کرنے والا ہے لہزا ریاست آٹھ کروڑ سرائیکی عوام کو ان کا حق دے تاکہ ریاست مضبوط رہے مظاہرے میں نوجوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی