ملتان: نیشنل انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ اسلام آباد میں زیر تربیت 36 ویں کورس کے سینئر افسران نے آج جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا دورہ کیا اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساوتھ پنجاب فواد ہاشم ربانی سے ملاقات کی۔سیکرٹری سروسز انجینئر امجد شعیب خان ترین اور ڈائریکٹنگ سٹاف شمائلہ زبیر بھی ملاقات میں موجود تھیں۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساوتھ پنجاب فواد ہاشم ربانی نے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب میں زراعت اور لائیو سٹاک کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے فصلوں اور گوشت کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ زراعت کے شعبے میں ڈراون، سینسر اور جدید زرعی مشینری کا استعمال متعارف کرانے کے لئے کوشاں ہے اور پانی کی بچت کے لئے آبپاشی کے نظام میں جدت لائی جارہی ہے اور دوست ملک چین کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔فواد ہاشم ربانی نے بتایا کہ حلال گوشت کی گلوبل مارکیٹ اربوں ڈالر پر محیط ہے۔پوری دنیا کو فوڈ سیکیورٹی کا مسلہ درپیش ہے یہی وجہ ہے کہ خلیجی ممالک پاکستان میں ڈیری فارمنگ کے شعبے سرمایہ کرنے کے خواہاں ہیں اور حکومت کا اس سرمایہ کاری پر بہت فوکس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زراعت اور لائیوسٹاک کا شعبہ غربت کے خاتمہ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اسی لئے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے دیہی خواتین کے لئے لائیو سٹاک کارڈ کا اجراء کردیا ہے جس کے تحت جنوبی پنجاب کے 13 اضلاع میں خواتین میں قرعہ اندازی کے ذریعے 11000 مویشی مفت تقسیم کئے جارہے ہیں۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے بتایا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ خطے کی ترقی میں اول دستے کا کردار ادا کر رہا ہے اور صحت اور تعلیم کے شعبے میں انفراسٹرکچر میں بھرپور اضافہ کیا گیا ہے جبکہ عوام کے مسائل حل کرنے اور سیکرٹریٹ کی کارکردگی بہتر بنانے کےلئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جارہا ہے۔ سیکرٹری سروسز انجینئر امجد شعیب خان ترین نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی کارکردگی بارے بریفنگ دی اور مختلف محکموں کی جانب سے حاصل کئے گئے اہداف بارے بتایا گیا۔ انہوں نے سکولوں میں بچوں کے داخلہ مہم ، صبح نو سکولوں، صاف پانی کی فراہمی، ای فائلنگ سسٹم اور دیگر منصوبوں بارے بتایا۔ اس موقع پر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ کی جانب سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساوتھ پنجاب کو شیلڈ پیش کی گئی۔