پی آئی اے کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے،،ماضی کا منافع بخش ادارہ اس قدر مالی خسارے کا شکار کیسے ہوا ؟ : مہدی الحسن شاہ و سید مطلوب بخاری
ملتان : پی آئی اے کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے ، ماضی کا منافع بخش ادارہ اس قدر مالی خسارے کا شکار کیسے ہوا، دھڑا دھڑ سیاسی بھرتیاں کرنے والے پی آئی اے کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سرائیکستان جمہوری پارٹی کے چیئرمین سید مہدی الحسن شاہ نے مرکزی صدر سید مطلوب بخاری کے ہمراہ قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کی نجکاری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سید مہدی الحسن شاہ کا مزید کہنا تھا کہ پی آئی اے کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے، قومی ائیر لائن ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ ہے اسے اونے پونے داموں فروخت کرنے کی بجائے اس کے مالی معاملات پر توجہ دینے اور سوچنے کی ضرورت ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ماضی میں منافع پر چلنے والی پی آئی اے کا خسارہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ کوئی بھی اندرونی و بیرونی سرمایہ کار اسے خریدنے میں دلچسپی نہیں لے رہا، کے پی کے اور پنجاب حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کی مخالفت میں قومی ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے سے بعض رہیں کیونکہ پہلے ہی ملکی اداروں میں بڑھتی ہوئی سیاست جہاں اُن کی کارکردگی کو متاثر کررہی ہے وہاں عوامی مسائل کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے، ملک پر قابض حکمرانوں کی ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ ذاتی مفادات اور اختلافات کو اس قدر بڑھا لیتے ہیں کہ انہیں اس کے آگے کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا اور پاکستان کے پیچھے رہنے کی یہی وجہ ہے اگر یہ لوگ خلوص نیت اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہوکر آگے بڑھتے تو آج پی أئی اے سمیت دیگر قومی اداروں کی حالت زار اس قدر خراب نہ ہوتی۔ اس موقع پر سرائیکستان جمہوری پارٹی کے مرکزی صدر سید مطلوب بخاری کا کہنا تھا کہ ملکی اداروں کو جب تک سیاست سے پاک اور اہل و دیانتدار افراد کو کارکردگی کی بنیاد پر آگے نہیں لایا جاتا تب تک ان میں بہتری تو دور کی بات اس کے بارے سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ پی آئی اے کے مالی خسارے کی ذمہ دار وہ تمام حکومتیں ہیں جنہوں نے سیاسی بھرتیاں کرتے ہوئے منافع بخش ادارے کو اپنی سیاسی بقاء کیلئے خسارے سے دو چار کیا۔






































Visit Today : 524
Visit Yesterday : 440
This Month : 13681
This Year : 61517
Total Visit : 166505
Hits Today : 4283
Total Hits : 847792
Who's Online : 6




















