ملتان: پاکسان مزدور تحریک کسانوں اور مزدوروں کے مفادات کی نمائندگی کرنے والی ایک منظم تحریک ہے۔اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ظہور جوئیہ نے کہا کہ تحریک حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے، کیونکہ مزدور اور کسان طبقے کو مایوسی کے دہانے پر ہے۔کیونکہ ان کی کھڑی فصلیں ماحولیاتی تبدیل اور مہنگی ادوایات کی وجہ سے کھڑی فصلیں تباہ ہو جاتی ہین زمن زمان نے کہا کہ مزدوروں اور کسانوں کی روزی روٹی پر حملہ ہے جو قوم کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔آئی ایم ایف اور اس جیسے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی ہدایات پر مہنگائی میں مسلسل اضافے نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ پاکستان کے محنتی مزدور اور کسان، جو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن اب زندگی کے بے تحاشہ اخراجات کی تلخ حقیقت سے دوچار ہوچکے ہیں۔ غلام شبیر نے کہ وہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرے۔ ہم حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ ان کی پالیسی اقدامات پر نظر ثانی یا پھر مسترد کردیں جن کی وجہ سے یہ پریشان کن صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ لاتعداد افراد کی روزی روٹی داؤ پر لگی ہوئی ہے، اور یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود کو سب سے بڑھ کر ترجیح دے۔خالدہ مقبول نے کہا مزدور اور کسان دشمن معاشی اصلاحات اور استحکام کی ضرورت کو تسلیم نہیں کرتی اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ ایسے اقدامات معاشرے کے سب سے کمزور طبقات خاص طور پر خواتین کی فلاح و بہبود کی قیمت پر نہیں ہونے چاہئیں۔ محمد صادق نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوے کہا کہ وہ آئی ایم ایف کی انسان دشمن شرائط کو ماننے سے انکار کر دے جس سے مزدور اور کسان طبقات کے مفادات کا تحفظ نہ ہو سکے۔ اور پاکستان کے تمام طبقات کے ساتھ ایک مکالمے کو فروغ دیں تاکہ پاکستان کے میں موجود وسائل کو مساویانہ اور منصفانہ بنیادوں پر تقسیم کیا جا سکے۔