حکومت ائی ایم ایف کے ایماء پرتاجروں پر مزید 5 سو ارب کا بوجھ لادنے کی بجائے اپنی شاہ خرچیاں بند کرے : مرکزی تنظیم تاجران پاکستان
ملتان : مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے مرکزی چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی، ضلع ملتان کے صدر سید جعفر علی شاہ، ملتان کے صدر خالد محمود قریشی،پیپر مارکیٹ کے صدر چوہدری عبدالحمید جٹ، بوہر گیٹ کے صدر چوہدری ریا ض شاہین، ملتان کے نائب صدر چوہدری عبدالمنان گوندل،ضلع ملتان کے نائب صدر شیخ فیصل محمود، ایم جناح روڈ کے صدر حافظ شہزاد نے کہا ہے کہ حکومت ائی ایم ایف کے ایماء پرتاجروں پر مزید 5 سو ارب کا بوجھ لادنے کی بجائے اپنی شاہانہ شاہ خرچیاں بند کرے اور قومی اداروں کی نجکاری کے زریعے بیچنے کا سلسلہ بند کرے پہلے ہی عوام کش پالیسیوں کے نتیجے میں ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے ملکی معیشت کا دارومدار زرعت، تجارت و صنعت پر تھا لیکن مہنگی بجلی اور دیگر مسائل کے باعث آج سب کچھ تباہ ہوتا جارہا ہے لیکن ایوانوں میں بیٹھے مقتدر طبقہ کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے اسی لئے اشرافیہ غریب عوام پر ظلم ڈھانے کی بجائے اپنے شاہانہ اخراجات بند کرے پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی بدحالی کی وجہ سے غریب قوم تباہ حالی کا شکار ہو چکی ہے تجارتی و صنعتی پہیہ جام کرنے کے لیے اگر مزید منی بجٹ لایا گیا تو مرکزی تنظیم تاجران پاکستان ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہو جائے گی اسی لئے حکمران طبقہ تاجر تنظیموں کے حقیقی نمائندوں سے مزاکرات کا راستہ اپنائے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہ کرے خواجہ سلیمان صدیقی نے مزید کہا کہ جب سے ملک کے 26 کروڑ سے زائد غریب عوام کے مسائل کے حل کے دعویداروں نے اقتدار سنبھالا ہے تب سے لے کر اج تک ائے روز نت نئے ٹیکسز،بجلی گیس واسا،پٹرولیم مصنوعات،سبزیات،اٹا گھی چینی دالوں چاول کی قیمتوں میں اضافے نے غریب قوم کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے مرکزی تنظیم تاجران حکومت کے ائی ایم ایف کے ڈو مور معاہدے کو مسترد کرتی ہے کیونکہ مزید ٹیکسز لگائے جانے کی وجہ سے مہنگائی کا مزید طوفان ائے گا جس کی وجہ سے مرکزی تنظیم تاجران بہت جلد اجلاس طلب کر رہی ہے جس میں ائی ایم ایف کی جانب سے مزید منی بجٹ لگائے جانے کے فیصلے پر ائندہ کے لیے حکمت عملی طے کی جائے گی۔








































Visit Today : 498
Visit Yesterday : 440
This Month : 13655
This Year : 61491
Total Visit : 166479
Hits Today : 4115
Total Hits : 847624
Who's Online : 21




















