چلڈرن ہسپتال ملتان کی ایمرجنسی میں مریض بچوں کو تین تین گھنٹے کوئی دوائی نہیں دی جاتی ، لواحقین کو ذلیل کیا جانے لگا : مہر مظہر عباس کات
ملتان : چلڈرن ہسپتال ملتان کی ایمرجنسی میں مریض بچوں کو تین تین گھنٹے کوئی دوائی نہیں دی جاتی اور ذلیل کیا جانے لگا۔ چیئرمین سرائیکستان نوجوان تحریک مہر مظہر عباس کات ایک گیارہ ماہ کے بچے ابراہیم کو چار بجے چلڈرن ایمرجنسی لے آئے جس کو ایک گزشتہ تین دنوں سے ایک سو پانچ پر بخار تھا۔سرائیکی راہنما نے بتایا کہ اتنی زیادہ شدت سے بخار والے بچے کو چیک کروانے کے لیے آدھا گھنٹہ سے زیادہ صرف ٹوکن کے لیے روکا گیا پھر ٹوکن بنا تو پورا ایک گھنٹہ جوئنیر ڈاکٹرز جو ڈیوٹی پر موجود تھے انہوں نے چیک نہیں کیا۔انہوں نے بتایا کہ جب چیک کروا کر ایمرجنسی کے کمرےنمبر چار میں لے گے تو وہاں 45 منٹ تک کوئی نرس تک نہ پوچھنے آئی جبکہ بچہ کا بخار چیک کیا تو ایک سو چار پر تھا اور بچہ مسلسل رو رہا تھا۔اس موقع پر مہر مظہر کات ایمرجنسی کے کاؤنٹر پر گے اور شدید ناراضگی کا اظہار کیا کہ یہ کیا بدمعاشی ہے ایمرجنسی کا مطلب کیا ہے اتنے شدید بخار والے بچے کو دو گھنٹوں سے کسی نے دوائی تک شروع نہیں کی تو نرس نے کہا کہ فارمیسی سے میڈیسن پہنچے گی تو لگا دیں گے ۔سرائیکی راہنما نے کہا کہ روم نمبر چار میں چالیس بچوں کی جگہ ہے جہاں اس وقت صرف سات آٹھ بچے پڑے ہیں رش بھی نہیں ہے پھر بھی اتنی غفلت برتی جا رہی ہے اگر ہمارے بچے کو کچھ ہوا تو زمہ دار چلڈرن ہسپتال کی انتظامیہ ہو گی ۔سرائیکی راہنما نے کہا کہ یہ سب ایم ایس کی نااہلی کا نتیجہ ہے اگر ایم ایس ایمرجنسی کا راؤنڈ کرتے رہتے تو ہمارے وسیب کے مریض بچوں کو ایمرجنسی میں اتنا زلیل نہ کیا جاتا ۔مہر مظہر عباس کات نے سیکریٹری صحت اور دیگر اداروں سے فوری نوٹس لے کر کاروائی کرنے اور ایم ایس کی فوری تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے ورنہ سرائیکستان نوجوان تحریک بھر پور احتجاج کرے گی







































Visit Today : 499
Visit Yesterday : 440
This Month : 13656
This Year : 61492
Total Visit : 166480
Hits Today : 4131
Total Hits : 847640
Who's Online : 18




















