انجئنیرگل اصغر ۔۔۔ایک امید نو” نصرت جبیں ملک
انجئنیرگل اصغر ۔۔۔ایک امید نو” تحریر۔۔۔۔۔ نصرت جبیں ملک
ریت کے ٹیلوں کی سرزمین تھل، جس کی سرسراتی ریت ٹھنڈی ہوا کے سروں پر اپنی بے بسی کا گیت گاتی ہےجہاں آج بھی بیر اور جنڈ کے درخت اپنی خودداری کا مان لیے کھڑے نظر آتے ہیں یہ وہ زمین ہے کہ ملکی سطح پر وسائل کی تقسیم کے دوران اس کا وسیع دامن خالی رہ جاتا ہے۔ ترقیاتی منصوبہ جات اس تک پہنچتے پہنچتے باسی ہو جاتے ہیں تو کبھی وقت کی طوالت کے پیش نظر حکومتوں کی تبدیلی کے نظر ہو جاتے ہیں اس پسماندہ اور اور غیر ترقی یافتہ علاقے میں افراد بھی خود رو پودوں کی طرح اٹھان لیتے اور آگے بڑھ کر اپنی حیثیت اور ساکھ منواتے ہیں ۔ایسی ہی ایک شخصیت ضلع خوشاب حلقہ88 سے MNA منتخب ہونے والے انجینیرگل اصغر بگھور کی ہے جن کا تعلق اس علاقے کے ایک مڈل کلاس فیملی سے ہے مگر اپنی ذہانت اور قابلیت کی بنیاد پر انہوں نے اپنے بزنس کو عروج دیا اور سیاست کے اس اکھاڑے میں بھی قدم رکھا جہاں انسان روز و شب کی طرح بدلتے ہیں اور رویے، حالات کے مطابق تبدیلی اختیار کرتے ہیں ، یہ میدان سمجھدار انسان کے لیے آزمائش گاہ ہے تو نا سمجھ کے لیے بس کھیلو تماشاہے۔
اس مرتبہ گل اصغر کو ان کی طویل سیاسی جدوجہد کا ثمر مل گیا ۔لوگوں کی اکثریت نے انہیں اس لحاظ سے بھی ووٹ دیا کہ خاندانی سیاست اور جاگیردارانہ تسلسل سے ہٹ کر وہ ایک اعلی یافتہ شخصیت ہیں اس سے پہلے کئی لوگ وہی چہرے دیکھ رہے تھے جو ان کی نصیب کی آنگن میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں لا سکے تھے حال ہی میں انجینیئر گرفت کا صاحب اپنے حلقے میں ترقیاتی کام کروانے کے لیے دو ارب سے زائد کے فنڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں یہ ایک غیر معمولی رقم ہے لیکن اہم کام یہ ہے کہ اس کا استعمال پوری دیانت داری معاملہ فہمی اور عملی طور پر کیا جائے یہ رقم بندر بانٹ میں تقسیم نہ ہو جائے بلکہ اس کے ثمرات عام آدمی تک بھی بھرپور طریقے سے پہنچنے چاہیں تاکہ انہیں احساس ہو کہ انہوں نے اگر گل صاحب کو ووٹ دیا ہے تو وہ ووٹ کا صحیح حقدار تک پہنچا ہے اور اگر گزشتہ الیکشن میں وہ انہیں ووٹ نہیں دے سکے تو اکثریتی رائے واقعی درست ثابت ہوئی ہے ۔آج کل حقیقت یہ ہے کہ گل اصغر صاحب کی ہر کامیابی پر اہلیان تھل کی بڑی تعداد خوش ہے کہ ان ٹیلوں ٹبوں سے بھی کامیابی کے سفر کے لۓ کسی نے اتنی لمبی اڑان بھری ہےاور امید رکھتی ہے کہ اس سفر میں وہ اپنے علاقے کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اب ان کا وفاقی پارلیمانی سیکرٹری براۓ وزارت مواصلات بننا ، وہ ثمر ہے کہ جو تھل کی زمین کی بنجر کوکھ کے طفیل انہیں حاصل ہوا ہے یہ ثمرغریب لوگوں کی امیدوں اور مفلوج حال عوام کی حسرتوں کے رومال میں لپٹاہوا ہے جو سمجھتے ہیں کہ گل اصغر اس علاقے کی پسماندگی کا اس لیے بھی احساس کریں گے کہ اس بھوک کے وہ چشم دید گواہ ہیں۔ وہ اس لیے بھی اس کا خیال رکھیں گے کہ انہیں خبر ہے جب ملکی سطح پر وسائل کی تقسیم ہوتی ہے تو نورپور تھل کے حصے میں صرف وعدے، دعوے اور حسرت آبچتی ہیں یا پھر کبھی کوئی منصوبہ منظور بھی ہوتا ہے تو اس کی فائل اس الماری میں رکھ دی جاتی ہے جہاں ان کاغذات سےصرف دیمک کا پیٹ بھرتا ہے یہاں کی عوام نے گل اصغر کوووٹ نہیں دیا بلکہ اس ووٹ کی صورت میں ان کے دامن سے اپنی امیدیں باندھی ہیں انجینیئر صاحب کی تقریروں سے لگتا ہے کہ وہ اس علاقے کے لیے امیدیں نو ہیں ان کی اس کامیابی کو علاقے کی بڑی تعداد اپنی کامیابی سمجھ رہی ہے کہ وہ ان کی خاندانی ساکھ کو جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ حقیقی معنوں میں ان کے نمائیندہ ہیں مگر ایک طبقہ اس کے برعکس بھی سوچتا ہے اور اس طبقے کی سوچ کو پختگی دینے والے وہ لوگ ہیں جو “بگھور ازم” کا علم اٹھائے ہوئے ہیں میں نے خود واٹس ایپ پر سٹیٹس لگے دیکھے ہیں کہ” بگھور جیت گیا” ” ثابت ہوا کہ بگھور ،بگھور ہے” ” بگھور سب پر بھاری ثابت ہوا “ایسے الفاظ دیگر طبقات کے لیے منفی سوچ ابھار رہے ہیں ایسے لوگ آپ کی شہرت اور مقام کو اپنے لیے کیش کرا رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس سواۓ بگھور ہونے کے کوئی کامیابی نہیں ہے مگر اب آپ کوبغیر ذات اور طبقات کی تفریق کے عوامی فلاح کے لیے کام کر کے اپنا کردار منوانا ہے۔ آپ کے ووٹرز میں بڑی تعداد میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو بگھور ذات سے تعلق نہیں رکھتے جنہوں نے آپ کو صرف ایک قابل انسان ، علاقے کا ہمدرد اور نجات دہندہ سمجھ کر ووٹ دیا ہے۔ اب آپ کو یہ ثابت کرنا ہے کہ آپ بگھور تحریک کے سربراہ نہیں ہیں بلکہ تھل کے ہر گھر اور ہر علاقے کا درد اپنے سینے میں محسوس کرتے ہیں








































Visit Today : 191
Visit Yesterday : 553
This Month : 13901
This Year : 61737
Total Visit : 166725
Hits Today : 1045
Total Hits : 849211
Who's Online : 5




















