ملتان(صفدربخاری سے) ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے خوراک و ضروریات زندگی کی شدید قلت کے اسباب پیدا ہو رہے ہیں ۔ پاپولیشن میں اضافے کو کنٹرول اور وسائل میں اضافہ کے لئے صنعتی و زرعی ترقی کے لئے انقلابی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ بات سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی دست راست و سینئر سیاستدان بیگم ناہید خان نے آج نیشنل لیبر الائنس کے چیئرمین غازی احمد حسن کھوکھر سے مقامی ہوٹل میں عیشائیہ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کی ۔ انہوں نے کہا کہ آنے والا دور مزدوروں ، کسانوں اور ملازمین کے لئے بے حد مشکلات کا پیغام لا رہا ہے کیونکہ آرٹیفشل انٹیلی جنس کا نظام جو دنیا میں تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اس سے انسان کی جگہ روبوٹ لے رہا ہے جس سے سرمایہ دار و جاگیردار طبقہ حقوق و مراعات کا تقاضہ کرنے والوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کو ترجیح دے گا ۔ بلکہ وہ انتھک ورکرز سے انسانوں سے زیادہ کام لے گا ۔ بیگم ناہید خان نے انتہائی دکھ و درد بھرے انداز میں کہا کہ انسانی قدر سے مبرا ہوکر بے حسی کی طرف جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لبنان ، بیروت میں وائرلیس ڈیوائسسز دھماکے افسوس ناک بھی ہیں اور تشویشناک بھی ہیں ۔ کیونکہ سائبر حملے پاکستان کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہیں ۔ انہوں نے غازی احمد حسن کھوکھر کے سوال پر کہ ملک میں ٹریڈ یونینز کے ذوال کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں لیبر عدالتوں اور لیبر اداروں پر حکومتیں کڑی نظر رکھتی تھیں اور مزدوروں اور ٹریڈ یونینز کو حقوق دینے کے لئے سرمایہ داروں کو پابند کیا جاتا تھا اور مزدوروں کے لئے قانون سازی ہوتی تھی ۔ اب جبکہ حالات اس کے برعکس ہیں ۔ ملک بھر کے مزدوروں کو یکجا ہوکر جدوجہد تیز کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ میر ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے مشیر ہم جیسے ہوتے تھے جو پارٹی پالیسی کے مطابق مزدوروں ، کسانوں ، طلباء کے لئے مشورے دیتے تھے ۔ آج اسی پارٹی پر ایسے لوگوں کا قبضہ ہے جو غریبوں مزدوروں کو زندہ درگور کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ غازی احمد حسن کھوکھر سے مقامی ہوٹل میں تین گھنٹے طویل ملاقات کے دوران ملکی مسائل خصوصا صنعتی و زرعی مزدوروں اور سرکاری ملازمین کے مسائل پر سیر حاصل گفتگو ہوئی ۔ یاد رہے محترمہ ناہید خان پیپلز پارٹی کے سینئر کارکن جمال لابر کی تعزیت پر ملتان آئی ہوئی تھیں ۔