کچے کے پکے ڈاکو
کچے کے پکے ڈاکو
تحریر: طارق قریشی
حالیہ دنوں میں رحیم یار خان کے علاقے کچھ ماچھکہ میں ڈاکوئوں کی فائرنگ سے بارہ پولیس اہلکاروں کی شہادت نے ایکبار پھر پاکستانی ریاست کی رٹ کو مسلسل چیلنج کرنے والے اس سنگین ایشو کو پھر سے اجاگر کر دیا ہے۔ یہ بڑا سانحہ اور پنجاب پولیس کا ایک بڑا نقصان ہے۔ جس نے ہر کسی کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اب بڑی سنجیدگی کے ساتھ ہر قسم کے تحفظات کو پس پشت ڈال کر آپریشن کلین اپ بارے سوچا جا رہا ہے۔ علاقے میں ڈاکوؤں کے پولیس پر حملے کے بعد علاقے میں پولیس کی جوابی کارروائی بھی جاری ہے۔ پولیس کے مطابق ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں پولیس پر حملے کا مرکزی ملزم ہلاک جب کہ اس کے پانچ قریبی ساتھی زخمی ہوگئے ہیں۔ کچے کے علاقے میں پولیس اہلکاروں پر حملے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ماہ اگست میں ہی اس سے قبل پولیس پر دو اور حملے بھی ہو چکے ہیں۔ خیال رہے کہ ڈاکوؤں کے حملوں میں بعض اوقات پولیس اہلکاروں کو یرغمال بھی بنا لیا جاتا ہے۔ جن کی بازیابی کے لیے پولیس ماضی میں بھی آپریشن کرتی رہی ہے۔ کچے کا علاقہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان سے تقریباً 100 کلو میٹر جنوب سے شروع ہو جاتا ہے جو ریتلے علاقوں پر مشتمل ہے۔ کچے کا علاقہ پاکستان کے تین صوبوں پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے سنگم پر واقع ہے۔ اس علاقے میں نہ صرف تینوں صوبوں کے ڈاکو آپس میں رابطے میں رہتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے رہتے ہیں۔ کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف گزشتہ ڈیڑھ سال سے پولیس آپریشن چل رہا ہے۔ جس کے کوئی خاطر خواہ نتائج اب تک سامنے نہیں آئے۔ علاقے سے منتخب عوامی نمائندوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کچے میں پولیس کے ساتھ فوج اور رینجرز کا مشترکہ آپریشن کرنے کا کئی بار مطالبہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر نگرانی ڈاکوؤں کے خلاف حکمتِ عملی بنائی جا رہی ہے۔ امکان ہے کہ کچے میں جلد ہی ایک نیا آپریشن کلین اپ ہوگا۔ جس میں ممکنہ طور پر تین صوبوں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور وفاق کی قانون نافذ کرنے والی فورسز مشترکہ طور پر حصہ لیں گی۔ جبکہ اس آپریشن میں غیر روایتی ہتھیار، آلات اور گیسز بھی استعمال کیئے جا سکتے ہیں۔ فضائی سپورٹ بھی اس آپریشن میں شامل ہوگی۔ ڈاکوؤں کو ان کی پناہ گاہوں میں گھس کر مارا جائے گا اور انہیں بھاگنے کا کوئی موقع نہیں دیا جائے گا۔ حالیہ حملے میں جن پولیس اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا ہے ان کی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ کچے کے علاقے میں پولیس کا ڈاکوؤں کے خلاف یہ پہلا آپریشن نہیں ہوگا۔ اس سے قبل موجودہ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی جب قائم مقام وزیرِ اعلیٰ پنجاب تھے تو کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا تھا۔ اس کی نگرانی کے لیے وہ خود بھی وقتاً فوقتاً کچے کے علاقے میں جاتے رہے ہیں۔ ماضی میں بھی مختلف حکومتوں نے مختلف ادوار میں کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشنز کیے ہیں۔ اب وقت ہی بتائے گا کہ نیا ہمہ گیر آپریشن اگر شروع ہوا تو وہ کامیاب ہوگا یا نہیں پھر سے سیاسی مجبوریاں آڑے آ جائیں گی۔ لیکن صورتحال بہرحال آر یا پار والی بن گئی ہے۔






































Visit Today : 25
Visit Yesterday : 513
This Month : 14248
This Year : 62084
Total Visit : 167072
Hits Today : 111
Total Hits : 856476
Who's Online : 1




















