از۔۔۔۔ ظہیرالدین بابر

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کا بھارتی اقدام کو انتہاپسند مودی سرکار کی شکست سے بھی تعبیرکیا گیا ہے ۔ 5 اگست 2019 کو بھارت نے جس طرح سے مسلہ کشمیر کو بھونڈے انداز میں ختم کرنے کی کوشش کی اسے خود بھارت کے باضمیر افراد نے قبول نہیں کیا ، طویل عرصہ تک بھارتی آئین میں 370 اور 35 اے کو خصوصی حیثیت حاصل رہی، مذکورہ دونوں شقوں کی موجودگی میں بالواسطہ یا بلاواسطہ طور یہ تاثر ضرور ملتا تھا کہ شائد بھارت کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی شکل میں مسلہ کشمیر کا حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے مگر اب یہ امید دم توڈ رہی ہے ، دراصل ان آرٹیکلز کی موجودگی میں مقبوضہ کشمیر میں کوئی بھی غیر کشمیری جائیداد نہیں خرید سکتا تھا جو دراصل وادی کو متنازعہ علاقہ ہونے کے تاثر کو مضبوط کرتا تھا ، 5 اگست 1999 کو بی جے پی کی جانب سے دونوں آرٹیکلز کی منسوخی سے بھارت نے عالمی قوانین ہی نہیں سیاسی اور اخلاقی تقاضوں کو بھی پامال کرکے رکھ دیا ، ستم ظریفی یہ ہوئی کہ نئی دہلی کی جانب سے مذکورہ بدترین اقدام کے باوجود اقوام عالم کی جانب ایسا موثر درعمل نہ آیا جس کی بجا طور پر ضرورت تھی، یوں یہ تاثر ایک بار پھر ابھرا کہ دنیا کے طاقتور ممالک بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر بھارت کی پشت پناہی کررہے ہیں، مثلا امریکہ ، برطانیہ ، جرمنی اورفرانس نے ایک مذمتی بیان بھی جاری کرنے کی زحمت نہ کی، یوں پھر تصدیق ہوگئی کہ نئی دہلی اہل مغرب کی آنکھوں کا تارہ ہے ، طاقتور مغربی ممالک بجا طور پر سمجھتے ہیں کہ چین کی بڑھتی ہوئی سیاسی اور معاشی طاقت کو کنڑول کرنے کے لیے اگر کوئی ملک کردار ادا کر سکتا ہے تو وہ بجا طور پر بھارت ہے ، حال ہی میں کینیڈا میں جس طرح خالصتان تحریک کے اہم رہنما کو بھارتی خفیہ ایجنسی کے کارندوں سے قتل کیا وہ بھی مغربی ملکوں کے نئی دہلی کی جانب جھکاو کا منہ بولتا ثبوت ہے ، سوال یہ ہے کہ پاکستان کو کیا کرنا چاہے ، ہم جانتے ہیں کہ دنیا میں شائد پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو کئی دہائیوں سے اہل کشمیر کی سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے ، اسلام اباد بجا طور پر سمجھتا ہے کہ اگر دنیا کو بالعموم اور جنوبی ایشیاء کو بالخصوص امن ، استحکام اور بھائی چارے کا گہوارہ بنانا ہے تو پھر مسلہ کشمیر حل کرنا ہوگا،حیرت ہے کہ اقوام متحدہ اور اہم مغربی ممالک یہ تسلیم کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے کہ دو پڑوسی ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے چلی آنے والی کشیدگی کسی بھی وقت ایٹمی جنگ میں بدل سکتی ہے ، اس حقیقت کا اعتراف نہ کرنا زیادتی ہوگی کہ پاکستان ہی نہیں بلکہ بھارت کے ہوشمند حلقوں میں بھی اس پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ دونوں ملکوں میں کشیدگی کی کوئی بھی صورت ہوجائے مگرایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی نوبت نہیں آنے چاہے ، مقام شکر ہے کہ سرحد کے آرپار یہ احساس موجود ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کا استمعمال مکمل تباہی ہے جس کے بعد کچھ بھی نہیں بچے گا، یہ نقطہ کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہے کہ اب تک پاکستان کی ہرحکومت نے بھارت کے ساتھ بات چیت کی کوشش کی، تاریخی طور پر بی جے پی کی بجائے کانگریس نے ہمیشہ مسلہ کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرینہ تنازعہ تسلیم کیا، اس کے برعکس بھارتیہ جنتا پارٹی نے پانچ اگست 2019 کو جو کچھ کر ڈالا بلاشہ وہ قابل مذمت ہے، اب یہ سوال اور بھی اہمیت کا حامل ہوچکا کہ آخر مسلہ کشمیر کا مستقبل کیا ہے، درپیش صورت حال میں یہ قیاس کرنا مشکل نہیں کہ امریکہ سمیت مغربی ملکوں کی یہ دلیل ہرگز متعبر نہیں کہ تنازعہ کشمیر دراصل پاکستان اور بھارت کے مابین ایسا قضیہ ہے جسے دونوں ملکوں نے خود ہی حل کرنا ہے، مذکورہ پالیسی اس وقت اور بھی افسوسناک کہلاتی ہے جب بااثر مغربی ممالک اپنے مفادات کے لیے “انسانی حقوق” یا پھر “قانون کی سربلندی” کی دہائی تو دیں مگر جب کوئی ایسا معاملہ درپیش آجائے جہاں حقیقی معنوں میں میں ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی ضرورت ہو تو پر خاموش رہا جائے ، یقینا کشمیری قیادت جہاں بھارتی ہٹ دھرمی اور چال بازیوں سے آگاہ ہے وہی اقوام متحدہ سمیت اہم یورپی ملکوں کی لاتعلقی سے بھی بے خبر نہیں، شائد یہی وجہ ہے کہ اہل کشمیر تاحال اپنے زور بازو سے تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں، بھارت کا یہ دعوی ہے کہ 5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں نئے دور کا آغاز ہوا ہے جھوٹ پر مبنی ہے ، نریندری مودی مسلسل دعوے کررہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے حالیہ عام انتخابات میں عوام کی شرکت ہو یا پھر کشمیریوں کا نئی دہلی کے ساتھ جذبہ خیر سگالی سب ہی میں اضافہ ہوا ، دوسری جانب غیر جانبدار مبصرین کا خیال ہے کہ اہل کشمیر میں بدستور خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں چنانچہ آج وادی میں پائی جانے والی خاموشی دراصل قبرستان کی خاموشی ہے جو یقینا کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوگی، تاریخ بتاتی ہے کہ آزادی کی کامیاب تحریکیں کئی مراحل سےگزر کر کامیابی سے ہمکنار ہوا کرتی ہیں ، مذکورہ تحریکوں کو آبشار کے پانی سے تعبیر کیا جاتا ہے جو تمام تر رکاوٹوں اور فاصلوں کے باوجود منزل مقصود پر پہنچ کر ہی دم لیتا ہے ،