راولپنڈی: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ظالم حکمران اشرافیہ مراعات چھوڑنے کے لیے تیار نہیں اور عوام کوکہتے ہیں ظلم برداشت کر لیں، وزیراعظم سن لیں، انھیں پیچھے ہٹنا پڑے گا، قوم کو حق دینا ہوگا۔ ملک گیر پہیہ جام، ڈی چوک، پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا، قومی شاہراہیں بند کرنے سمیت تمام آپشن موجود ہیں، ہمیں تکنیکی پیچیدگیوں میں نہ الجھایا جائے، حکومت کے لیے بہتر یہی ہے کہ جتنی جلدی ہو عوامی مطالبات مان لے، پرامن لوگ ہیں، حالات کی ذمہ داری فارم 47سے مسلط ن لیگ، پی پی اور ایم کیو ایم پر ہو گی، دھرنا جاری رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے دھرنے کے پانچویں روز مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جماعت اسلامی کی مرکزی و صوبائی اور مختلف اضلاع کی قیادت بھی اس موقع پر موجود تھی۔ قبل ازیں انھوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ راولپنڈی دھرنے میں عوام کی بڑی تعداد موجود ہے، پرجوش شرکا نعرے لگائے جا رہے ہیں اور قافلوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، عوام کی جانب سے امیر جماعت کی طرف سے قائم کیے گئے ”حق دو عوام کو عوامی فنڈ“ میں عطیات بھی جمع ہو رہے ہیں۔ امیر جماعت نے شرکا دھرنا کے ڈی چوک میں جانے کے نعروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان شاء اللہ ڈی میں بھی جائیں گے اور ہٹ لگا کر گول بھی کریں گے، اس کے علاوہ دیگر آپشن بھی موجود ہیں، احتجاج رکے گا نہ کوئی کمپرومائز ہو گا، حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے۔ انھوں نے اعلان کیا کہ بدھ کو حکومت سے مذاکرات کا آئندہ راؤنڈ ہو گا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ، گورنرز اور تمام سرکاری اہلکار بڑی گاڑیاں، مفت پٹرول، بجلی اورگیس کی عیاشیاں ختم کریں اور 1300 سی سی گاڑیوں کا استعمال کریں، اس سے قومی خزانہ کو ایک سال میں کم از کم 300ارب کا فائدہ ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ تنخواہ داروں اور اشیائے خورونوش پر ٹیکس کم کیا جائے۔ 20ایکٹر سے زائد زرعی زمین رکھنے والے اپنی آمدن سے معقول حصہ قومی خزانے میں جمع کرائیں، خزانے میں اربوں روپے آئیں گے، اسی طرح سود کی لعنت کو مرحلہ وار ختم کرنے سے تین ہزار ارب کا فائدہ ہو گا۔ امیر جماعت نے کہا کہ آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی کرنا پڑے گی، جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ معاہدوں کو نہیں چھیڑا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ معاہدے کے ایک فریق نے جب شرائط ہی پوری نہیں کیں تو معاہدہ ختم کرنے میں کیا رکاوٹ ہے، آئی پی پیز کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ شہباز شریف اور بلاول مل کر کھا رہے ہیں، یہ لوگ غریب کا دکھ نہیں سمجھ سکتے، ایک شخص کی آمدن سے زیادہ اسے بجلی کا بل آ جاتا ہے، اب یہ ظلم نہیں چلے گا، ہمیں دھوکا مت دو، ہمارے مطالبات کو قبول کرو۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جولوگ دھرنا میں شرکت نہیں کر سکتے وہ سوشل میڈیا پر محاذ سنبھالیں اور عملی جدوجہد میں حصہ لیں۔ لوگ کہتے ہیں اب جینا دو بھر ہو گیا ہے، یہ تحریک جوں جوں آگے بڑھ رہی ہے لوگوں کے لیے امید کا پیغام دے رہی ہے۔ حکومت کہتی ہے ہم آئی ایم ایف کے پروگرام میں شامل ہیں اس لیے ٹیکس لگانا مجبوری ہے، یہ کوئی مجبوری نہیں ہے، مجبوری وزیروں مشیروں کی عیاشیاں اور شاہ خرچیوں پر قوم کے پیسے لگانا ہے۔ اب بتا دینا چاہتے ہیں پچھلے 10 سال میں 9 ہزار ارب روپے کیپسٹی چارجز کی مد میں وصول کرنے کا حساب ہوگا۔ قوم کے ٹیکس کے پیسے سے بڑی بڑی گاڑیوں میں عیاشیاں ہو رہی ہیں۔ بتا دینا چاہتے ہیں اب فری کے پٹرول کا دھندہ نہیں چلے گا، جاگیردارو! سن لو اب یہ جاگیریں غریبوں میں تقسیم کرنا ہوں گی۔ انگریزوں سے وفاداری کے بدلے جاگیروں کے مالک بن گئے اور 96 فیصد کسان ظلم کی چکی میں پس گئے۔ اب منصفانہ اور عادلانہ نظام قائم کرنا ہوگا۔ کارکنان اور قیادت کے مشورے سے تمام صوبائی ہیڈکوارٹرز پر دھرنوں کے بعد ملک گیر ہڑتال کریں گے۔ شہباز شریف صاحب یہ جماعت اسلامی ہے، ہم نکل پڑے ہیں ہمیں اپنے لیے کچھ نہیں چاہیے ہم قوم پر ہونے والے ظلم کے لیے نکلیں گے۔ انھوں نے کہا کہ2019ء میں آئی پی پیز سے معاہدے ریوائز نہیں ہوئے، سچ تو یہ ہے اس بہتی گنگا میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ اور دیگر نے ہاتھ دھوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی بلوں سے ہر شخص پس گیا ہے، سندھ کے گوٹھ اور دیہاتوں میں رہنے والے بھی پس گئے ہیں، پنجاب، کے پی اور بلوچستان والے بھی پریشان ہیں۔ 15 سال سے سندھ پر حکومت کرنے والی پیپلز پارٹی بتائے صوبے کا کیا حال کر دیا ہے، پورے صوبے کا نظام تباہ ہے، کراچی بے یارو مددگار ہے۔ بلوچستان کا حال دیکھ لو،حکومت سے کہتا ہوں لوٹنا چھوڑو، کسانوں کو اپنا حق دو، مزدوروں کو اپنا حق دو، لوگوں کو جینے دو، لوگوں کی زندگی کا حق دو اور جینے دو۔