تحریر: محمد جمیل شاہین راجپوت

افسر شاہی بہتر یا رہنما بہتر ہے۔ یہ لکھنے سے پہلے رہنما اور افسر یعنی منیجمنٹ کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔
رہنما ۔ LEADER ۔ رہنما وہ ہوتا ہے جسے دیکھ کر کام کرنے کی لگن پیدا ہو جائے۔
رہنما یا لیڈر وہ شخص ہوتا ہے جو لوگوں کو ایک مشترکہ مقصد یا ہدف کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ایک مؤثر رہنما کی خصوصیات درج ذیل ہوتی ہیں

1. *بصیرت*: رہنما کو واضح اور دور اندیش نظر ہونا چاہیے تاکہ وہ مستقبل کے مسائل اور مواقع کو پہچان سکے۔
2. *مواصلات کی مہارت*: اپنے خیالات اور منصوبوں کو مؤثر طریقے سے بیان کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔
3. *ایمانداری اور دیانت*: سچائی اور دیانت داری کے ساتھ کام کرنا اور لوگوں کا اعتماد جیتنا۔
4. *فیصلہ سازی کی صلاحیت*: مشکل حالات میں جلد اور صحیح فیصلے کرنے کی اہلیت۔
5. *تحمل و برداشت*: مشکل اور تناؤ والے حالات میں تحمل اور صبر کا مظاہرہ کرنا۔
6. *حوصلہ افزائی*: ٹیم کے اراکین کو متحرک اور پرجوش رکھنے کی صلاحیت۔
7. *مثبت رویہ*: ہمیشہ مثبت رہنا اور دوسروں کو بھی مثبت رہنے کی ترغیب دینا۔
8. *خود اعتمادی*: اپنے فیصلوں اور اقدامات پر یقین رکھنا۔
9. *لچک*: مختلف حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت۔
10. *اچھی سننے کی مہارت*: دوسروں کی باتوں کو غور سے سننا اور سمجھنا۔

یہ خصوصیات ایک رہنما کو کامیاب بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

اب افسر کے بارے میں جانتے ہیں۔
افسر وہ شخص ہوتا ہے جو کسی ادارے، تنظیم یا محکمہ میں انتظامی یا سپروائزری عہدے پر فائز ہوتا ہے۔ افسر کی خصوصیات درج ذیل ہوتی ہیں:

1. *پیشہ ورانہ مہارت*: اپنے شعبے میں مکمل مہارت اور تجربہ رکھنا۔
2. *انتظامی صلاحیت*: منصوبہ بندی، تنظیم، اور انتظامی کاموں کو بخوبی انجام دینا۔
3. *قائدانہ صلاحیت*: ٹیم کی قیادت کرنا اور انہیں مختلف کاموں میں رہنمائی فراہم کرنا۔
4. *وقت کی پابندی*: وقت کی پابندی اور موثر طریقے سے کاموں کو مکمل کرنا۔
5. *تحقیق و تجزیہ*: مسائل کو سمجھنے اور ان کا حل نکالنے کے لئے تحقیق اور تجزیہ کرنا۔
6. *فیصلہ سازی کی صلاحیت*: فوری اور درست فیصلے کرنے کی صلاحیت۔
7. *مواصلات کی مہارت*: مؤثر طریقے سے بات چیت کرنا اور اپنے خیالات کو واضح طور پر بیان کرنا۔
8. *ایمانداری اور دیانت*: سچائی اور دیانت داری سے کام کرنا۔
9. *معلومات کا بروقت استعمال*: دستیاب معلومات کو بروقت اور درست طریقے سے استعمال کرنا۔
10. *استقامت*: مشکلات اور دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے اپنے فرائض کو انجام دینا۔

یہ خصوصیات ایک افسر کو اپنے فرائض کو بہتر طریقے سے نبھانے اور ادارے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
ایک واقعہ ۔ ایک دفعہ آدمی کسی جگہ سے گزر رہا تھا، راستہ میں ایک درخت گرا پڑا تھا راستہ بند تھا، تین آدمی درخت ہٹانے کے لئے زور لگا رہے تھے، ایک آدمی سائیڈ پر کھڑا حکم دے رہا تھا اسکے ہاتھ میں چھڑی تھی اور وہ چھڑی کے اشارے سے کہ رہا تھا اسے یوں کرلو، مگر درخت ہلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا، اس آدمی نے سوچا کہ اگر یہ حکم دینے والا شخص ان تینوں کی مدد کرے تو درخت ضرور ہٹ جائے گا، یہ بات اس شخص نے اس افسر سے کہی کہ اگر وہ ان تینوں کی مدد کرے تو درخت ہٹ جائے گا، مگر وہ شخص کہتا ہے کہ میں ان مزدوروں کے ساتھ کیونکر کام کرسکتا ہوں، یہ تو میری توہین ہے، اس پر اس شخص نے ان تینوں کی مدد کی اور درخت سائیڈ پر ہٹ گیا، پھر اس شخص نے اپنی جیب سے کارڈ نکالا اور اس افسر کو دیکر کہا میرا نام ونسٹن چرچل ہے اور میں وزیراعظم ہوں، تمہیں جب بھی میری ضرورت پڑے تو مجھے بلا لینا مجھے مزدوروں کے ساتھ کام کرکے خوشی ہوگی،
یہ ہوتی ہے لیڈرشپ ، یا رہنمائی۔ میری بات یہیں ختم نہیں ہوتی، زندگی کی دوڑ میں دونوں کردار ضروری ہیں، ایسا افسر جس میں رہنما بننے کی خصوصیات موجود ہوں تو وہ کامیاب شخص کہلاتا ہے اور اسے مزدور سمیت سب لوگ پسند کرتے ہیں، مگر اگر صرف افسر دکھائی جائے تو ہوسکتا کے مطلوبہ نتائج تو مل جائیں مگر دلوں میں عزت نہیں ملتی، منزل بھی انہیں لوگوں کو ملتی ہے جو افسر کے ساتھ ساتھ اچھے رہنما بھی ہوتے ہیں۔

تحریر
محمد جمیل شاہین راجپوت
تجزیہ نگار و کالم نگار