ملتان :  نشتر ہسپتال سے آرتھوپیڈک اور نیورو سرجری جیسے اہم ترین وارڈز کو ختم کر کے نشتر 2 میں منتقل کرنے کے خلاف معصوم شاہ روڑ اور 9 نمبر چونگی پر بھر پور احتجاجی مظاہرے کیے گے ۔ مظاہرین نے پینا فلیکس اٹھا رکھے تھے جن پر نشتر سے اہم ترین وارڈز کو نشتر 2 میں منتقل کرنے کے خلاف اور سرائیکی وسیب کے ممبران اسمبلی کی خاموشی کے خلاف نعرے درج تھے ۔معصوم شاہ روڑ پر مظاہرے کی قیادت چیئرمین سرائیکستان نوجوان تحریک مہر مظہر عباس کات،زاہد خان بلوچ ،گل حسن سومرو، سید ذیشان حیدر شاہ نے کی۔نونمبر چونگی پر احتجاجی مظاہرے کی قیادت ملک اصغر اوبھایا ,ملک آصف اعوان نے کی ۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مہر مظہر عباس کات و دیگر راہنماؤں نے کہا کہ نشتر ہسپتال ملتان کے وسط میں ہے وسیب کے ہر طرف سے آنے والے مریض بآسانی نشتر پہنچ جاتے اور بروقت علاج ہو جاتا ہے جبکہ نشتر ٹو ملتان شہر کے وسط سے تیس کلو میٹر دور ہے جو ہیڈ محمد والا اور خانیوال روڑ سے آنے والے مریضوں کی بروقت پہنچ سے دور ہے ۔ سرائیکی راہنما  صابر خان بلوچ نے کہا کہ کوئی نیا ہسپتال بنتا ہے تو پہلے سے موجود ہسپتال کے وارڈز ختم نہیں کر دیے جاتے جیسے کارڈیالوجی اور چلڈرن بننے سے نشتر سے دل اور بچوں کے وارڈ ختم نہیں کیے گے۔سرائیکی راہنماؤں نے وسیب کے ممبران اسمبلی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری اس نوٹیفکیشن کو ختم کروائیں ورنہ ہر ممبر کا پتلا جلا کر اس کے گھر کے باہر دھرنا دینگے ۔مظاہروں میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔