جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل
اسلام آباد: جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا۔حکومت اور جماعت اسلامی کی ٹیموں کے درمیان کمشنر ہاؤس راولپنڈی میں مذاکرات ہوئے۔حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی قیادت وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کی اور کمیٹی میں امیر مقام، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور تاجر رہنما کاشف چوہدری شامل تھے۔ کمشنر راولپنڈی اور ڈپٹی کمشنر راولپنڈی حسن وقار چیمہ بھی حکومتی وفد کے ہمراہ تھے۔جماعت اسلامی کی 4 رکنی مذاکراتی ٹیم نے نائب امیر لیاقت بلوچ کی سربراہی میں مذاکرات کیے۔ جماعت اسلامی نے حکومت سے مطالبہ یہ کیا ہے کہ بجلی بل میں 500 یونٹ تک ماہانہ استعمال کرنے والے صارفین کو بل میں 50 فیصد رعایت دی جائے اور پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی ختم کی جائے۔ جماعت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ فوری واپس لینے اور اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں 20 فیصد کمی لانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اسٹیشنری آئٹمز سمیت بچوں کی تعلیم و تربیت سے متعلق تمام آئٹمز پر ٹیکس واپس لینے کا مطالبہ بھی جماعت اسلامی کی پیش کردہ فہرست میں شامل ہے۔ علاوہ ازیں جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ اشرافیہ کی عیاشیاں عوام کے لیے ناقابلِ برداشت ہیں اس لیے غیر ترقیاتی اخراجات پر 35 فیصد کٹ لگایا جائے اور آئی پی پیزکے ساتھ کیپیسٹی پیمنٹ اور ڈالر میں ادائیگی کا معاہدہ ختم کیا جائے۔ جماعت اسلامی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زراعت اور صنعت پر ٹیکسوں کا ناجائز، ناقابلِ برداشت بوجھ 50 فیصد کم کیا جائے اور صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کو یقینی بنایا جائے تاکہ معاشی پہیہ چلے اور نوجوانوں کو روزگار ملے۔ جماعت اسلامی نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ غریب تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا ظالمانہ بوجھ واپس لیا جائے اور مراعات یافتہ طبقہ سے ٹیکس وصول کیا جائے۔







































Visit Today : 178
Visit Yesterday : 513
This Month : 14401
This Year : 62237
Total Visit : 167225
Hits Today : 847
Total Hits : 857212
Who's Online : 5




















