اسلام آباد:  وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر پابندی کا معاملہ مؤخر کردیا گیا جبکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان، عارف علوی، قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی پر بھی فیصلہ نہ ہوسکا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا، جس میں 6 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں پی ٹی آئی پر پابندی، سابق صدر عارف علوی، بانی چیرمین پی ٹی آئی عمران خان اور سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل 6 لگانے کا معاملہ بھی زیر غور آیا تاہم کابینہ نے پی ٹی آئی پر پابندی اور آرٹیکل 6 کا معاملہ مؤخر کردیا۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے معاملے پر پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں سے مشاورت کا فیصلہ کیا جس کے بعد معاملہ کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔کابینہ اجلاس میں سیکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) ایکٹ 1997 کے تحت خصوصی عدالتوں کے قیام کی سمری پر غور کیا گیا۔ وفاقی کابینہ نے دوست ممالک کے کاروباری افراد اور شہریوں کو ویزا فری انٹری کی منظوری دے دی، وزارت داخلہ کی سمری پر 126 ممالک کے باشندوں کو ویزا فری انٹری کی منظوری دی گئی ہے، ان ممالک کے لیے ڈیجیٹل ویزا دینے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں پائیدار ترقیاتی منصوبہ جات کے لیے پاکستان ڈنمارک میں ایم او یو پر دستخط کی منظوری دی گئی، متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین کی تعیناتی کی منظوری دی گئی۔اس کے علاوہ، نجکاری کمیشن کے بورڈ کے اراکین کی تعداد میں اضافے کی سمری پر بھی غور کیا گیا جبکہ 22-2021 اور 23-2022 کے لیے پالیسیوں پر عملدرآمد کی رپورٹ کابینہ کو پیش کی گئی۔ بعدازاں وزیراعظم شہبازشریف نے کابینہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کا واقعہ کرنے والوں نے ملک کی بنیادیں ہلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اس ٹولے نے پارلیمنٹ پر بھی حملہ کیا تھا، یہ ٹولہ پر امن شہریوں اور پاک فوج کے خلاف ہے، یہ ٹولا مختلف ہتھکنڈوں سے نئی وارداتیں کررہا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ فلسطین میں انسانی سوز مظالم ڈھائے جارہے ہیں، 40 ہزار فلسطینی مسلمان شہید ہوچکے، شہید ہونے والوں میں ہزاروں بچے بھی شامل ہیں، فلسطین میں ڈھائے جانے والےمظالم کی مثال نہیں ملتی۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ عالمی عدالت نے بھی فلسطین میں مظالم کو بدترین قرار دیا، اسرائیلی حکومت پر سلامتی کونسل کی قراردادوں کا اثر نہیں ہورہا، ایس سی او کانفرنس میں معاملے کو بھرپور انداز میں اٹھایا، عالمی اداروں نے اسرائیلی بربریت کے خلاف قراردادیں منظور کیں۔ وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستان کے بعض سفارتخانوں پر حملے ہوئے، جرمنی اور دیگر جگہوں پر واقعات ریکارڈ پر آئے، سفارتخانوں کی حفاظت یقینی بنانا ہمارا فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ کی کاوشوں سے ویزا رجیم میں مثبت تبدیلی لے کر آئے، 126ممالک سے ویزا فیس نہیں لی جاتی، پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایز آف بزنس کے تحت مراعات دینی چاہئیں، ویزا پالیسی کے حوالے سے کابینہ میں منظوری دے گی، ویزا پالیسی میں نرمی کے فیصلے سے پاکستان پرکشش مقام بن گیا، باہر سے آنے والوں کے لیے 24 گھنٹے کے اندر ویزے کی سہولت فراہم کی جائے گی، اقدام سے مذہبی سیاحت کو فروغ ملے گا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں بڑے پیمانے پر معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوگا، ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا، بلوچستان اور کے پی میں دہشت گردی بڑھی، بڑی تعداد میں ہمارے جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، پاکستان میں منظم سازش کے تحت دہشت گردی ہورہی ہے، ملک میں غریب آدمی مہنگائی سے پریشان ہے۔ شہبازشریف نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ کیا ہے، ملک کی قسمت بدلنے کے لیے اقدامات اٹھارہے ہیں، تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر کوششیں کررہے ہیں، ملک میں دہشت گردی کی لہر افسوسناک ہے، دہشت گردی میں ہمسائے ممالک کا کردار ہے، ہم نے ان کے لوگوں کو 40 سال تک مہمان رکھا، مہمان نوازی کا یہ بدلہ دیاکہ ٹی ٹی پی ہم پر حملے کررہی ہے، ہم اپنے شہریوں کو دہشت گردوں سے بچانے کے لیے تیار ہیں، کسی صورت مادر وطن کے خلاف کوئی اقدام برداشت نہیں کریں گے، ہم چاہتے ہیں کہ معاملات امن و مذاکرات سے طے ہوجائیں، خطے میں امن ہوگا تو ترقی اور خوشحالی آئے گی۔ واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا منگل کو ہونے والا اجلاس ملتوی کر دیا گیا تھا۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں نجکاری کمیشن کے ارکان کی تعداد میں اضافے کی سمری بھی پیش ہوگی۔