ملتان (صفدربخاری سے) جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا اپریشنل ہونا خوش آئند مگر سیکرٹریٹ کے بےاختیار ہونے پر عوام سراپائے حیرت ہیں۔۔جہاں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو فعال کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کی پسماندگیوں کو دور کرنے کے لیے واضح امکانات نظر آرہے ہیں وہیں ان افیسران کو اختیارات بھی سونپنا مسائل کا اصل حل ہے۔۔۔ان خیالات کا اظہار مرکزی چیئرمین نیشنل تاجر اتحاد پاکستان میاں امتیاز احمد شیخ نے رواں ماہ کے آخر میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ فعال ہونے کے حوالے سے کیا۔۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت نے جنوبی پنجاب کی محرومیوں کو دور کرنے اور عوامی مسائل کو لاہور کی بجائے سرزمین ملتان پر حل کرنے کے لیے پسماندہ عوام کا دیرینہ مطالبہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ منظور کیا مگر افسوس کی بات ہے کہ موجودہ عوامی حکومت کا کریڈٹ لینے والے حکمران اس محرومی کو بجائے ختم کرنے کے غلامی کا طوق ہنوز ڈالے رکھنا چاہ رہے ہے۔ اگر جنوبی پنجاب کے عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے لاہور ہی کا رخ کرتی ہے تو ملتان میں جنوبی پنجاب کا سیکٹریٹ۔ متعلقہ عملہ۔ اہلکاران اور بھاری بھرکم بجٹ سوائے عوام کی کمر توڑنے اور ان کے کندھوں پربوجھ بننے کے اور سود مند نہیں ہوگا۔۔انہوں نے کہا کہ تاجرطبقہ کے بے بہا مسائل صرف جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ فعال ہونے سے ملتان ہی میں حل ہو جائیں گے ۔جہاں عام شہری اس سوتیلے سلوک پر ورطہءحیرت ہے وہیں تاجر برادری بھی ان مشکلات کے ہنوز رہنے اور درپیش ۔سائل کے حل کے لئے لاہور کوہی ترجیح دئے جانے پر سراپا احتجاج ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مطالبہ کے ساتھ تاجر برادری بھی یہ مطالبہ کرتی ہے کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ مکمل داخلی اختیارات کے ساتھ فعال کیا جانا عوامی امنگوں کے عین مطابق اور جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع کی پسماندگیوں کو دور کرنے کا واحد حل ہوگا