راولپنڈی:   190 ملین پاونڈ ریفرنس کی سماعت اڈیالہ جیل میں احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ نے کی، ریفرنس کے گواہ سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک عدالت میں پیش ہوئے۔پرویز خٹک نے عدالت کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرایا، اس موقع پر بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔پرویز خٹک کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ نیب نے مئی 2023 میں مجھ سے 190ملین پاونڈ کے حوالے سے بیان لیا، شہزاد اکبر نے کابینہ کو بتایا تھا کہ پاکستانی سے غیر قانونی طور پر باہر بھجوائی گئی بڑی رقم برطانیہ میں پکڑی گئی، شہزاد اکبر نے بتایا کہ پکڑی گئی رقم پاکستان کو واپس کی جائے گی۔سابق وفاقی وزیر نے عدالت کو اپنے بیان میں بتایا کہ یہ معاملہ کابینہ کے ایجنڈے پر نہیں تھا، میٹنگ میں اضافی ایجنڈے کے طور پر سامنے لایا گیا، اضافی ایجنڈے پر مجھ سمیت دیگر کابینہ اراکین نے اعتراض کیا تھا، کابینہ میں رقم کے حوالے سے کاغذات بند لفافے میں پیش کئے گئے، اضافی ایجنڈے کی منظوری کابینہ سے لی گئی۔پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ریفرنس کے تفتیشی افسر نے بتایا کہ ایجنڈے کے ساتھ ایک تحریر بھی تھی۔آج کی سماعت میں ایک گواہ پر جرح مکمل اور ایک گواہ کا بیان قلمبند ہوا، عدالت نے ریفرنس کی سماعت 13 جولائی تک ملتوی کر دی۔ یاد رہے کہ چند روز قبل وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے مانسہرہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا پرویز خٹک کو عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کے لئے بلایا گیا ہے، اگر پرویز خٹک نے عمران خان کے خلاف بیان دیا تو انہیں صوبے میں نہیں رہنے دیں گے۔علی امین گنڈا پور کے بیان پر پرویز خٹک نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ علی امین مجھے اور میں علی امین کو اچھی طرح جانتا ہوں، علی امین گنڈا پوربڑہکیں نہ ماریں، نیب نے نوٹس بھیج کر بلایا ہے، کسی کے خلاف بیان نہیں دوں گا لیکن جو کچھ اس وقت کابینہ میں ہوا وہ بیان کروں گا۔