اسلام آباد: حکومت نے ماہانہ 200 یونٹ تک صارفین کے لیے بجلی کی قیمت بڑھانے کا فیصلہ واپس لینے کی تجویز دی ہے۔ ذرائع کے مطابق ماہانہ 200 یونٹ کے پروٹیکڈ اور نان پروٹیکڈ صارفین کے لیے ٹیرف میں اضافہ واپس لینے کی تجویز کی گئی ہے وزیراعظم نے ہنگامی بنیادوں پر سمری کی وفاقی کابینہ سے منظوری لینے کی ہدایت کر دی۔ جولائی تا ستمبر 2024 کے لیے ماہانہ 200 یونٹ تک والے صارفین کو ریلیف دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ وفاقی حکومت ٹیرف پر ریلیف دینے کے لیے تقریباً 50 ارب روپے کی سبسڈی دے گی۔ وفاقی کابینہ نے بجلی کے فی یونٹ بنیادی ٹیرف میں 7 روپے 12 پیسے تک اضافہ منظور کیا تھا۔ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کا اطلاق یکم جولائی 2024 سے کرنے کی تجویز ہے۔ ماہانہ 50 یونٹ تک لائف لائن صارفین کے لیے فی یونٹ ٹیرف 3.95 روپے اور ماہانہ 51 سے 100 یونٹ تک لائف لائن صارفین کے لیے فی یونٹ ٹیرف 7.74 روپے برقرار رہے گا۔ اس سے قبل کابینہ نے 200 یونٹ تک پروٹیکڈ اور نان پرویکٹڈ صارفین کے لیے اضافہ منظور کیا تھا۔ ایک سے 100 یونٹ تک پروٹیکڈ صارفین کے ٹیرف میں 3.95 روپے اضافہ منظور کیا گیا تھا جبکہ ماہانہ 101 سے 200 یونٹ تک پروٹیکڈ صارفین کا ٹیرف 4.10 روپے بڑھانے کی منظوری دی گئی تھی۔ اسی طرح، ماہانہ ایک سے 100 یونٹ نان پروٹیکڈ صارفین کے ٹیرف میں 7.11روپے اضافہ منظور کیا گیا تھا جبکہ ماہانہ 101 سے 200 یونٹ نان پروٹیکڈ صارفین کے ٹیرف میں 7.12 روپے اضافہ منظور کیا گیا تھا۔ دوسری جانب، وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کرلیا جس میں بجلی صارفین کو ریلیف دینے کی منظوری دی جائے گی۔ اجلاس میں معاشی صورتحال کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔