نیروبی:  مہنگائی اور ٹیکسوں میں اضافے پرکینیا میں حکومت مخالف مظاہرے شدت اختیار کرگئے۔ ہلاکتوں میں اضافے اور ہنگامہ آرائی کو روکنے میں پولیس کی ناکامی پر فوج کو طلب کرلیا گیا۔  کینیا میں حکومت کی جانب سے نئے ٹیکسوں کے نفاذ پر عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور سیکڑوں کی تعداد میں احتجاجی مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ کے کچھ حصوں کو آگ لگا دی اور سڑکوں پر ٹائر جلا کر ٹریفک معطل کردی۔ کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے براہ راست گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 13 سے تجاوز کرگئی جب کہ 100 سے زائد زخمی ہیں۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے پٹرول بم پھینکے اور گولیاں چلائیں جس کے جواب میں پولیس اہلکاروں کو اپنے دفاع میں فائرنگ کرنا پڑی۔ کینیا کے صدر ولیم روٹو نے ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے فوج کو طلب کرلیا۔ پارلیمنٹ سمیت اہم عمارتوں کی سیکیورٹی اب فوج کے حوالے کردی گئی۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ تقریباً 10 ٹریلین شلنگ ($ 78 بلین) کے قرض کی ادائیگی کرنی ہے جو کینیا کی جی ڈی پی کے تقریباً 70 فیصد کے برابر ہے۔ عوامی دباؤ کے پیش نظر کئی ٹیکسوں جیسے روٹی کی خریداری، کار کی ملکیت اور موبائل سروسز کو واپس لے لیا تاہم حکومت اب ایندھن کی قیمتوں اور برآمدی محصولات میں اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کینیا کی وزارت خزانہ نے 200 بلین شیلن کے بجٹ خسارے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔