ڈومیسٹک ورکرز
خاموش محنت حقوق سے محروم

تحریر: ایس پیرزادہ
ہمارے گھروں میں صبح سب سے پہلے جاگنے والے اور رات سب سے آخر میں سونے والے اگر کوئی ہیں تو وہ ڈومیسٹک ورکرز ہیں وہ لوگ جو ہمارے برتن دھوتے ہیں جھاڑو پونچھا کرتے ہیں بچوں کو سنبھالتے ہیں بزرگوں کی خدمت کرتے ہیں اور ہمارے گھروں کو قابلِ رہائش بناتے ہیں جن کی ایک دن کی غیر حاضری سب کو مشکل میں ڈال دیتی ہے مگر افسوس کہ وہی طبقہ سب سے زیادہ غیر محفوظ سب سے زیادہ نظر انداز اور سب سے زیادہ استحصال کا شکار ہے یہ وہ مرد و خواتین ڈومیسٹک ورکرز ہیں جو سردیوں میں اس وقت بستر چھوڑتے ہیں جب لحاف سے نکلنے کو دل نہیں چاہتا یخ بستہ صبح میں وہ اپنے بچوں کے کام نمٹاتے ہیں گھر سنبھالتے ہیں اور پھر کانپتے ہاتھوں کے ساتھ دوسروں کے گھروں کی طرف نکل پڑتے ہیں جہاں کام ختم کر کے اسی ٹھنڈ میں واپس لوٹتے ہیں شدید گرمیوں میں جب ہم ایئرکنڈیشنڈ کمروں سے باہر نکلنے سے کتراتے ہیں یہ ڈومیسٹک ورکرز چلچلاتی دھوپ میں سڑکوں پر سفر کرتے ہیں جلتے فرش اور تپتی فضا میں آتے جاتے ہیں کیونکہ ان کی ایک دن کی غیر حاضری ان کے بچوں کے خالی برتن بن سکتی ہے ڈومیسٹک ورکرز کو نہ تو باقاعدہ ملازم سمجھا جاتا ہے اور نہ ہی مکمل انسان ان سے طویل اوقات تک کام لیا جاتا ہے اجرت انتہائی کم دی جاتی ہے اور اگر وہ بیمار ہو جائیں تو علاج کی ذمہ داری کوئی لینے کو تیار نہیں ہوتا نہ ان کے پاس ہیلتھ کارڈ ہے نہ میڈیکل سہولت نہ کوئی تحفظ مسلسل محنت کیمیکلز کا استعمال اور ذہنی دباؤ ان کی صحت کو خاموشی سے تباہ کر دیتا ہے مگر ان کی بیماری بھی اکثر انہی کا قصور بنا دی جاتی ہے
اس سے بھی زیادہ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ڈومیسٹک ورکرز صرف معاشی استحصال ہی نہیں بلکہ جسمانی اور ذہنی تشدد کا بھی شکار بنتے ہیں کئی کیسز میں انہیں مارا پیٹا گیا ذلیل کیا گیا بال کاٹے گئے قید رکھا گیا اور بعض واقعات میں جنسی زیادتی جیسے سنگین جرائم بھی سامنے آئے یہ وہ لوگ ہیں جو خوف اور غربت کے باعث اکثر خاموش رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ایسے حالات میں پاکستانی یونائٹڈ ورکرز فیڈریشن ایک امید بن کر سامنے آئی ہے پی یو ڈبلیو ایف کے سینئر رہنما اور بانیوں میں شامل چوہدری ظہور نے محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد کو بنیاد دی اور ایک مضبوط راستہ دکھایا آج یہ ذمہ داری نئی قیادت کو منتقل کر کے انہوں نے خود ایک مثبت مثال قائم کی ہے
یہ ذمہ داری اب چوہدری سعد کے پاس ہے جو کم عمر مگر نہایت متحرک اور باشعور نوجوان رہنما ہیں وہ ہر پلیٹ فارم پر محنت کشوں خصوصاً مرد و خواتین ڈومیسٹک ورکرز کے لیے مضبوط اور واضح آواز اٹھا رہے ہیں ان کے ساتھ مختیار اعوان صاحب کی مسلسل محنت اور جدوجہد بھی اس تحریک کو تقویت دے رہی ہے ملتان میں بطور پریزیڈنٹ ڈومیسٹک ورکرز اور پی یو ڈبلیو ایف کی وائس چیئرپرسن میں اس پلیٹ فارم سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف سے پُرخلوص گزارش کرتی ہوں کہ جس طرح مختلف شعبوں میں بڑے منصوبے فلاحی پروگرام اور ترقیاتی کام کیے گئے ہیں اسی طرح ڈومیسٹک ورکرز کے لیے بھی واضح پالیسی بنائی جائے ان کے لیے ہیلتھ سہولتیں میڈیکل کارڈ انسانی حقوق کا تحفظ اور ایک باعزت نظام متعارف کرایا جائے تاکہ یہ طبقہ بھی ریاست کی توجہ اور تحفظ محسوس کر سکے یہ لوگ صدقہ یا ہمدردی نہیں مانگتے یہ صرف وہ حق مانگتے ہیں جو ہر محنت کرنے والے انسان کا حق ہے جب تک گھروں میں کام کرنے والے مرد و خواتین ڈومیسٹک ورکرز محفوظ نہیں ہوں گے تب تک ہمارا معاشرہ بھی محفوظ نہیں ہو سکتا اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ان کی خاموش محنت کو تسلیم کریں اور عملی اقدامات کے ذریعے ان کے ساتھ کھڑے ہوں کیونکہ انصاف کے بغیر ترقی ادھوری رہتی ہے
آخر میں سلام پیش کرتی ہوں ان تمام مرد و خواتین کو جو یہ ذمہ داری انجام دے رہے ہیں مگر اپنے حق سے محروم ہیں اس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے