اس بار اسمبلیاں بیچی و خریدی گئیں ‘ مولانا فضل الرحمان
” اس بار اسمبلیاں بیچی و خریدی گئیں ‘ مولانا فضل الرحمان “
تحریر: ملک ارشد اقبال بھٹہ
مولانا صاحب بتائیں ایسا کب نہیں ہوا ؟
° آپ کے بڑوں نے بھٹو کے خلاف تحریک کے عوض کتنے ڈالر لئے اور بھٹو کو پھانسی کا مطالبہ کس مذہبی جماعت نے کس قیمت پر کیا ؟
° بینظیر بھٹو کی حکومت گرانے کے لئے کس کس نے رقوم حاصل کیں ؟
° اسامہ بِن لادن سے کس نے بھاری رقم لی ؟
° چھانگا مانگا الیکشن کتنے میں بیچا و خریدا گیا ؟
° جھرلو الیکشن کتنے میں بکا ؟
°مشرف دٙور میں متحدہ مجلس عمل نے کے پی کے الیکشن و حکومت کتنے میں خریدے ؟
قومی اسمبلی میں آپ کو اپوزیشن لیڈر کس قیمت پر بنایا گیا ؟
2018 کا الیکشن کتنے میں بکا اور کس نے خریدا ‘ اس کے سارے سہولت کاروں نے کیا کیا وصول کیا ؟؟
اس مُلک میں کب کیا نہیں بیچا و خریدا گیا ‘ آپ آج بھی خریدنے والوں کا ذکر تو کر رہے ہیں مگر بیچنے والوں کا نام لیتے آپ کے پر جلتے ہیں ‘
حضور اس مُلک میں ” تابعداری ٹھیکیداری ” نظام رائج ہے جس کے تحت الیکشن سے قبل باقاعدہ بولی لگتی ہے اور جو سیاسی جماعت ” زیادہ تابعداری” کی حامی بھرتی ہے اسے ” محدود مراعات و اختیارات ” اور مطلوبہ” ٹاسک ” کے ساتھ ٹھیکہ دے دیا جاتا ہے ‘ ظاہر ہے بھاری سرمایہ کاری کرنے والوں نے ریاست کے مدد و تعاون سے بھاری منافع بھی کمانا ہوتا ہے اور وہ ایسا کرنے میں خود کو حق بجانب بھی سمجھتے ہیں ‘ جب ٹھیکہ دینے والے دیکھتے ہیں کہ ان کی منشا و مرضی کے مطابق مطلوبہ نتائج نہیں مل رہے تو وہ ایک دو بار تنبیہہ کے بعد یکطرفہ طور پر ٹھیکہ کینسل کر کے ٹھیکیدار کو اس ضمانت کے ساتھ فارغ کر دیتے ہیں کہ تھوڑی بہت سرزنش کے علاوہ انہیں کوئی ” بڑی سزا ” نہیں دی جائے گی اور یوں ” نیا ٹھیکیدار ” تابعداری کی نئی شرائط کے ساتھ مسلط کر دیا جاتا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ سب کچھ اسلام ‘ ریاستِ مدینہ اور بیچارے غریب عوام کے نام پر ” اسلام آباد ” کے لئے کیا جاتا ہے ۔۔۔




































Visit Today : 147
Visit Yesterday : 634
This Month : 15545
This Year : 63381
Total Visit : 168369
Hits Today : 1936
Total Hits : 867102
Who's Online : 2




















