پاکستان ہمیشہ زندہ باد افواج پاکستان پائندہ باد

استحکام وطن کی داستان قیادت،
سیسہ پلائی دیوار قربانی حکمت عظمت اور وقار

تحریر: شگفتہ بھٹی

افواجِ پاکستان دراصل ایک ایسی ڈھال ہیں جس کے پیچھے پوری قوم خود کو محفوظ محسوس کرتی ہے۔ یہ صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ قربانی فرض شناسی اور وطن سے غیر متزلزل محبت کی وہ داستان ہے۔ جو ہر دور میں نئی نسلوں کو حوصلہ اعتماد اور وفاداری کا سبق دیتی آئی ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی وطنِ عزیز کو داخلی انتشار، بیرونی دباؤ یا علاقائی کشیدگی کا سامنا ہوا افواجِ پاکستان نے ایک مضبوط حصار کی صورت میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، تاہم موجودہ دور اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ کیونکہ یہ صرف روایتی جنگوں یا سرحدی خطرات کا زمانہ نہیں بلکہ سفارتی دباؤ، معاشی بے یقینی، دہشت گردی، اطلاعاتی جنگ اور خطے میں بدلتے عالمی اتحادوں کا دور بھی ہے ۔ ایسے پیچیدہ ماحول میں جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی عسکری و سفارتی سمت نے ایک نئی سنجیدگی اور توازن کے ساتھ خود کو منوانے کی کوشش کی ، یہ دور محض عسکری طاقت کے اظہار تک محدود نہیں رہا بلکہ قومی سلامتی کو سفارت کاری داخلی استحکام اور علاقائی توازن کے ساتھ جوڑنے کی کوشش بھی نمایاں رہی ۔
جنرل عاصم منیر نے ایسے وقت میں پاک فوج کی کمان سنبھالی جب پاکستان کو بیک وقت کئی چیلنجز درپیش تھے۔ ایک طرف دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھانا شروع کیا تو دوسری جانب مشرقی اور مغربی سرحدوں پر حساس صورتحال بھی موجود تھی ۔ جبکہ اندرونی سیاسی کشیدگی اور معاشی دباؤ نے ریاستی نظم کو بھی متاثر کیا ہوا تھا۔ ان حالات میں افواجِ پاکستان نے داخلی سلامتی کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں تیزی لائی اور ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں کی گئیں اور کئی اہم شدت پسند عناصر کو ختم کیا گیا ۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد صرف وقتی ردِعمل نہیں بلکہ ریاستی رٹ کو مستحکم کرنا تھا
مغربی سرحد پر افغانستان کی بدلتی صورتحال بھی پاکستان کے لیے ایک بڑا امتحان رہی سرحدی دراندازی دہشت گرد حملوں اور غیر یقینی حالات کے باوجود پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر نہ صرف اپنی دفاعی تیاری برقرار رکھی بلکہ سفارتی رابطوں کو بھی اہمیت دی یہی توازن موجودہ عسکری قیادت کے اندازِ فکر کی اہم خصوصیت سمجھا گیا، جہاں طاقت اور تدبر کو ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ تکمیلی قوتوں کے طور پر دیکھا گیا مشرقی سرحد پر بھارت کے ساتھ کشیدگی کے ماحول میں بھی افواجِ پاکستان نے دفاعی تیاری، فوری ردِعمل اور عسکری ہم آہنگی کا واضح مظاہرہ کیا ۔ جدید جنگی حکمتِ عملی، فضائی دفاع، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور تینوں افواج کے باہمی تعاون نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو مزید منظم انداز میں نمایاں کیا قومی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سلامتی کے معاملے میں کسی دباؤ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، انھوں نے پاکستانی افواج کی یک جہتی، پاک سر زمین کی سلامتی اور استحکام کے ساتھ سبز ہلالی پرچم کی سربلندی کے لئے جو اقدامات کئے، جس حکمت عملی کو اپنا کر پاکستان کو فخر اور وقار کے ساتھ دنیا کے سامنے کھڑا کیا، اس میں 22 اپریل 2025 کو ہونے والے سانحہ پہلگام کو خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ اس سیاہ دن میں جموں وکشمیر کی وادی میں 26 ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو نامعلوم مسلح دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا اور حسب معمول بھارت نے اسکا الزام جھٹ پاکستان پر دھر دیا کہ پاکستان نے یہ دہشت گردی کی ہے ۔ جسکے جواب میں پاکستان نے بھارت کو کسی بھی بین الاقوامی سطح کے تحقیقاتی ادارے سے غیر جانبدارانہ اور شفاف انویسٹی گیشن کرانے کی کھلی پیشکش بھی کردی تھی ۔ مگر بھارت چونکہ اس سانحے کو آڑ بناکر اپنے بڑے بڑے مفادات حاصل کرنا چاہتا تھا، لہذا وہ شفاف تحقیقات کو نظر انداز کرکے ا پنے انہی مفادات پر متوجہ رہا، دراصل وہ اپنے لحاظ سے بڑی دانش مندی سے ایک بہت بڑی سازش کھیل رہا تھا۔ اس نے پاکستان پر پہلگام واقعے کا الزام لگاتے ہی سندھ طاس کے معاہدے کو کالعدم قرار دے دیا، جوکہ وہ ہمیشہ سے چاہتا تھا ۔
دوسرا اس وقت نریندر مودی سعودی عرب کے دورے پر تھا لہذا اس نے اس بنیاد پر بھارت کو گلف میں مضبوط پوزیشن دلوانے کی کوشش بھی کی۔
اس وقت امریکہ کے صدر بھی بھارت کا دورہ کرنے والے تھے ، اس سے بھارت کو امریکہ سے مزید معاشی تعاون مل سکتا تھا اور اسکی تجارتی رکاوٹیں آسان ہوسکتی تھیں ۔ دنیا میں اس وقت بھارت پاکستان کو دہشت گرد اور خود کو دہشت گردی کا شکار دکھا کر دنیا کو اپنا ہمدرد اور پاکستان کے لئے بےزار بناکر اسے تنہا کرنے کا ارادہ بھی رکھتا تھا ۔سب سے اہم بات اس وقت بھارت میں ہونے والے الیکشن میں اسے مسلمانوں کی طرف سے وقف ایکٹ پر شدید احتجاج کا بھی سامنا تھا تو اس نے پھر سے پاکستان کی طرف انکی توجہ مرکوز کراکے وقف بل سے ہٹانے کے حربے استعمال کیے تاکہ الیکشن میں باآسانی فتح حاصل کرسکے۔ پاکستان یہ سب دیکھ رہا تھا اور ہمارے سپہ سالار اس کھیل کو خوب سمجھ رہے تھے ۔ بھارت نے پاکستانی سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ شروع کردی اور ہمارے فیلڈ مارشل صاحب اپنی افواج کو منظم کرکے جوابی کارروائی کے لئے مضبوط منصوبہ بندی اور حکمت عملی بنانے لگے، ادھر بھارت جانے کس خوش فہمی میں تھا جو اس نے آپریشن سیندور کا اعلان کرتے ہی آزاد کشمیر سمیت ملک عزیز کے نو مقامات پر فضائی حملے بھی کردئیے، یہ بالاکوٹ سانحے سے بھی بڑی کاروائی تھی ایسے میں اگلا لمحہ ضائع کئے بغیر ہمارے شیر باز سپہ سالار سید حافظ عاصم منیر نے
اللّٰہ کے حضور سجدہ ریز ہوکر وطن عزیز کی بقا اور سلامتی کی دعا مانگ کر قرآن کریم سے اپنے ارادوں کی تکمیل کا راستہ تلاش کیا اور سورہ صف کی آیت نمبر چار سے تیرہ تک کو راہ عمل بناکر قوم اور اپنی ساری افواج کو بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم سے مخاطب کرکے آپریشن بنیان المرصوص کے آغاز کا اعلان ان الفاظ کے ساتھ کیا ،
پاکستان ہمیشہ زندہ باد ۔ میں کہتا ہوں اس بات پر غور کرلیں آپکا اگر خیال ہے کہ چند دہشت گرد اگر اس ملک کا مقدر ہم سے چھین لیں گے تو یاد رہے 13 لاکھ بھارتی افواج اگر اپنے تمام سازو سامان سمیت ڈرا دھمکا کے ہمیں کچل نہیں سکے تو یہ کیا یہ دہشت گرد پاکستانی افواج کو زیر کرسکتے ہیں ؟ آپ دیکھیں گے ہم بہت جلد ان دہشت گردوں کو شکست فاش دیں گے ہمارے پاس وہ باپ ہیں جو فخر سےاپنے جوان بیٹوں کے جنازوں کو کندھا دیکر قبروں میں اتارتے ہیں ۔ جب تک وہ بہادر مائیں موجود ہیں جو فخر سے اپنے بیٹوں کو ملک پر قربان کرتی ہیں۔ پاکستان ہرگز نہیں ٹوٹے گا تم اسکا بال بھی بیکا نہ کرسکو گے ۔انکے لبوں سے یہ الفاظ فضاؤں میں گونجے اور پوری پاکستانی قوم کی دعائیں بنکر آسمان تک پہنچے اور پھر دنیا حیرانگی سے دیکھتی رہ گئی جس طرح پاکستانی بری ، بحری اور فضائی افواج نے دشمن پر دھاوا بولا اور اندر تک گھس کے انکی کمریں توڑیں وہ واقعی سیسہ پلائی دیوار تھے ۔ وہ بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے ساتھ ساتھ اپنے شہیدوں کے لہو کا بدلہ بھی لے رہے تھے۔ انکے ایلفا، براوو چارلی کے ساتھ اس وقت پاکستان کی ذہین ترین سائبر فورسز بھی کندھے سے کندھا ملائے کھڑی تھیں ۔ انھوں نے بھارت کی وہ تنصیبات تک تباہ کردیں جو پاکستان میں منظم دہشت گردی کا نیٹ ورک چلا رہی تھیں ۔ یہ سیسہ پلائی دیوار بھارت کے سامنے پوری طاقت اور شجاعت کے علاوہ اپنی اس جہادی حکمت عملی کے ساتھ بھی سینہ سپر تھی ، جو نبی کریم حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ اپنائی تھی ۔ انھوں نے بھارتی مورچوں اور توپ خانوں کو ایسے نشانہ بنایا کہ بھارتی افواج کو متعدد جگہ سفید جھنڈے لہرانے پڑے ۔ہمارے شیر باز سپہ سالار نے قوم سے کیا وعدہ اپنی شیر دل افواج کی دلیرانہ لڑائی ، وزیراعظم کی کابینہ کے بھرپور تعاون ، پاکستانی میڈیا کی مثبت اور مکمل سپورٹ ، دنیا میں بھارتی جھوٹے پروپیگنڈے کی نقاب کشائی اور عوام کی محبت ، دعاؤں اور دئیے گئے حوصلوں کے ساتھ ملکر نبھایا اور دنیا کو دکھا دیا کہ ہاں ہم ہیں بنیان المرصوص ، ہم ہیں پاکستان ۔جب دنیا پاکستان کی شجاعت کے کارنامے دیکھ رہی تھی ،جب دودھ کا دودھ پانی کا پانی صاف نظر آرہا تھا بھارت کے جھوٹے میڈیا پروپیگنڈے پر یقین کرنے کی بجائے زمانہ ہنس رہا تھا اور جب خود بھارت کو اپنا مکروہ چہرہ صاف دکھائی دینے لگا، تو ایک دوسرے بڑے احساس نے بھی اسکے دل و دماغ میں چٹکی لیکر اسے ہوش دلائے کہ جس سے وہ الجھ بیٹھا ہے وہ کوئی کمزور نہیں بلکہ ایک جدید ٹیکنالوجی ، جدید ہتھیار اور ذہین دماغ رکھنے والا جرآت مند اور غیور ملک ہے ۔ اس نے یہ بھی مان لیا کہ دونوں جوہری ممالک ہونے کے باوجود ہمارا مقابل یہاں بھی ہم سے کچھ آگے ہی ہے ۔ لہذا 10 مئی کی شب امریکہ نے دونوں ممالک سے مذاکرات کے بعد سیز فائر کرادیا اگرچہ جنگ بندی کی پیشکش پر پاکستان نے ایکبار پھر اپنا راضی نامہ دیدیا ، مگر پاکستان اس بار کسی معاملے پر جھکا نہیں اس نے اپنی خودمختاری خودداری اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اس نے اس جنگ بندی کو قبول کیا صرف اس لئے کہ وہ خطے میں امن کا خواہاں ہے حالانکہ بھارت نے یہ کشیدگی مٹانے کے لئے نہ تو ابھی تک سندھ طاس معاہدہ بحال کیا ہے اور نہ ہی مسئلہ کشمیر پر کسی پیش رفت کی بات کی ۔ اسکی شازشیں اور شرارتیں تو کبھی رکتی ہی نہیں اس لئے وہ کچھ نا کچھ کرتا ہی رہے گا ۔
جبکہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے ۔
جنرل عاصم منیر کی قیادت میں ریاستی سطح پر توازن ، محتاط سفارتکاری اور پسِ پردہ روابط کو اہمیت دی گئی تاکہ خطے میں کشیدگی کو پھیلنے سے روکا اور امن کو برقرار رکھا جا سکے ۔
موجودہ دور کی سب سے نمایاں جہت صرف عسکری تیاری نہیں بلکہ سفارتی حکمتِ عملی بھی رہی ہے۔ دنیا تیزی سے بدلتے عالمی اتحادوں اور علاقائی کشمکش کے دور سے گزر رہی ہے ۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران اور اسرائیل کے تنازعات ، امریکہ کی خطے میں پالیسیوں اور عالمی طاقتوں کے نئے بلاکس نے جنوبی ایشیا کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا تھا ۔ ایسے ماحول میں بھی پاکستان نے خود کو ایک ذمہ دار، متوازن اور مذاکرات پر یقین رکھنے والی ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ۔
اس کی عسکری قیادت کے بعض سفارتی روابط اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات عالمی توجہ کا مرکز بھی بنے ۔ پاکستان نے اس نازک وقت میں امن کا سفیر بنکر یہ پیغام دینے کی کوشش بھی کی کہ ایک ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود اس کی ترجیح خطے میں امن استحکام اور توازن ہے ۔ یہی پہلو پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کے لیے اہم ثابت ہوا اسکے علاؤہ
قدرتی آفات، قومی بحرانوں اور داخلی مشکلات میں بھی افواجِ پاکستان نے ہمیشہ روایتی انداز میں اپنی موجودگی برقرار رکھی ہے۔خواہ وہ زمانہ سیلاب ہو ہنگامی حالات ہوں یا مختلف عوامی مشکلات۔ ہر جگہ بروقت اسکی امدادی سرگرمیوں نے ہمیشہ یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ پاکستانی افواج صرف سرحدوں کی محافظ نہیں بلکہ قومی ڈھانچے کا ایک متحرک اور منظم ستون بھی ہیں۔ اس پورے دور میں ایک اور اہم پہلو عوامی اعتماد کی بحالی کی کوشش بھی تھا ۔ افواج پاکستان نے ثابت کیا کہ
جدید دنیا میں جنگیں صرف میدانوں میں نہیں بلکہ اطلاعات ، بیانیوں اور نفسیاتی محاذوں پر بھی لڑی جاتی ہیں اور ایسے میں قومی یکجہتی ،ادارہ جاتی استحکام اور عوامی اعتماد کسی بھی ریاست کی اصل قوت بن جاتے ہیں ۔ افواجِ پاکستان نے اس چیلنج کو بھی سمجھنے کی کوشش کی کہ قومی سلامتی کو صرف عسکری نقطۂ نظر تک محدود رکھنے کے بجائے وسیع ریاستی استحکام کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ موجودہ علاقائی اور عالمی ماحول میں پاکستان ایک حساس جغرافیائی اور سیاسی مقام رکھتا ہے۔ایسے میں عسکری قیادت کی ذمہ داری صرف سرحدوں کے دفاع تک محدود نہیں رہتی ۔ بلکہ اسے ریاست کے وقار، سفارتی توازن اور داخلی استحکام کے وسیع تر تقاضوں کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔ آج جب دنیا غیر یقینی سیاسی تبدیلیوں ، جنگی خدشات اور معاشی دباؤ کے دور سے گزر رہی ہے تو پاکستان کی عسکری و سفارتی سمت میں توازن تحمل اور حکمت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اور یہی راستہ نہ صرف وطنِ عزیز کی سلامتی کو مضبوط بنا رہا ہے۔ بلکہ الحمد للّٰہ پاکستان کو خطے میں ایک ذمہ دار، باوقار اور مؤثر ریاست کے طور پر بھی مستحکم بھی کر رہا ہے۔
ہمیشہ زندہ باد پاکستان