ملتان(صفدربخاری سے) امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ الیکشن نتائج ووٹوں کی گنتی پر نہیں ریاضی کے فارمولوں پر مرتب کیے گئے، جمہوریت پر یقین رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو جمہوریت اور آئین کی حفاظت کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہوگا، الیکشن سلیکشن کا نام ہے تو قوم سے مذاق اور اربوں روپے ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے، دھاندلی کو ایکسپوز کرنے کے لیے تمام آئینی و جمہوری راستے اختیار کریں گے، مسئلہ جیت ہار کا نہیں حق دار کے حق کا ہے۔ صوبائی مرکز جماعت اسلامی جنوبی پنجاب (اسلامک سنٹر) میں “عزم نو کنونشن “کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت نے کہا کہ جماعت اسلامی بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی ٖغلامی اختیار کرنے کی جدوجہد کررہی ہے، فرسودہ نظام نے عوام کو جکڑا ہوا ہے،حقیقی کامیابی اللہ کے دیے گئے نظام کے لیے جدوجہد ہی ہے۔ راستہ کٹھن اور مشکل ہے، ہمارے حوصلے بلند ہیں۔اس موقع پر سیکرٹری جنرل امیرالعظیم ، امیر صوبہ راؤ محمد ظفر، نائب امراء صوبہ سید ذیشان اختر، ثناء اللہ سہرانی ، صوبائی سیکرٹری جنرل صہیب عمار صدیقی ،نائب قیمین صوبہ محمد عارف خان ، مولانا محمود بشیر ، ڈاکٹر عرفان اللہ ملک،امراء اضلاع،قیمین اضلاع ،ضلعی ناظمین انتخاب اور امیدواران قومی و صوبائی اسمبلی نے بھی شرکت کی ۔ امیر جماعت نے کہا کہ دھاندلی کے نتیجہ میں بننے والی حکومت کبھی بھی عوامی مسائل حل نہیں کرسکے گی، اداروں نے قوم کے اعتماد کو مجروح کیا، دائروں میں سفر سے استحکام، امن اور ترقی حاصل نہیں ہوگی، کرپشن زدہ لوگوں کو ایوانوں میں پہنچانے کاسلسلہ جاری رہا تو خدانخواستہ ملک مزید سانحات کا شکار ہوسکتا ہے، مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پسنے والی عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا، الیکشن کمیشنر دھاندلی کی ذمہ داری قبول نہیں کررہے ہیں، عوام حساب مانگ رہے ہیں، ڈھٹائی سے نتائج تبدیل کیے گئے، الیکشن قوانین کے مطابق فارم 45نتائج ہی فائنل رزلٹس ہیں، قوم کا اتفاق ہے کہ نتائج کا اعلان فارم 45کے مطابق ہو، الیکشن آڈٹ کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ سراج الحق نے کہا کہ ملک میں جاری شطرنج کا کھیل اب بند ہونا چاہیے، عوام اب اسے مزید برداشت نہیں کریں گے، بات اب اشاروں کنایوں سے بڑھ کر جلسوں تک پہنچ چکی ہے۔عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرنا ہوگا، سیاست، معیشت اور جمہوریت کو بچانے کا یہی واحد راستہ ہے۔ سراج الحق نے کہا ہے کہ عوام سوال کر رہے ہیں 8فروری کے کھیل کو الیکشن کا نام کیوں دیا گیا، دھاندلی سے متعلق الیکشن کمیشن کو 100سے زائد شکایات درج کرائیں، تاحال ایک کا جواب بھی موصول نہیں ہوا، فارم 45والے سڑکوں پر، فارم 47والوں نے حلف اٹھا لیا، جعلی مینڈیٹ پر بننے والی حکومت مہنگائی، بے روزگاری میں اضافہ کرے گی، آئی ایم ایف سے مزید قرضوں کی بھیک کے مطالبات شروع ہو گئے۔ جماعت اسلامی کی مجلس عاملہ نے الیکشن 2024ء کا مکمل جائزہ لے کر انھیں مسترد کر دیا، خود کو ملک کا اصل حکمران کہنے والوں کے الیکشن میں کردار پر مجالس میں گفتگو ہو رہی ہے۔ جماعت اسلامی کو دھاندلی سے ہرایا گیا، کراچی میں سیٹیں چھینی گئیں، حلقوں میں رزلٹس تبدیل کیے گئے، جمہوریت لوگوں کے فیصلوں کو تسلیم کرنے کا نام ہے، افسوس پاکستان میں ایسی جمہوریت ہے جہاں فیصلے پہلے الیکشن بعد میں ہوتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے تمام سیاسی جماعتیں شفاف الیکشن کے لیے قومی ڈائیلاگ کا آغاز کریں، متناسب نمائندگی کے اصول کو اپنا کر ہی جمہوریت مضبوط ہو سکتی ہے۔ مرکزی سیکرٹری جنرل امیر العظیم نے بھی عزم نو کنونشن سے خطاب کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ الائنس کا حصہ بننا اس وقت ضروری تھا،جب جماعت اسلامی اتحادی سیاست کا حصہ رہی،ہم نے وزارتیں نہیں لیں،ہم نے اپنے نصب العین پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، جب ہماری ساکھ متاثر ہوتی نظر آئی تو ہم نے اتحادی سیاست کو خیر آباد کہ دیا،آپ قوم کو یقین دلائیں کہ درپیش مسائل کا حل صرف جماعت اسلامی ہے ، ہماری سیاست،ہماری سماجی خدمات اور ہماری ساری کاوشیں اللہ کی رضا کے لئے ہیں،پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان بنانے میں جماعت اسلامی کا فعال کردار ہے ۔ امیر صوبہ راؤ محمد ظفر نے عزم نو کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسی مضبوط سیاسی حکمت عملی بنا رہے ہیں کوئی امیدواریہ نہیں کہے گا کہ میں پورے حلقہ کے لوگوں تک نہیں پہنچ پایا، مجھے یقین ہے کہ جماعت اسلامی کی تاریخ اور اس ملک کے حالات بتا رہے ہیں کہ موجودہ حکمران ملک کی تقدیر نہیں بدل سکتے ، جماعت اسلامی جیسی قیادت کسی سیاسی جماعت کو میسر نہیں اور نہ ہی ایسا نظم و ضبط ہے ۔ دریں اثناء سراج الحق نے لنڈ گینگ کے ہاتھوں قتل کیے گئے صادق آباد کے نوجوان شہری اور جماعت اسلامی کے کارکن احسن فاروق کی نماز جنازہ پڑھائی ،بعد اذاں میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نےکہا کہ نگران حکومت کے دور میں اربوں روپے خرچ کرکے کچہ آپریشن کا ڈرامہ رچایا گیا، صوبائی حکومتیں کچے کے ڈاکوؤں کیخلاف ناکام ہو چکی ہیں، جماعت اسلامی کے 2 کارکن لنڈ گینگ کے ہاتھوں قتل ہوگئے، رحیم یار خان اور صادق آباد میں ڈاکو راج کے خاتمے کے لئے وزیر اعظم، آرمی چیف اور پولیس اپنا کردار ادا کرے۔