سرینگر: قابض بھارتی فورسز ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اب تک ایک لاکھ  کشمیریوں کو شہید اور 11 ہزار سے زائد خواتین کی عصمت دری کر چکی ہیں۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 1948 میں قرارداد منظور کی تھی جس کے تحت بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کے زیر نگرانی استصواب رائے کروانے کا پابند کیا گیا تھا۔بھارت طاقت کے زور پر75 سال سے کشمیریوں کو حق ارادیت سے محروم رکھے ہوئے ہے۔مقبوضہ کشمیر برصغیر کی تقیسم کا  نا مکمل ایجنڈا اور ایٹمی جنوبی ایشیا میں فلیش پوائنٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔مودی سرکار نے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے استعمال کیا۔  مقبوضہ کشیمر میں انسانی حقوق کی سنگین ترین پامالیاں جاری ہیں۔