اسلام آباد:  وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت اور سیلاب کے موقع پر الیکشن 90 روز میں نہیں ہوئے تھے، اب بھی 90 روز میں الیکشن نہیں ہوں گے۔  (ن) لیگی رہنما اسحاق ڈار نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ آئی ایم ایف میٹنگ کا شیڈول کئی ہفتے پہلے جاری ہوتا ہے، جہاں میری ضرورت ہے آئی ایم ایف سے ورچوئل میٹنگ کرتا رہتا ہوں۔ کل امریکہ پہنچنا تھا جہاں  سالانہ میٹنگ میں شریک ہونا تھا مگر نہیں جا سکا،اجلاس میں شرکت نہ کرنا کوئی عجوبہ نہیں، پاکستان کے وفد کو کوئی منع نہیں کر سکتا، پاکستان آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا رکن ہے کوئی بھکاری ملک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف اجلاس میں شرکت کے حوالے سے  قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں، کنفوژن پھیلائی جا رہی ہے کہ آئی ایم ایف میٹنگ میں کیوں نہیں جا رہا، کوئی کہہ رہا ہے آئی ایم ایف نے مجھے شرکت سے منع کر دیا، ہم نے بروقت ادائیگیاں کیں، غلط رخ نہ پیش کیا جائے،  میں نے امریکہ کا دورہ وزیراعظم کی ہدایت پر منسوخ کیا۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا  کہ ملک میں آئینی بحران پیدا کر دیا گیا، آئین کے مطابق ایک ہی دن انتخابات ہونے چاہئیں۔ ہم بطور قوم ایک عجیب بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے کہا گیا کہ 21 ارب روپے  الیکشن کمیشن کو دیئے جائیں، وفاقی حکومت کو رقم کی فراہمی کیلئے 10 اپریل کی مہلت دی گئی ہے۔ہدایت ہے کہ پھر الیکشن کمیشن عدالت کو آ کر بتائے۔ وزارت خزانہ کو پیسوں کے حوالے سے اہم ذمہ داری دی گئی ہے۔