خدائی راز انسان کے ذہن میں محفوظ

تحریر: مسیح اللہ جام پوری
کافی مدت سے غصے میں تھا کہ انہونی اندھیرے یا رات میں کیوں وقوع پذیر ہوتی ہے ، جب یہ خیال ذہن میں گردش کرنے لگااس وقت آدھی رات بیت رہی تھی ،لوڈشیڈنگ نے پورے گھر میں اندھیرا کر رکھا تھا، میں بیڈ سے اُٹھا، چپل اندازوں سے تلاش کی ، پائوں ڈالے ، دروازے کا پلہ کھولا ، صحن میں نکل آیا، اندھیر کا راج تھا، آسمان پر نظر ڈالنے کے لیے گردن کو جنبش دی تو دیکھا ستارے کچھ زیادہ روشن چمک رہے تھے ، غالباً یہی وجہ تھی کہ اندھیرا گھپ تھا، ذرا توجہ کی تو سناٹا چیخیں مار رہا تھا، آسمان پر ستاروں کو چمکتا دیکھتا رہا، پھر وہی سوال ابھرا ، انہونی رات کے اندھیرے میں کیوں ہوتی ہے؟ میں کھلے کھیت میں نکل آیا، چپل کی سرسراہٹ نے قدرے خوف زدہ کر دیا، میں اسی گم سم میں تھا تومحسوس کیا کہ کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا ہے، اسے میں نے دیکھنے کے لیے گردن موڑہی رہا تھا کہ دوسرا پنجا میرے منہ پر پڑا، آنکھیں بند ہو گئیں نہیں معلوم میں بے ہوش ہو گیا کہاں گیا؟، زندگی سے ناطہ ٹوٹ چکا تھا؟ کچھ دیر بعد پھر میری آنکھیں قدرے کھلیں تو میں نے دیکھا اوپر آسمان پر وہی ستارے چمک رہے ہیں ، دائیں بائیں نظریں گھمائیں اور نیچے زمین پر کھیت کو دیکھا لیکن چاروں اطراف آسمان ہی آسمان کی وسعت میں میں نے خود کو گم پایا، چاروں طرف ستارے چمک رہے تھے ، مجھے محسوس ہوا کہ میرا تمسخر اڑا رہے ہیں۔
پھر مجھے غنودگی نے آ لیا، اس دوران کسی نے مجھے سرگوشی میں ہدایت کی کہ زیادہ یادداشت پر زور نہ دو ، یہ مخلوق پانچ سات ہزار سال زمینی لوگوں سے آگے ہے، میں نے پوچھا میں کیا کروں ، آواز آئی خاموش رہو، دیکھتے رہو، میں نے چاروں طرف نظر ڈالی تو لگتا تھا میں کہیں ملحق ہوں۔ پھر آواز آئی آپ کو زمین سے آئے دوہزار سال بیت چکے ہیں، (آسمان پر اس وقت مقامی حالات کے مطابق ہفتہ ہوا ہے)، تم واپس بھی زمین پر کسی طرح چلے گئے تو کوئی تمہیں نہیں پہچان پائے گا، زمین کا ناک نقشہ بدل چکا ہے، نسلیں تبدیل ہو چکی ہیں ، وہ بولاکینیڈا کے شمالی حصہ سے ڈیڑھ سو افراد کا قبیلہ یہاں پہنچایا گیا تھا، ان میں سے تیس افراد دم توڑ چکے ہیں ، باقی ان کی تخلیہ گاہوں میں ہیں، وہ ایسی سانس لیتے ہیں جس میں مقوی غذائی اجزاء شامل ہوتی ہیں ، انہیں بھوک نہیں لگتی ، وہ بس سانس ہی لیتے ہیں ، وہ زمینی مخلوق سے زیادہ صحت مند اور توانا ہیں ۔ وہی آواز آئی مخلوق بہت زیادہ ترقی یافتہ ہیں ، ہر آواز کو ڈی کوڈ کر لیتے ہیں ، ان کے پاس ایسی مشین ہے جہاں سے آواز گزرتی ہے تو ان کی زبان میں ترجمہ ہو جاتا ہے، یہ زمینی مخلوق کی تمام زبانوںکو بوجھتے ہیں پھر اپنی کارروائی شروع کرتے ہیں ۔
یہ تجربات کرتے ہیں ، ان کا مسکن زمین ہے، وہاں سے یہ مخلوق کافی قوموں کے افراد پچھلے دس ہزار سالوں سے یہاں لے آئی ہے، اب وہ زمانوں کا حصہ ہیں ، انہیں موت بھی نہیں آتی ہے ، یہ مخلوق وقت کے اثرات سے مبرا ہے، یہ اوپر کی مخلوق جب سمجھے گی یہ لوگ زمینی لوگ بے کار ہیں ہمارے لئے تو پھر ان لوگوں کو ریزہ ریزہ کر کے زمین پر پھینک دیں گے ، کھیتوں میں ، پانی میں ، پہاڑوں میں ، جہاں کوئی پھل اُگے گا، سبزی اُگے گی تو زمینی لوگ اسے کھائیں ، جانور گھاس کھائیں تو زمینی لوگ ان پھلوں ، جانوروں کو کھائیں گے ، اپنی بیویوں کے پاس جائیں گے ، جو بچے پیدا ہوں گے وہ خلائی مخلوق ہوں گے ، ان کے ذہن میں ایسے خیالات پیدا ہوں گے جو زمینی لوگوں کے ذہن میں نہیں آتے ، ایسی مخلوق کے لوگ کہتے بھی ہیں ہم زمینی خلائی مخلوق نہیں ، سچ کہتے ہیں ، آدم کی مخلوق ایسی سروے کرتی ہے زمینی لوگوں کے ایسے خیالات مٹ جاتے ہیں ، کچھ دیر کے لیے آتے ہیں پھر محو ہو جاتے ہیں۔ کون بول رہا تھا ، مجھے معلوم نہیں ، اس کی باتیں سمجھ اور سن رہا تھا ۔ وہ بولا تم کہاں پھنس گئے ہو، یہ لوگ بہت ترقی یافتہ ہیں ، یہ خیالات کو بھی قید کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، ان کے پاس ایسی مشینیں ہیں جو ہوا (میں آنے والی )فضائی لہروں کو پکڑ لیتے ہیں ، ان لہروں کو اپنی مشینوں سے گزارتے ہیں وہ فضائی لہریں ڈی کوڈ ہو جاتی ہیں، کائنات میں جو کچھ ہو رہاہے جو جہاں کہیں بول رہا ہوتا ہے وہ انہیں پتہ چل جاتا ہے، اس مخلوق کو دنیا یا کائنات کی زبانوں کے ابجد اور لہجے کا بخوبی علم ہے، ان سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ،جس کے دماغ پر مشین فٹ کرتے ہیں اس میں جو خیالات ہوتے ہیں گندے ، اچھے خیالات ہوتے ہیں وہ اسے پڑھ اور سن لیتے ہیں ، ان سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔
وہ مسلسل بولے جا رہا تھا مجھے سنائی تو دے رہا تھا لیکن بولا نہیں جا رہا تھا، اس نے کہا آپ لوگ زمین پر جو کچھ کرتے پھرتے ہو وہ ہر جگہ ریکارڈ ہو رہا ہے، اس کی فلمیں بھی بن رہی ہیں ، ساتھ ساتھ حساب کتاب بھی ہوتا ہے، ان کے دفاتر مختصر اور بہت ایسے وسیع جیسے کائنات کی وسعت ،کی طرح ہیں۔ حلاج بن یوسف نے جو کچھ بویا تھا اس نے اپنی زندگی میں ہی کاٹ لیا تھا، محمد بن قاسم کے ساتھ جو کچھ کیا تھا اس کا بھی حساب کتاب ہو گیا ہے ، آپ کو یاد ہوگا ملک پاکستان کے ایک صدر پرویز مشرف نے اپنے کلمہ گو مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کیا اسے اس کی زندگی میں اس کا پھل مل گیا، باقی سزا ابھی باقی ہے ۔ وہ بولے جا رہا تھا جو کچھ آپ بولتے ہو اس کا کائنات کل کے پاس حساب لکھا جاتا ہے ، آپ غور نہیں کرتے نہ جستجو کرتے ہو، آپ کے آگے پیچھے جو کچھ ہو رہا ہے وہ بے مقصد نہیں ہو رہا، بعض معاملات میں تو اللہ پاک افراد کی سزا نسلوں کو دیتا ہے ، اسی طرح اجر ہے ، نیک کاموں کا اجر بھی نسلوں کو منتقل ہوتا رہتا ہے، آپ اچھے کام کرو اچھا پھل پائو گے ، یہ کہتے ہوئے وہ اوجھل ہو گیا پھر کل بات کروں گا اور اس کا کل زمینی حساب کے لحاظ سے بیس سے پچاس ہزار سال تک ہے۔ وہی آواز سنائی دی ، پریشان نہ ہو، خدائی راز ہر انسان کے ذہن میں محفوظ کر دئیے گئے ہیں ، اس لئے تو الہامی کتب میں فرمایا گیا ہے کہ انسان اللہ پاک کا زمین پر نائب ہے۔ محض جستجو اور غور و فکر کی ضرورت ہے جس نے ایسا کیا وہ قومیں دوسری مخلوق سے آگے نکل گئیں۔