عمرانی شو ر و غوغے کا توڑ ؟

تحریر: مسیح اللہ جامپوری
انتخابات ہوچکے ہیں، کابینہ تشکیل دی جا چکی ہے، لیکن اصل مسئلہ کا توڑ نہیں کیا گیا، حالات کب کی کروٹ بدل چکے تھے ، عمران نیازی نے جس طرح کی سیاست کی اس نے ملکی فکری ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا، معاشی حالات تباہی تک جا پہنچے ، پنجاب کے مقتدر حلقوں کی رب کریم نے رہنمائی کی ، حکومت اور ادارے حرکت میں آئے ، مکمل تباہی سے پہلے، جہاز کے مکمل غرقاب ہونے سے پہلے انہوں نے مداخلت کی یا نہیں لیکن عمران نیازی کو لگام ڈالنے کے لیے یکجا ہو گئے۔ خیال تھا کہ انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے فکر و دانش سے کام لیا جائے گا ، عمران نیازی نے جو شور و غوغا مچا رکھا تھا کہ دو خاندانوں نے ملکر حکومتیں سنبھال رکھی ہیں ۔ خیال تھاکہ انتخابات کے بعد حکومت سازی میں عمرانی غوغا کا توڑ کیا جائے گا لیکن حکومتیں بننے کے دوران جو نتائج سامنے آئے وہ مایوس کن ہیں ۔ بلاشبہ نواز شریف ، شہباز شریف ، مریم نواز صاحبہ اور آصف زرداری و بلاول بھٹو اور ان کی پارٹیوں کے رہنمائوں کی قابل قدر خدمات کوئی بھی نظر انداز نہیں کر سکتا ، انہیں مقامی ، علاقائی اور عالمی پذیرائی حاصل ہے۔ سرائیکی وسیب سے شیر علی گورچانی کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے اچھی بات ہے لیکن دوسرے سیاسی قائدین کا کیا ہوا کچھ سمجھ نہیں آیا۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ پنجاب میں مریم نواز کی خدمات انجام دینے کی بجائے ان سے مرکز میں استفادہ حاصل کیا جاتا ، پنجاب میں سرائیکی وسیب کے اکابرین کی سیاسی خدمات ملک و قوم کے لیے گرانقدر ہیں ، سردار اویس خان لغاری اور اس خانوادے کے چشم و چراغ رموز حکمرانی سے آشنا ہیں، سرائیکی وسیب پر مشتمل جب تک صوبہ نہیں بنتا اس وقت تک سردار اویس خان لغاری کی خدمات سے فائدہ اٹھایا جانا چاہئے تھا، سردار اویس خان لغاری مسلم لیگ (ن) کے صوبائی سیکرٹری جنرل بھی ہیں ، انہیں حکمرانی کا خاندانی تجربہ اور مشاہدہ ہے، اگر ان کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ پیش کی جاتی تو یہ مسلم لیگ (ن) کے لیے انتہائی فائدہ مند ہوتا۔مریم بی بی مرکز میں خدمات انجام دیتیں مگر اس کے برعکس فیصلہ کیا گیا ، اس میں کوئی شک نہیں کہ مریم نواز اعلیٰ اور گرانقدر خدمات انجام دے رہی ہیں ،مگر خود مسلم لیگ (ن) میں اختلافات نے سر اٹھا لیے ہیں۔
مریم نواز صاحبہ پنجاب میں بلاشبہ عوام دوست فیصلے کر رہی ہیں لیکن عمرانی غوغا کا توڑ اس طرح ممکن ہے کہ بی بی مریم کو مرکز میں جگہ دی جائے تاکہ وہ عملی زندگی میں بیورو کریسی سے نمٹنے کا تجربہ حاصل کر سکیں۔ سرائیکی وسیب کے سیاسی گھرانوں کا یہ سوال بجا ہے کہ سردار اویس خان لغاری نے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے میں کیا رکاوٹ حائل تھی؟ یہ خاندان ملک کا وفادار ، عوام کا ہمدرد اور مخلص ہے، حکمرانی کے اسرار و رموز سے بخوبی آگاہ ہے، اب بھی وقت ہے کہ اس فیصلہ پر نظر ثانی کر لی جائے ، اگر سردار اویس خان لغاری کو وزیر اعلیٰ بنا دیا جائے تو اس کے فوائد سے عوام مستفید ہوں گے ، تمام سیاسی گھرانے مطمئن اور عوام بھی راضی ہوں گے ۔ اگر سرائیکی وسیب میں مسلم لیگ (ن) کو عوام میں مقبول بناناہے تو سردار اویس خان لغاری کی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے ، پنجاب کے سیاسی گروپوں کو شامل حال کیا جائے مزید مخالفت کو ہوا نہ دی جائے۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ سردار عمار خان لغاری اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اگر انہیں سردار اویس خان لغاری کی وزارت پر متمکن کیا جائے اور سردار اویس خان لغاری کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ سونپی جائے تو اس کے پورے پنجاب کیا پورے ملک میں اچھے اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے ، مسلم لیگ (ن) کے ناراض حلقے بھی یک جان ہو جائیں گے ، یہ ایسے سیاسی فیصلے ہوتے ہیں جس سے عوام کے دل جیتے جاتے ہیں اورپارٹیاں مقبول اور عوام میں اپنی جگہ بنا پاتی ہیں۔ پنجاب سردار اویس لغاری کو صوبہ کا اعلیٰ منصب سپرد کرنے سے صدر مملکت آصف علی زرداری مطمئن ہوں گے ، مسلم لیگ (ن) اس طرح پنجاب میں پانچ سال خوش اسلوبی سے پورے کر سکے گی اور ملک ترقی کی راہ پر تیزی سے چل نکلے گا۔ آصف زرداری کی دانش مندانہ رہنمائی سے ملک و قوم کے لیے بہتری ہو گی ، صوبہ پنجاب میں تمام طبقات مطمئن ہوں گے کیونکہ سیاست کا اصل حاصل یہی ہے کہ عوام حکمرانوں کے فیصلوں پر مطمئن ہوں۔