لاہور: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے بدھ سے جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔ کارکنوں سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا آئین واضح طریقے سے کہتا ہے کہ الیکشن 90 روز میں ہونے ہیں، 91 ویں دن کا مطلب یہ ہوگا کہ جو بھی نگراں حکومتی ہوگی وہ غیرآئینی ہوگی۔عمران خان کا کہنا تھا چیف الیکشن کمشنر کو معلوم ہے کہ اسمبلی ختم ہونے کے بعد 90 دن میں الیکشن کرانے ہیں، کہا جاتا ہے کہ پولیس نہیں ہوگی فوج نہیں ہوگی، خطرناک بات ہے کہ چیف الیکشن کمشنر الیکشن کرانے سے معذوری ظاہر کر رہا ہے، جس دن آئین پر  عمل نہیں ہوگا عدلیہ آئین پر عمل نہیں کرا سکتی، اگر  عدلیہ آئین پر عمل نہیں کرا سکتی تو اس سے بڑی بربادی کوئی نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجھے بچانے والے ہی مجھ پر حملہ کرانے میں ملوث ہیں ،وزیر داخلہ نے خود کہہ دیا ہم فون ٹیپ کرتے ہیں ،رانا ثنا اللہ زوروشور سے کہتا ہے میرے پاس جج کی آڈیو ہے ، مجھے کہا گیامیری آڈیوٹیپس بنائی گئیں، جس کا ذکر میں نے عدالت میں بھی کیا، جج کہتا رہا فوادچودھری کو پیش کرو، آئی جی لے کر اسلام آباد چلا گیا۔  چیئرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ عدالت سے کہنا چاہتاہوں ایکشن نہیں لیا تو ملک میں قانون ختم ہو جائے گا، جس ملک میں انصاف، قانون ہی نہیں وہاں کون سرمایہ کاری کرے گا؟پاکستان میں قانون اور انصاف نہ ہونا ایک کینسر کی طرح ہے ۔