ملتان (صفدربخاری سے) امن پنجاب رکشہ ڈرائیورز یونین کے مرکزی صدر محمد سعید کی کال پر مہنگے داموں ایل پی جی فروخت کرنے کے خلاف احتجاجی تحریک کا آغاز کردیا گیا اس سلسلے میں امن پنجاب رکشہ ڈرائیورز یونین کے ضلعی چیئرمین صوفی محمد صدیق کی قیادت میں ایل پی جی مافیا کے خلاف چونگی نمبر 9 پر سینکڑوں رکشہ ڈرائیورز نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور چوک کے چاروں اطراف رکشے کھڑے کرکے تین گھنٹے تک روڈ بلاک کئے رکھا اور اس موقع پر مظاہرین نے ضلعی انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی اور ایل پی جی مافیا کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر ڈی سی آ فس کا اپنے ھزاروں کی تعداد میں رکشہ ڈرائیوروں کا اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ گھیراؤ کرنے اور ڈی سی ملتان کے مستعفی ہونے تک احتجاجی گھیراؤ کرنے کا اعلان کر دیااحتجاجی مظاہرے میں امیر نیازی،ملک شہباز ودیگر نے شرکت کی اس موقع پر ضلعی چیئرمین صوفی محمد صدیق نے کہا کہ حکومتی سطح پر ایل بی جی فی کلو ریٹ 204 روپے مقرر ہے لیکن افسوس کہ ایل پی جی مافیا ڈسٹری بیوٹرز کی ملی بھگت سے تین سو بیس روپے کلو تک ایل پی جی فروخت کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ملتان سمیت صوبہ بھر کے لاکھوں رکشہ ڈرائیورز کے گھروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی بدحالی نے ان کا جینا محال کر رکھا ہے رہی سہی کسر مہنگے داموں ایل پی جی فروخت کرنے والے مافیا نے اندھیر نگری مچادی ہے وہ مالکان کو ٹھیکہ دیں یا مہنگے داموں ایل پی جی خرید کر یں شہریوں میں بھی رکشوں پر سفر کرنے کی قوت ختم ہو چکی ہے جس وجہ سے وہ رکشہ ڈرائیوروں کو کرایہ دینے سے قاصر ھیں۔ سواری نہ ملنے کی وجہ سے رکشہ ڈرائیوروں کے گھروں کے چولہے پہلے ھی ٹھنڈے پڑے ھیں اور ان گھروں میں نوبت فاقوں تک پہنچی ھوئی ھے۔ وہ کیسے اپنے گھریلو اخراجات پورے کریں اور اوپر سے گیس مافیا نے ایل پی جی گیس کے ریٹ اپنی مرضی سے بڑھا دیئے ھیں۔ امن پنجاب رکشہ ڈرائیورز یونین کے عہدیداران کے بارہا احتجاج کے باوجود ضلعی انتظامیہ نے ایل پی جی مافیا کے خلاف سنجیدگی سے کوئی نوٹس نہیں لیا جس کی وجہ سے امن پنجاب رکشہ ڈرائیورز یونین نے احتجاجی تحریک چلانے کا آغاز کردیا ہے اور اب ملتان کے دیگر پبلک مقامات کچہری چوک،عزیز ہوٹل،وہاڑی چوک،حرم گیٹ،چوک کمہارانوالہ سمیت دیگر مقامات پر روزانہ کی بنیاد پر احتجاجی دھرنے دئیے جائیں گے اگر غریب رکشہ ڈرائیوروں کے بچے بھوکے رہے گے تو پھر بھوکے مزدور رکشہ ڈرائیور راست اقدام پر مجبور ھو جائیں گے۔ پھر بھوکے غریب رکشہ ڈرائیور اپنے بھوکے بیوی بچوں کے ساتھ ڈی سی آفس ملتان کا گھراؤ کرنے پر مجبور ھو جائیں گے اور یہ احتجاجی گھیراؤ ڈی سی ملتان کے استعفی دینے تک جاری رھے گا  اگر ڈی سی ملتان گیس کے ریٹ کنٹرول کر کے غریب عوام کو ریلیف نھیں دے سکتا تو پھر اسے اپنے عہدے پر رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے