استاد کو میرا سلام کہنا
استاد کو میرا سلام کہنا
استاد بادشاہ نہیں ہوتا
لیکن اپنے طلبا کو بادشاہ بنا دیتا ہے
تحریر: کائنات کرن
دنیاوی زندگی میں بہت سے ایسے ایام ہیں جن کو ایک خاص شخص یا واقعے کے ساتھ منسوب کرکے ایک دن منایا جاتا ہے جنہیں ” ڈے ” کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔ 5 اکتوبر آجکا یہ دن 1994 کے بعد ہر سال ” ٹیچرز ڈے ” کے طور پر نہایت ادب و احترام ‘ خلوص اور عقیدت سے منایا جاتا ہے ۔ پاکستان کے علاوہ دنیا کے دوسرے ممالک بھی “یوم اساتذہ” مختلف تاریخوں میں مناتے ہیں
ایک استاد ہونے کی حیثیت سے مجھے ہر سال اس دن کا انتظار رہتا ہے اور بے حد خوشی ہوتی ہے کہ چلیں ایک دن ہی سہی _اساتذہ کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے ان کا خاص احترام کیا جاتا ہے انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔لیکن وہیں تھوڑا افسوس بھی ہوتا ہے کہ استاد ایک ایسی عظیم اور مقدس ہستی ہے جسکا احترام ہر دن اور ہر لمحہ ہم پر واجب ہے انہیں یہ احترام اور عزت دینے کے لیے کسی خاص دن کا انتظار کیوں کرنا__ ؟؟؟
یوم اساتذہ کا یہ دن مغربی و مشرقی سطحوں پر مختلف طریقوں سے منایا جاتا ہے یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ مغربی تہذیب میں استاد کا جو مقام و مرتبہ ہے وہ پاکستان میں صدیوں تک رائج نہیں ہو سکتا ۔ مغربی ریاست میں آجکا دن اساتذہ کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہو تا ہے کیونکہ آج کے دن حکمران اساتذہ کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولیات و مراعات ‘ انکے معاشی مسائل کے حل ‘ انکی رہائش و آرائش کے بندوست ‘ انکے مطالبات اور شرائط کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کرتے ہیں تاکہ وہ بغیر کسی ذہنی و معاشی پریشانی کے’ اپنی تدریسی خدمات سر انجام دے سکیں جبکہ پاکستان میں ” ٹیچرز ڈے ” پر اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے مختلف تقاریب اور سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں انہیں خوبصورت پھول اور تحائف پیش کیے جاتے ہیں ۔
یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اساتذہ کے حالات میں کچھ حد تک بہتری آئی ہے اور انکی ترقیاں بھی ہوئی ہیں لیکن اساتذہ کا مقام و مرتبہ انکی وہ عزت جو پچھلے دور میں انہیں حاصل تھی وہ اب کہیں نظر نہیں آتی ۔ استاد اور شاگرد کا جو ایک مستحکم رشتہ پہلے تھا وہ اب کافی کمزور دکھائی دیتا ہے ۔ ۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے تعلیمی دور میں کس طرح بابا جان سکول جانے سے پہلے ہم سب بہن بھائیوں کو جیب خرچ دیتے ہوئے دو نصیحتیں کرنا کبھی نہیں بھولتے تھے ایک تو “دل لگا کر پڑھنا اور دوسرا اپنے استاد کا ہمیشہ احترام کرنا” ۔ خواہ مرد ہو یا عورت استاد ہر روپ ‘ ہر رشتے اور تعلق میں ماں باپ کا بدل ہے ۔ انکی نصیحت نے ہمارے دل پر گہرا اثر چھوڑا جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد آج بھی ہم اپنے اساتذہ کرام کا احترام دل سے کرتے آئے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی یہی تربیت دے رہے ہیں لیکن دور جدید میں استاد کی عزت اور تعظیم ایک سوالیہ نشان بنتی جارہی ہے ۔ایک زمانہ تھا جب استاد کو قوم کا معمار سمجھا جاتا تھا وقت کے شہنشاہ بھی استاد کا سن کر احترام و ادب سے سر جھکا لیتے تھے ۔ لیکن آج کے دور میں شاگرد تو شاگرد انکے والدین بھی اساتذہ کے ساتھ کوئی خاص تعاون نہیں کرتے انکے نزدیک استاد اگر فیس لے رہا ہے تو انکے مطابق پڑھائے انکے بچوں کو انگلی تک نہ لگائے’ انہیں ڈانٹ ڈپٹ نہ کرے ۔
ان والدین کے لیے یہ پیغام دینا چاہوں گی کہ استاد بھی انسان ہیں جو روزانہ دور دراز کے نجی یا سرکاری اداروں میں بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی غرض سے اپنے گھروں سے صبح سویرے ایک یا ایک سے زائد سواریاں بدل بدل کر اپنی منزلوں پر روانہ ہوتے ہیں ۔ درس و تدریس کوئی آسان کام نہیں ہے وقت کی پابندی کا خیال رکھتے ہوئے رکشوں اور بسوں کے دھکے کھا کر ڈیوٹی پر پہنچنا ‘ اسمبلی کروانا ‘ طالبات کو پڑھانا’ سمجھانا ‘ انکے ذمیہ کام چیک کرنا ‘ امتحانات کے پرچے بنانا ‘ اور پھر سینکڑوں کی تعداد میں نتائج کی تیاری ‘ اداروں میں بڑے افسران سے باتیں سننا پھر گھر پہنچ کر گھر داری کرنا ‘ بچوں کو ٹیوشن پڑھانا کس قدر مشقت طلب کام ہیں جو ایک استاد ہی سمجھ سکتا ہے ۔ بچوں کے ذہنوں میں استاد کے لیے عزت و احترم اجاگر کرنے میں والدین مرکزی کردار ادا کرتے ہیں انکو چاہیے کہ بچوں کو یہ احساس دلائیں کہ اساتذہ کا احترام ہر حال میں لازم ہے
استاد وہ معلم ہے جو اپنی قوم کے نونہالوں کو چھاؤں بن کر صحیح معنوں میں آبیاری کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے ۔
ہماری تاریخ میں پیشتر واقعات موجود ہیں جو ہمیں استاد کی تعظیم و تکریم کا سبق دیتے ہیں جس میں خلیفہ ہارون الرشید کے بیٹوں کا ذکر ہے کہ کس طرح وہ اپنے استاد کے جوتے اٹھانے کے لیے ایک دوسرے سے لڑ پڑے تھے ۔ اسی طرح شمس العلماء میر حسن ‘ علامہ اقبال کے استاد تھے وہ اپنے استاد کا بے حد احترام کرتے تھے ۔ فاتح عالم سکندر نے اپنے استاد ارسطو کا مقام و مرتبہ بہت خوبصورت الفاظ میں بیان کیا ہے کہ
” ارسطو رہے گا تو ہزاروں سکندر تیار ہو سکتے ہیں لیکن سکندر ایک بھی ارسطو تیار نہیں کر سکتا ۔
مولانا رومی نے اپنے روحانی استاد شمس تبریز کے بارے میں بیان کیا ہے کہ
“مجھے آج بھی چینی کے گوداموں کے قریب کی وہ جگہ اچھی طرح یاد ہے جہاں میری اپنے روحانی استاد شمس تبریز سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ اب جب کبھی اکتوبر کے اُن دنوں میں شمس سے دائمی جدائی کا غم شدت اختیار کر جاتا ہے تو میں چلّے میں بیٹھ کر شمس کے سکھائے محبت کے اُنہی چالیس (40) اصولوں پر غور و غوض شروع کردیتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ میرا شمس اِس دنیا سے رخصت ہوا تو کہیں دنیا کے کسی اور کونے میں کسی دوسرے نام سے ایک نئے تبریز نے جنم لیا ہوگا، کیونکہ شخصیت تبدیل ہوتی رہتی ہے لیکن روح وہی رہتی ہے۔”
درس و تدریس بہت مقدس پیشہ ہے کیونکہ یہ پیشہ تمام انبیاء کرام کا نائب و وارث ہے ۔ استاد وہ ہستی ہے جو بچے کو تعظیم ‘ تعلیم ‘ آداب معاشرت اور انسانیت کا درس دیتا ہے استاد ہمارے قلوب کو اسلامی تعلیمات سے منور کرتے ہیں ۔ استاد ہمیں والدین کی قدر کرنا سکھاتے ہیں استاد ہمیں جنت کا راستہ دکھاتے ہیں استاد دنیا اور آخرت میں کامیابی کے اصول سیکھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔
آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ میری زندگی میں تعلیمی مراحل طے کرتے ہوئے بہت سے اساتذہ کرام سے واسطہ پڑا ہے ۔ آج استاد کے مقام و مرتبے پر قلم گردانی کرنے کے دوران کئی بار انکے چہرے میری نظروں سے گزرے ہیں اور پرانی یادیں تازہ ہوگئیں _ آج اس ٹیچر ڈے پر میں اپنے تمام اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں کہ میری زندگی کی کامیابیوں اور کامرانیوں میں ان کا ایک اہم کردار رہا ہے اور یہ تحریر ان تمام اساتذہ کے نام ہے جنہوں نے میری تعلیم و تربیت میں اپنا کردار ادا کیا اور جن کی بدولت میں نے لکھنا سیکھا ۔ میں دعا کرتی ہوں کہ میرے تمام استاد جہاں کہیں بھی موجود ہیں اللہ تعالیٰ انکو لمبی صحت والی زندگی عطا فرمائے اور جو اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے ہیں اللہ پاک انکی مغفرت فرمائے اور پروردگار ہم سب کو اساتذہ کرام کی قدر کرنے کی توفیق فرمائے آمین !








































Visit Today : 228
Visit Yesterday : 531
This Month : 5205
This Year : 68924
Total Visit : 173912
Hits Today : 2326
Total Hits : 955995
Who's Online : 7























