سچ کی قیمت اور قلم کی ذمہ داری — عالمی یومِ صحافت کا تقاضا

تحریر: سید شمشاد علی رضوی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ
ہر سال 3 مئی کو دنیا بھر میں عالمی یومِ صحافت منایا جاتا ہے، مگر یہ دن محض ایک رسمی تقاریب کا سلسلہ نہیں بلکہ ایک لمحۂ فکریہ ہے—ایک ایسا موقع جب ہم خود سے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا صحافت واقعی اپنے اصل مقصد پر قائم ہے؟ کیا قلم آج بھی سچ کی ترجمانی کر رہا ہے یا مفادات کے بوجھ تلے دب چکا ہے؟
صحافت کسی بھی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتی ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو نہ صرف عوام کو باخبر رکھتی ہے بلکہ حکمرانوں کو جوابدہ بھی بناتی ہے۔ ایک آزاد، خودمختار اور غیر جانبدار صحافت کے بغیر جمہوریت کا تصور ادھورا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، آج کے دور میں صحافت کو درپیش چیلنجز پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہو چکے ہیں۔
ڈیجیٹل میڈیا کی تیز رفتار دنیا میں جہاں خبر چند سیکنڈز میں وائرل ہو جاتی ہے، وہاں سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ فیک نیوز، پروپیگنڈا اور سنسنی خیزی نے اصل صحافت کو دھندلا دیا ہے۔ ریٹنگ اور ویوز کی دوڑ میں بعض ادارے تحقیق اور تصدیق کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں، جس سے نہ صرف صحافت کا معیار متاثر ہوتا ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں صحافت کو ایک اور سنگین مسئلہ درپیش ہے—دباؤ اور عدم تحفظ۔ صحافی نہ صرف مالی مشکلات کا شکار ہیں بلکہ انہیں مختلف سطحوں پر دھمکیوں اور پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں سچ لکھنا کسی جہاد سے کم نہیں۔ کئی صحافی اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں، صرف اس لیے کہ وہ حقائق کو دنیا کے سامنے لانا چاہتے تھے۔
عالمی یومِ صحافت ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ آزادیِ اظہار کوئی تحفہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ اس آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ جو چاہیں لکھ دیں، بلکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم سچ، دیانت اور تحقیق کے اصولوں پر قائم رہیں۔ صحافت کا اصل مقصد عوامی مفاد کا تحفظ ہے، نہ کہ ذاتی یا ادارہ جاتی مفادات کی تکمیل۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ صحافت اب صرف اخبارات اور ٹی وی چینلز تک محدود نہیں رہی۔ سوشل میڈیا نے ہر فرد کو ایک “شہری صحافی” بنا دیا ہے۔ مگر اس طاقت کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے۔ بغیر تصدیق کے معلومات شیئر کرنا، کسی کی عزت کو نقصان پہنچانا یا جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنا معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔
اس دن ہمیں ان صحافیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے جو مشکل حالات میں بھی اپنے فرض کو نبھا رہے ہیں۔ وہ لوگ جو دھمکیوں، مالی مسائل اور سماجی دباؤ کے باوجود سچ کا ساتھ نہیں چھوڑتے، وہی دراصل اس پیشے کے اصل ہیرو ہیں۔
حکومت اور اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کریں، ان کی آزادی کو یقینی بنائیں اور ایسے قوانین بنائیں جو صحافت کو مضبوط کریں نہ کہ کمزور۔ ایک صحت مند معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں سوال پوچھنے کی اجازت ہو، اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے اور سچ کو دبانے کی کوشش نہ کی جائے۔
تعلیم کے میدان میں بھی صحافت کے اصولوں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ نئی نسل کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ خبر کیا ہوتی ہے، اس کی تصدیق کیسے کی جاتی ہے اور سچ اور جھوٹ میں فرق کیسے کیا جاتا ہے۔ اگر ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کو یہ شعور نہ دیا تو مستقبل میں صحافت محض ایک کاروبار بن کر رہ جائے گی۔
آخر میں، عالمی یومِ صحافت ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ قلم کی طاقت کو پہچانیں۔ یہ طاقت نہ صرف معاشروں کو بدل سکتی ہے بلکہ تاریخ کا رخ بھی موڑ سکتی ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ یہ قلم سچ، دیانت اور جرات کے ساتھ استعمال ہو۔
آئیے عہد کریں کہ ہم نہ صرف ایک ذمہ دار قاری بنیں گے بلکہ جہاں ممکن ہو، سچ کے فروغ میں اپنا کردار بھی ادا کریں گے۔ کیونکہ ایک باشعور معاشرہ ہی مضبوط قوم کی بنیاد ہوتا ہے—اور اس بنیاد کو مضبوط بنانے میں صحافت کا کردار ہمیشہ کلیدی رہے گا۔