سستا یا نقصان دہ؟ ایرانی تیل، عوامی مجبوری اور حکومتی خاموشی
سستا یا نقصان دہ؟ ایرانی تیل، عوامی مجبوری اور حکومتی خاموشی
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے جہاں عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے، وہیں ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے شہریوں کو متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ انہی متبادل ذرائع میں ایک بڑا نام “ایرانی تیل” کا ہے، جو سرحدی علاقوں سے لے کر بڑے شہروں تک نہ صرف باآسانی دستیاب ہے بلکہ نسبتاً سستا ہونے کی وجہ سے عوام میں تیزی سے مقبول بھی ہو رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ سستا تیل واقعی فائدہ مند ہے یا ایک خاموش خطرہ بن کر ہماری گاڑیوں اور معیشت دونوں کو نقصان پہنچا رہا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ ایران سے آنے والا تیل زیادہ تر غیر قانونی طریقوں سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ اس کی نہ تو کوئی باقاعدہ کوالٹی چیکنگ ہوتی ہے اور نہ ہی حکومتی سطح پر اس کی مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تیل میں ملاوٹ، کم معیار اور غیر معیاری کیمیکلز کی موجودگی عام بات ہے۔ بظاہر سستا نظر آنے والا یہ ایندھن گاڑیوں کے انجن، فیول پمپ، اور دیگر اہم پرزہ جات کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے، جس کا خمیازہ شہریوں کو مہنگی مرمت کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔
دوسری طرف، شہریوں کی مجبوری بھی اپنی جگہ درست ہے۔ جب سرکاری سطح پر دستیاب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہوں، تو ایک عام تنخواہ دار یا متوسط طبقے کا فرد کس طرح روزانہ کی بنیاد پر اپنی گاڑی چلانے کے اخراجات برداشت کرے؟ یہی وہ خلا ہے جسے ایرانی تیل نے پُر کیا ہے۔ سستا ہونے کی وجہ سے یہ تیل رکشہ ڈرائیورز، موٹر سائیکل سواروں اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے ایک “ریلیف” کے طور پر سامنے آیا ہے، چاہے اس کے نقصانات بعد میں کیوں نہ سامنے آئیں۔
اصل مسئلہ یہاں حکومتی پالیسیوں اور عملدرآمد کی کمزوری کا ہے۔ اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو اسے اس غیر قانونی کاروبار کو صرف روکنے کے بجائے اس کا ایک قانونی اور منظم حل نکالنا ہوگا۔ دنیا کے کئی ممالک میں سرحدی تجارت کو ریگولیٹ کر کے نہ صرف معیشت کو فائدہ پہنچایا گیا بلکہ عوام کو بھی سستی اشیاء فراہم کی گئیں۔ پاکستان بھی ایران کے ساتھ باضابطہ معاہدے کے تحت تیل کی درآمد کو قانونی شکل دے سکتا ہے۔
اگر ایرانی تیل کو قانونی طور پر درآمد کیا جائے، اس کی کوالٹی چیکنگ کی جائے، اور مناسب ٹیکس کے ساتھ مارکیٹ میں لایا جائے تو اس کے کئی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ اول، عوام کو سستا اور بہتر معیار کا ایندھن میسر آئے گا۔ دوم، حکومت کو ٹیکس کی مد میں آمدن حاصل ہوگی۔ سوم، اسمگلنگ جیسے غیر قانونی دھندے کی حوصلہ شکنی ہوگی، جو نہ صرف معیشت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان بناتا ہے۔
مزید برآں، اس وقت جو صورتحال ہے اس میں ایک عجیب تضاد نظر آتا ہے۔ ایک طرف سرکاری سطح پر مہنگا پٹرول فروخت ہو رہا ہے، جبکہ دوسری طرف کھلے عام سڑکوں کے کنارے ایرانی تیل فروخت کیا جا رہا ہے۔ یہ دوہرا نظام نہ صرف مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کر رہا ہے بلکہ قانونی کاروبار کرنے والوں کے لیے بھی مشکلات کھڑی کر رہا ہے۔ پٹرول پمپس کے مالکان کا مؤقف ہے کہ غیر قانونی تیل کی فروخت سے ان کے کاروبار کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ حکومت اس صورتحال پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
شہریوں کے لیے بھی یہ ایک اہم سوال ہے کہ وہ کیا کریں؟ کیا وہ مہنگا مگر معیاری سرکاری تیل استعمال کریں یا سستا مگر ممکنہ طور پر نقصان دہ ایرانی تیل؟ اس سوال کا جواب آسان نہیں، کیونکہ ہر فرد اپنی مالی حیثیت اور ضروریات کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل المدتی نقصان سے بچنے کے لیے معیاری ایندھن کا استعمال ہی بہتر ہے، چاہے وہ وقتی طور پر مہنگا کیوں نہ ہو۔
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے تو نہ صرف عوام کو ریلیف دیا جا سکتا ہے بلکہ ایک بڑی معاشی اصلاح بھی کی جا سکتی ہے۔ ایران کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون پہلے بھی زیر بحث رہا ہے، مگر بین الاقوامی پابندیوں اور سیاسی مسائل کی وجہ سے اس پر پیش رفت نہ ہو سکی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک عملی اور عوام دوست پالیسی ترتیب دی جائے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایرانی تیل کا مسئلہ صرف سستے ایندھن کا نہیں بلکہ ایک بڑے نظامی خلاء کی نشاندہی کرتا ہے۔ جب تک حکومت اس خلا کو پُر نہیں کرے گی، عوام اپنی ضرورت کے تحت ایسے متبادل ذرائع کا انتخاب کرتے رہیں گے، چاہے وہ قانونی ہوں یا غیر قانونی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوامی مشکلات کو سمجھتے ہوئے ایسے فیصلے کیے جائیں جو نہ صرف فوری ریلیف دیں بلکہ طویل المدتی استحکام کا بھی باعث بنیں۔







































Visit Today : 351
Visit Yesterday : 536
This Month : 887
This Year : 64606
Total Visit : 169594
Hits Today : 3368
Total Hits : 879080
Who's Online : 2



















