بیورو کریسی میں اصلاحات کی فوری ضرورت
بیورو کریسی میں اصلاحات کی فوری ضرورت
تحریر: مقبول تبسم 03006324113
برصغیر میں بیوروکریسی کی بنیاد برطانوی راج کے دور میں رکھی گئی۔ یہ نظام بظاہر نظم و نسق قائم رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا، مگر اس کا اصل مقصد عوام پر کنٹرول کو مضبوط بنانا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ ڈھانچہ بدل تو گیا، مگر اس کی روح بڑی حد تک وہی رہی۔ آج جب پاکستان میں اس نظام کو دیکھا جاتا ہے تو یہ سوال شدت سے سامنے آتا ہے کہ آیا یہ واقعی عوامی خدمت کے لیے ہے یا پھر اختیار اور کنٹرول کا ایک ایسا ذریعہ بن چکا ہے جو عام آدمی کو دبائے رکھتا ہے۔
دنیا بھر میں بیوروکریسی کو “پبلک سرونٹ” کہا جاتا ہے، یعنی عوام کا خادم، لیکن پاکستان میں یہی نظام “افسر شاہی” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح خود اس ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے جس میں خدمت کے بجائے اختیار، پروٹوکول اور برتری کو ترجیح دی جاتی ہے۔ عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہیں اور مراعات لینے کے باوجود، ایک عام شہری کو اپنے جائز کام کے لیے دفاتر کے بے شمار چکر لگانے پڑتے ہیں۔ فائلیں ایک میز سے دوسری میز تک گھومتی رہتی ہیں اور مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔
اگرچہ اس نظام میں مخلص اور دیانتدار افسران کی کمی نہیں، مگر مجموعی طور پر ایک ایسا کلچر پروان چڑھ چکا ہے جہاں کام کو سادہ بنانے کے بجائے پیچیدہ بنایا جاتا ہے۔ بعض افسران کے لیے عوامی مسائل کا حل اولین ترجیح نہیں رہتا بلکہ اختیار کا اظہار زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ اسی سوچ کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ چھٹی کے دنوں میں بھی میٹنگز کا انعقاد کیا جاتا ہے—اکثر کسی ہنگامی ضرورت کے بغیر، صرف اس لیے کہ اختیار کا احساس برقرار رکھا جائے۔ سوال یہ ہے کہ اگر چھٹی کے دن بھی اجلاس ضروری ہیں تو پھر ہفتے کے باقی دنوں میں مؤثر حکمرانی کیوں نظر نہیں آتی؟
بیوروکریسی میں شامل ہونے والے ایک عام گریجویٹ یا ماسٹر ڈگری رکھنے والے فرد کی زندگی چند سالوں میں یکسر بدل جاتی ہے۔ بڑی گاڑیاں، پروٹوکول، بااختیار عہدے اور ماتحت عملے کی موجودگی اس کی سوچ اور رویے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے یہ تبدیلی اکثر خدمت کے جذبے کو تقویت دینے کے بجائے برتری اور اختیار کے احساس میں تبدیل ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں بعض افسران کے رویے میں سختی اور عدم برداشت پیدا ہو جاتی ہے۔
نظام کے اندر ایک اور اہم مسئلہ “پریشر کلچر” ہے۔ اوپر سے آنے والا دباؤ نیچے منتقل کیا جاتا ہے، اور یوں ایک ایسا ماحول جنم لیتا ہے جہاں اصل کام کے بجائے ماتحت عملے پر ذہنی دباؤ ڈالنا معمول بن جاتا ہے۔ خاص طور پر پنجاب جیسے صوبے میں بظاہر نظم و ضبط تو نظر آتا ہے، مگر نچلی سطح پر مسلسل ذہنی دباؤ ایک مستقل ایمرجنسی جیسی کیفیت پیدا کر دیتا ہے، حالانکہ اکثر معاملات محض کاغذی کارروائی تک محدود ہوتے ہیں۔
ہمارے ہاں یہ تصور عام ہے کہ زیادہ دباؤ کا مطلب زیادہ کارکردگی ہے، جبکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں متوازن اوقات کار اور آرام کو بہتر کارکردگی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے، جہاں ملازمین کو ذہنی سکون دینا اہمیت نہیں رکھتا۔ اس کے نتائج نہایت سنگین ہیں—افسران ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، اور بعض افسوسناک واقعات اس نظام کی اندرونی خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
بیوروکریسی کے اندر دو متضاد دنیائیں موجود ہیں۔ ایک وہ طبقہ ہے جو نظام کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مراعات اور پروٹوکول کو ترجیح دیتا ہے، جبکہ دوسرا وہ ہے جو واقعی دن رات محنت کر کے عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی مخلص افسران دراصل پورے نظام کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مگر اس کی قیمت وہ اپنی ذاتی زندگی اور سکون کی قربانی دے کر ادا کرتے ہیں۔
ایک اور سنگین مسئلہ غیر پیشہ ورانہ تعیناتیاں ہیں۔ تکنیکی شعبوں جیسے پبلک ہیلتھ اور انجینئرنگ میں بھی ایسے افسران تعینات کر دیے جاتے ہیں جن کا اس شعبے سے براہ راست تعلق نہیں ہوتا، جس سے کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ محکموں کی غیر ضروری تعداد بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جہاں نئے محکمے قائم کرنے کا مقصد اکثر انتظامی ضرورت کے بجائے افسران کو ترقی کے مواقع فراہم کرنا ہوتا ہے۔
حالیہ دنوں میں حکومت پنجاب کی جانب سے مختلف محکموں میں تقریباً 30 ہزار اسامیوں کے خاتمے کا اعلان کیا گیا، جسے بظاہر اخراجات کم کرنے کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے کہ کیا ان اسامیوں کے ساتھ ساتھ گریڈ 17 سے 22 تک کے افسران کی تعداد میں بھی کوئی کمی کی گئی؟ کیا اعلیٰ سطح کی بیوروکریسی کی اسامیاں بھی ختم کی گئیں یا پھر یہ بوجھ صرف نچلے درجے کے ملازمین پر منتقل کر دیا گیا؟ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اخراجات اور اختیارات کا بڑا حصہ انہی اعلیٰ عہدوں سے جڑا ہوا ہے۔ اگر اصلاحات کا عمل یکطرفہ ہوگا تو اس کے نتائج بھی محدود ہی رہیں گے۔
اصلاحات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ یہ بھی ہے کہ پالیسی سازی میں خود بیوروکریسی کا کردار غالب ہوتا ہے، جس کے باعث سخت اور مؤثر اصلاحات سامنے نہیں آتیں۔ جب تک محکموں کی تعداد میں کمی، بیوروکریسی کے حجم میں توازن اور مراعات میں معقول حد تک کمی نہیں کی جائے گی، حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔
ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ ملک میں اصل طاقت بیوروکریسی کے پاس ہے، جبکہ سیاست دان اکثر اسی نظام کے اندر محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔ نتیجتاً عوامی مسائل جوں کے توں رہتے ہیں اور جوابدہی کا نظام مؤثر نہیں بن پاتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ گریڈ 17 سے 22 تک کے افسران کے لیے سالانہ نفسیاتی، جسمانی اور طبی معائنے لازمی قرار دیے جائیں۔ ان کی کارکردگی کا جائزہ صرف فائلوں کی تکمیل پر نہیں بلکہ عوامی مسائل کے حل، ماتحت عملے کے ساتھ رویے اور عملی نتائج کی بنیاد پر لیا جائے۔ جو افسران ان معیارات پر پورا نہ اتریں، انہیں نظام سے الگ کیا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور آن لائن بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ شفافیت بڑھے، کرپشن میں کمی آئے اور عوام کو دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ اختیارات کا ارتکاز کم کیے بغیر بہتری ممکن نہیں۔
آخر میں سوال وہی ہے: کتنے منصوبے وقت سے پہلے اور کم لاگت میں مکمل ہوئے؟ کتنے شہریوں کو دفاتر کے چکر لگانے سے نجات ملی؟ کتنے افراد بغیر سفارش کے اپنا کام کروا سکے؟ اور کتنے لوگ بلا خوف کسی افسر کے دفتر میں داخل ہو سکے؟
اگر ان سوالات کے جواب تسلی بخش نہیں، تو پھر وقت آ چکا ہے کہ بیوروکریسی کو طاقت کے مرکز کے بجائے حقیقی معنوں میں عوامی خدمت کا نظام بنایا جائے—ورنہ “افسر شاہی” کا یہ ڈھانچہ عوام کے لیے سہولت نہیں بلکہ ایک مستقل بوجھ ہی بنا رہے گا۔






































Visit Today : 347
Visit Yesterday : 536
This Month : 883
This Year : 64602
Total Visit : 169590
Hits Today : 3337
Total Hits : 879049
Who's Online : 4




















