ہدیہ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام تھیلیسیمیا آگہی واک کا انعقاد ،، تھیلیسیمیا سے بچاؤ کیلئے آگاہی مہمات ناگزیر ہیں: کمشنر ملتان
ملتان : ہدیہ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام عالمی یومِ تھیلیسیمیا کے
موقع پر گھنٹہ گھر چوک میں آگہی واک کا انعقاد کیا گیا جبکہ خون کی اس موذی بیماری سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے تاریخی گھنٹہ گھر کی عمارت کو علامتی طور پر سرخ روشنیوں سے منور کیا گیا۔ واک میں تھیلیسیمیا فائٹرز، سماجی شخصیات، تاجروں، صنعتکاروں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر تھیلیسیمیا سے بچاؤ، بروقت تشخیص اور مریض بچوں کی معاونت کے حوالے سے نعرے درج تھے۔ اس موقع پر کمشنر ملتان عامر کریم خان نے واک میں شریک تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور ان سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ تقریب میں صدر ہدیہ فاؤنڈیشن شیخ عمیر سعید، سابق صدر ملتان چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری شیخ فیصل سعید، سابق صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ملتان میاں فضل الٰہی شیخ، معروف صنعتکار شیخ محمد نعیم، سماجی رہنماؤں شیخ حسن سعید، شاہدہ شہگی پیرزادہ، ڈاکٹر غضنفر ملک، عبدالمحسن شاہین، نبیل احمد، وسیم اسلم بٹ، حماد رانا، محمد عاصم سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔کمشنر ملتان عامر کریم خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تھیلیسیمیا ایک سنجیدہ طبی مسئلہ ہے جس کے خاتمے اور متاثرہ بچوں کی بہتر نگہداشت کے لیے حکومتی اداروں اور نجی شعبے کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عوام الناس کو چاہیے کہ وہ تھیلیسیمیا سے متعلق آگاہی مہمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ مریض بچوں کو بہتر علاج، ادویات اور خون کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کے باہمی تعاون سے مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت کو ایک تجویز ارسال کی گئی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں سماعت و گویائی سے محروم بچوں کی پیدائش کے ابتدائی چھ ماہ کے اندر اسکریننگ کی جائے تاکہ بروقت تشخیص کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ 3030 بچوں کی اسکریننگ کے دوران 311 بچے متاثرہ پائے گئے، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بروقت تشخیص نہایت ضروری ہے۔صدر ہدیہ فاؤنڈیشن شیخ عمیر سعید نے کہا کہ ہدیہ فاؤنڈیشن تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کی ہر ممکن معاونت جاری رکھے ہوئے ہے اور سینکڑوں بچے بہتر علاج اور نگہداشت کے باعث معمول کی زندگی کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تھیلیسیمیا کے تدارک کے لیے شادی سے قبل طبی ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا جائے اور کزن میرج کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ بچوں کی رجسٹریشن، معیاری علاج، ادویات اور خون کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو اس بیماری سے محفوظ بنایا جا سکے۔








































Visit Today : 238
Visit Yesterday : 531
This Month : 5215
This Year : 68934
Total Visit : 173922
Hits Today : 2462
Total Hits : 956131
Who's Online : 9























