“تشخیص سے تحفظ تک۔۔۔بریسٹ کینسر کا سفر”

تحریر: ڈاکٹر قرۃ العین ہاشمی
ماہر امراض کینسر۔مینار کینسر ہسپتال ملتان
دنیا بھر میں بریسٹ کینسر یعنی چھاتی کا کینسر خواتین میں پائے جانے والا عام کینسر ہے۔ اکتوبر کا مہینہ چھاتی کے کینسر کی آگاہی کا مہینہ ہے۔ اس کا باقاعدہ آغاز 1985 ؁میں امریکن کینسر سوسائٹی کی جانب سے کیا گیا۔
WHO یعنی عالمی ادارہ صحت نے اس سال چھاتی کے کینسر کے لیے جو تھیم دیا ہے وہ ہے “Every story is unique, Every journery matters یعنی ” ہر کہانی خاص ہے، ہر سفر اہمیت رکھتا ہے۔” اس کا مطلب یہ ہے کہ چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہر مریض کی کہانی مختلف ہوتی ہے، ہر مریض کے حالات، احساسات، مصائب، علاج اور اس کے نتائج مختلف ہوتے ہیں۔
اس لیے جلد تشخیص اور معیاری علاج چھاتی کے کینسر کے ہر مریض کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ یہ کینسر صرف ایک خاتون کو متاثر نہیں کرتا بلکہ ایک مکمل خاندان اس کینسر کے مضر اثرات کے زیر اثر آجاتا ہے۔
2022 ؁کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں تقریبا 23 لاکھ خواتین میں اس مرض کی تشخیص ہوئی اور تقریبا چھ لاکھ کے قریب خواتین اس مہلک کینسر کی وجہ سے موت کا شکار ہوئی۔
پاکستان میں کینسر کے مریضوں کی رجسٹری کام جاری ہے اور اس ضمن میں پہلی رپورٹ ایک بین الاقوامی جریدے میں شاید ہوئی ہے جس کے مطابق سن 2019 ؁سے پاکستان میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق 56 فیصد خواتین اور 44 فیصد مردوں میں کینسر کی تشخیص ہوئی ہے اور چھاتی کا کینسر پہلے نمبر پر رہا ہے اور 20 سال سے 39 سال کی خواتین میں چھاتی کے کینسر سب سے زیادہ دیکھا گیا ہے۔
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن یعنی ادارہ جوہری توانائی پاکستان میں 1956؁ سے لے کر آج تک نہ صرف جوہری توانائی کے حوالے سے بلکہ انسانی صحت کے حوالے سے اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ PAECکے زیر نگرانی 19 کینسر میڈیکل سینٹرز پورے پاکستان میں بالخصوص کینسر کے مریضوں کی تحقیق اور علاج کے لیے کوشاں ہیں یہ کینسر ہسپتال اسلام آباد، کراچی، لاہور، گجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، لاڑکانہ، جام شورو، کوئٹہ، ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور بنوں، ایبٹ آباد، سوات، آزاد کشمیر اور گلگت میں قائم ہیں اور پاکستان میں تقریبا 80 فیصد سے زائد مریضوں میں کینسر کی تشخیص اور علاج میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
چھاتی کے کینسر کی علامات میں گلٹی/ رسولی کا موجود ہونا، جس میں درد نہ ہو، جلد کا ناہموار ہونا / دھنس جانا، چھاتی کے نپل کا دھنسنا / نپل میں سے مواد خارج ہونا خاص طور پر خون، جلد کی رنگت کا سرخ ہونا / بغل میں یا گردن میں گلٹی کا موجود ہونا، شامل ہے۔ ان میں سے کسی بھی علامات کو محسوس کرنے کے بعد کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ تفصیلی معائنہ کروائیں اور تشخیص کروائیں۔ چھاتی کے سرطان کی کئی وجوہات ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ چھاتی کے کینسر میں اضافہ ہوتا ہے۔ مانع حمل ادویات کا بے جا استعمال، کسی بھی ہارمونلپاگ
دوائیوں کا ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر مستقل استعمال، ماہواری کے نظام کا 12 سال کی عمر سے بھی جلد شروع ہونا یا 55 سال کی عمر سے زائد ماہواری کا جاری رہنا، 30 سال کی عمر سے پہلے کسی اور بیماری کی وجہ سے چھاتی پر شاعوں کے ذریعے علاج، چھاتی کا موروثی کینسر، ماں کا اپنے بچوں کو دودھ نہ پلانا، موٹاپا، تمباکو نوشی / شراب نوشی وغیرہ بھی چھاتی کے کینسر کا موجب بن سکتی ہیں۔
2024 ؁کے اعداد و شمار کے مطابق تقریبا 3500 کے قریب کینسر کے مریض مینار ہسپتال میں رجسٹرڈ ہوئے جن میں 60 فیصد خواتین اور 40 فیصد مرد حضرات شامل تھے مجموعی طور پر 40 سے 45 فیصد خواتین میں چھاتی کے کینسر کی تشخیص اور علاج شروع کیا گیا۔
کسی بھی کینسر کی طرح چھاتی کے کینسر میں بھی کینسر کی اسٹیج یعنی مرحلہ کے مطابق علاج کیا جاتا ہے اور علاج کے خاطرخواہ نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ stage 1اور stage 2 یعنی ابتدائی مراحل میں چھاتی کے کینسر کے علاج سے تقریبا 98 فیصد تک کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ stage 3 یا تیسرے مرحلے میں تقریبا 80 فیصد تک مریض صحت یاب ہو سکتے ہیں اوstage 4 یعنی آخری مرحلے میں جب بیماری جسم کے باقی حصوں کو متاثر کرتی ہے اس میں اس میں تقریبا 20سے30 فیصد مریضوں میں مرض کنٹرول ہو سکتا ہے۔
عام طور پر چھاتی کے کینسر کے علاج کے دوران اور علاج کے بعد تقریبا دو سال سے تین سال تک کے لیے خواتین کو حاملہ نہ ہونے کی ہدایت دی جاتی ہے ایسی خواتین انسداد حمل کی روک تھام کے لیے ما نع حمل ادویات کا استعمال نہ کریں بلکہ اس کے علاوہ دوسرے طریقے جیسا کہ کونڈم یا کیپ وغیرہ استعمال کریں اور اس ضمن میں مزید مشورے کے لیے گائنا کولوجسٹ سے ر ابطہ کریں۔
چھاتی کے سرطان میں آگاہی کے حوالے سے Screening programکی بڑے پیمانے پر ضرورت ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ بیماری آنے سے پہلے بچاؤ کے لیے اقدامات کرنا۔40سے 44 سال کی عمر خواتین کو اس حوالے سے مشورہ دینا ضروری ہے کہ وہ اپنی چھاتی کے حوالے سے باخبر رہیں اور میموگرافی شروع کروائیں۔ 45 سال کی عمر سے 54 سال کی عمرکی خواتین کو سال میں ایک بار میموگرافی ضرور کروانی چاہیے۔ 55سال یا اس سے زائد عمر کی خواتین کو ہردوسرے سال یہ ٹیسٹ کروانا چاہیے۔ Self breast examinationیعنی اپنی چھاتی کا خود معائنہ کرنا۔ اس طریقہ کار کو متعلقہ ڈاکٹر سے اچھی طرح سمجھ لیں اور وقتاً فوقتاًاپنا معائنہ کرتی رہیں کسی بھی تبدیلی کی صورت میں متعلقہ ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ مینا ر کینسر ہسپتال میں چھاتی کے سرطان کی تشخیص اور علاج کی تمام سہولیات موجود ہیں۔تشخیصی ٹیسٹوں میں معائنہ،FNACیعنی گلٹی میں سرنج کی سوئی ڈال کر گلٹی کے چند خلیے لے کرکینسر کی تشخیص، Biopsy یعنی چھاتی کی گلٹی کا نمونہ لینا،میمو گرافی اور چھاتی کا الٹرا ساؤنڈشامل ہیں۔ جس میں مستعد سٹاف اور لیڈی ڈاکٹر چھاتی کے کینسر کے حوالے سے اپنا کردار ادا کررہے ہیں چھاتی کے سرطان کے طریقہ علاج میں آپریشن، کیمو تھراپی، ریڈیو تھراپی (شعاعوں کے ذریعے)شامل ہیں اس کے علاوہ Biological treatment یا Targeted therapy بھی شامل ہیں یعنی ایسی دوائیاں جن کے سائیڈ ایفیکٹ بھی کم سے کم ہو تے ہیں اور یہ دوائیاں ٹیکوں گولیوں اور کیپسولوں کی شکل میں چھاتی کے کینسر کے علاج میں اپنا مو ئثرکردار ادا کرتی ہیں۔ریڈیو تھراپی یعنی شعاعوں سے علاج کے لئے جدید ترین مشینLINAC مشین بھی شامل ہے۔ چھاتی کے کینسر کے علاج کو مکمل کرنے کے بعدڈاکٹرکی ہدایت کے مطابق اگلے 5سال مریض چیک کے لئے تشریف لا تے رہتے ہیں کینسر کے علاج کے بعد 5سال نہایت اہم ہوتے ہیں کیونکہ اسی دوران کینسر کے دوبارہ ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔چھاتی کے کینسر کو شکست دی جاسکتی ہے لیکن اُس کے لئے بروقت تشخیص اور بروقت علاج ضروری ہے۔خواتین زیادہ سے زیادہ Screening program میں شامل ہوں تاکہ اس مرض کو قابو کیا جاسکے۔